03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسلامی بینکاری کے مختلف معاہدات میں شرعی حیلہ، تجارتی خطرہ، خیارِ رؤیت اور تاخیر کی مالی سزا کا حکم
92377خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

سوال نمبر 1: وعدۂ خرید (Promise to Purchase) اور تجارتی خطرہ:اگر بینک نے خریدار کے وعدۂ خرید پر اعتماد کرتے ہوئے کوئی چیز خریدی، اور خریدار کے وعدے سے انکار کی صورت میں ہونے والے نقصان کی ذمہ داری بھی خریدار ہی پر ڈال دی، تو پھر بینک کا اپنا تجارتی خطرہ کہاں باقی رہا؟ کیا یہ حقیقی تجارت ہے یا صرف سودی قرض کو تجارت کی شکل دینے کا ایک طریقہ ہے؟

سوال نمبر 2: عقودِ وکالت اور خیارِ رؤیت:جب خریدار پہلے ہی پوری خریداری کے معاملے میں شامل تھا اور اس نے بینک کو چیز خریدنے کی اجازت بھی دی تھی، تو بعد میں جب بینک اسی چیز کو خریدار کے ہاتھ فروخت کرے گا، کیا خریدار کو دوبارہ خیارِ رؤیت حاصل ہوگا؟ اس کی شرعی دلیل کیا ہے؟

سوال نمبر 3: قرض کی تاخیر اور چیریٹی:اگر کوئی شخص مقررہ وقت پر قرض واپس نہ کرے تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے موقف کے مطابق اس پر مالی جرمانہ عائد کرنا درست نہیں۔ لیکن اسلامی بینکاری میں بعض اوقات یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ اگر گاہک ادائیگی میں تاخیر کرے تو وہ ایک مخصوص رقم چیریٹی میں دے گا۔

اگر یہ رقم لازماً ادا کرنا پڑتی ہے، تو اگرچہ بینک اسے اپنی آمدنی نہیں بناتا بلکہ چیریٹی میں دے دیتا ہے، کیا عملاً یہ مالی سزا ہی شمار نہیں ہوگی؟ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

سوال نمبر 4: نذر کو سزا کے طور پر استعمال کرنا:نذر عام طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تقرب کی نیت سے کی جاتی ہے۔ لیکن اگر بینک کہتا ہے کہ گاہک تاخیر کی صورت میں چیریٹی کرے گا یا کوئی مالی ادائیگی کرے گا، اور پھر اسے نذر کی بنیاد پر لازم قرار دیا جائے، تو کیا عبادت یعنی نذر کے اس تصور کو مالی پینلٹی یا سزا کے طور پر استعمال کرنا شرعاً درست ہے؟

سوال نمبر 5: حیلہ اور اسلامی بینکاری:اگر کسی معاہدے کی پوری ساخت صرف اس لیے بنائی گئی ہو کہ سود کی ظاہری شکل سے بچا جا سکے، جبکہ عملی نتیجہ تقریباً وہی ہو جو سودی فنانسنگ کا ہوتا ہے، تو کیا ایسا حیلہ شرعاً درست ہوگا؟مثلاً ایک شخص پانچ سال تک گاڑی کا کرایہ ادا کرے اور مدت پوری ہونے پر گاڑی اسے ہبہ کر دی جائے۔ کیا یہ واقعی الگ الگ جائز معاملات ہیں، یا محض سودی فنانسنگ کو مختلف معاہدوں کے ذریعے جائز شکل دینے کی کوشش ہے؟ اس کی شرعی بنیاد کیا ہے؟نوٹ: صرف یہ نہیں پوچھا جا رہا کہ کون سا حکم درست ہے، بلکہ اس مسئلے میں مکمل فقہی تقابل مطلوب ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

:1 خریدار پر وعدہ خلافی کے نقصان کی ذمہ داری ڈالنے کے باوجود بینک کا اپنا تجارتی خطرہ (ضمان) ختم نہیں ہوتا، بلکہ ایک مخصوص اور انتہائی بنیادی مرحلے پر پورا تجارتی خطرہ بینک ہی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مثلا، جب بینک خریدار کے وعدے پر اعتماد کرتے ہوئے سپلائر سے سامان خریدتا ہے اور اس پر اپنا قبضہ (حقیقی یا معنوی) حاصل کر لیتا ہے، تو خریدار کے ساتھ حتمی عقدِ بیع (ایجاب و قبول) ہونے سے پہلے تک اس سامان کی تمام تر ملکیت اور تمام تر تجارتی خطرہ بینک پر ہوتا ہے۔ لہذا اگر خریدار کے ہاتھ فروخت کرنے سے پہلے وہ سامان کسی آفت، آگ، حادثے یا چوری کی وجہ سے ضائع یا عیب دار ہو جائے، تو اس کا تمام تر مالی نقصان بینک کا ہوگا۔ خریدار کو اس ہلاک شدہ سامان کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس سے کوئی پیسے وصول کیے جا سکتے ہیں۔جبکہ سودی قرض میں بینک رقم دیتے ہی ہر قسم کے خطرے سے بری ہو جاتا ہے ۔

البتہ اگر خریدار وعدہ توڑ دے اور بینک وہ سامان کھلی مارکیٹ میں کسی اور کو فروخت کرے، اور وہ سامان اصل لاگت سے کم قیمت پر بکے، تو وعدہ توڑنے والے خریدار سے صرف واقعی اور حقیقی خسارے کی رقم (یعنی خرید اور فروخت کے نرخوں کا فرق) بطریقِ تاوان وصول کی جا تی ہے۔ خریدار سے وہ متوقع نفع وصول کرنا شرعاً بالکل نا جائز ہے جو بینک اس کو بیچ کر کمانا چاہتا تھا۔خریدار سے یہ تاوان "المواعيد باكتساب صور التعاليق تكون لازمة"( وعدے تعلیقات کی صورت میں لازم ہوتے ہیں) کے فقہی قاعدے کے تحت خریدار کی وعدہ خلافی سے پہنچنے والے براہِ راست مالی ضرر کی تلافی کے لیے لیا جاتا ہے، نہ کہ سامان کا مالکانہ رسک خریدار پر منتقل ہونے کی وجہ سے۔

2: جب خریدار  پہلے مرحلے پر بینک کا وکیل بن کر سامان خود خریدتا ہے، اس کا معائنہ کرتا ہے اور بینک کی طرف سے اس پر قبضہ حاصل کرتا ہے، تو بعد میں جب بینک وہی سامان خریدار کے ہاتھ فروخت کرتا ہے، تو خریدار کو دوبارہ خیارِ رؤیت حاصل نہیں ہوگا۔کیونکہ خیارِ رؤیت صرف اس خریدار کے لیے ثابت ہوتا ہے جس نے خریداری کے وقت یا اس سے قبل مبیع (فروخت شدہ چیز) کو نہ دیکھا ہو۔ خیارِ رؤیت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان دیکھی چیز کی خریداری کی صورت میں خریدار کو دیکھنے کے بعد اپنی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر سودا برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا موقع مل سکے۔ اگر خریدار نے عقدِ بیع سے قبل مبیع کو اچھی طرح دیکھ لیا ہو اور عقد کے وقت تک اس میں کوئی ایسا تغیر یا تبدیلی نہ آئی ہو جس کا خریدار دعویٰ کرے، تو پہلے سے دیکھ لینے (رؤیتِ سابقہ) کی بنا پر خیارِ رؤیت ساقط ہو جاتا ہے۔ مذکورہ معاملے میں، چونکہ خریدار خود وکالت کے مرحلے میں بینک کا نمائندہ بن کر  سامان خرید چکا تھا اور اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس پر قبضہ کر چکا تھا، اس لیے حتمی بیع (بینک سے اپنے لیے خریداری) کے وقت وہ سامان خریدار کے لیے "ان دیکھا" یا غائب نہیں رہتا، بلکہ دیکھا ہوا  شمار ہوتا ہے۔

3: اسلامی بینکاری میں قرض یا مرابحہ و اجارہ کی واجب الاداء رقم میں تاخیر پر بینک کا از خود اپنے لیے زائد رقم (مالی معاوضہ/جرمانہ) وصول کرنا شرعاً بالاتفاق سود (ربا) اور حرام ہے۔

اسلامی بینکوں میں چیریٹی شرط (التزامِ تصدق) کو جس طریقہ کار کے تحت نافذ کیا جاتا ہےوہ عملاً گاہک کے لیے ایک مالی دباؤ اور تادیبی اقدام کا کام کرتی ہے۔ اس کا مقصد بینک کا نفع بڑھانا نہیں، بلکہ عمدًا تاخیر کرنے والے خوشحال نادہندگان مماطلین کو ٹال مٹول اور سستی سے روکنا ہے۔چیریٹی کی رقم اور سودی جرمانے میں بنیادی فرق یہ ہے کہ چیریٹی شرط کے تحت یہ رقم بینک کی ملکیت نہیں بنتی، بلکہ بینک صرف وکیل اور امانت دار کے طور پر اسے وصول کر کے بلا تاخیر خیراتی و فلاحی کاموں یا بلا سود قرضِ حسنہ فنڈ میں جمع کرا دیتا ہے۔ اس سے "قرض کے ذریعے نفع کمانے"کا سودی عنصر ختم ہو جاتا ہے۔

شرعی نقطۂ نظر سے یہ بینک کی طرف سے لگایا گیا جرمانہ نہیں، بلکہ گاہک کی طرف سے عقد کے وقت اپنے اوپر عائد کردہ ایک شرعی التزام و نذر (التزام التصدق) ہوتا ہے کہ اگر میں نے بغیر کسی عذر کے وقت پر ادائیگی نہ کی تو میں اتنی رقم صدقہ کروں گا۔فقہ مالکی کے متعدد فقہاء (مثلاً ابن دینار) کے نزدیک کسی مباح کام سے خود کو روکنے کے لیے نفل صدقہ کا التزام کرنا (یمین اللجاج) قضاءً بھی واجب التعمیل بنایا جا سکتا ہے۔اور  فقہ حنفی میں اگرچہ عام وعدے قضاءً لازم نہیں ہوتے، لیکن فقہاء حنفیہ کے طے شدہ اصولی قاعدے "المواعيد قد تجعل لازمة لحاجة الناس"کے تحت، جدید دور میں بینکوں اور لوگوں کے حقوق کو نادہندگان کی تلفی سے بچانے کے لیے اس التزام کو قضاءً لازم قرار دینے کی فقہی گنجائش دی گئی ہے۔

اگر گاہک کسی حقیقی مجبوری، غربت یا تنگیِ دست کی وجہ سے وقت پر رقم ادا نہ کر سکا ہو، تو اس سے چیریٹی کی رقم وصول کرنا بھی شرعاً سخت حرام اور نا جائز ہے۔

4: اسلامی بینکاری میں مرابحہ یا اجارہ کی اقساط میں تاخیر کی صورت میں گاہک سے چیریٹی وصول کرنے کے لیے نذر یا التزامِ تصدق کا سہارا لینا عبادت کا غلط استعمال یا بینک کی طرف سے مالی سزا نہیں ہے، بلکہ "التزام علی وجہ الیمین"پر مبنی ایک تادیبی بندوبست ہے۔فقہائے کرام نے خود پر کسی مالی ادائیگی یا صدقے کو لازم کرنے (التزام) کی دو قسمیں بیان کی ہیں:

التزام علی وجہ القربة (خالص عبادت): اللہ تعالیٰ کا تقرب اور ثواب حاصل کرنے کی نیت سے کسی نیک کام کا التزام کرنا (مثلاً: "اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں سو روپے صدقہ کروں گا")۔

التزام علی وجہ الیمین / یمین اللجاج (خود کو روکنے کے لیے قسم/التزام): کسی ناپسندیدہ عمل، سستی یا وعدہ خلافی سے اپنے آپ کو باز رکھنے کے لیے صدقے کو معلق کرنا (مثلاً: "اگر میں نے وقت پر ادائیگی نہ کی تو میں اتنی رقم صدقہ کروں گا")۔

شریعت میں قسم (یمین) کا بنیادی مقصد ہی انسان کو کسی برے یا ناپسندیدہ کام سے روکنا ہوتا ہے۔ جب گاہک کو معلوم ہوتا ہے کہ تاخیر کی صورت میں اس کی جیب سے رقم نکل کر خیرات میں چلی جائے گی، تو وہ بلا وجہ اور عمدًا تاخیر کرنے سے باز رہتا ہے۔ یہاں صدقہ اور خیرات بذاتِ خود عبادت ہی رہتے ہیں، لیکن گاہک ان کے ذریعے اپنے نفس پر ایک اخلاقی و شرعی دباؤ قائم کرتا ہے۔ اور چونکہ یہ رقم بینک کی ملکیت یا منافع میں شامل نہیں ہوتی بلکہ بلا تاخیر خیراتی کاموں یا بلا سود قرضِ حسنہ فنڈ میں چلی جاتی ہے، اس لیے اس میں سود یا ناجائز نفع کا عنصر بالکلیہ ختم ہو جاتا ہے۔

5:  حیلہ ناجائز (حیلۂ باطلہ) اور مخرجِ شرعی (حیلۂ جائز) میں فرق

فقہِ اسلامی میں "حیلہ" کی دو بالکل مختلف قسمیں ہیں:

حیلۂ باطلہ / محرمہ (ناجائز حیلہ): وہ فرضی کارروائی یا کاغذی چکر جس کا مقصد شریعت کے کسی قطعی حکم (مثلاً حرمتِ سود یا ربا) کو پامال کرنا ہو، جبکہ حقیقی معاشی عمل اور تجارتی رسک صفر ہو۔ مثلاً: خریدار کو رقم کی ضرورت ہو اور بینک فرضی طور پر کاغذی سودا کر کے رقم فراہم کر دے، یا بیع العینہ یعنی ایک چیز ادھار مہنگے داموں بیچ کر فوراً نقد کم قیمت پر واپس خرید لینا۔ یہ شرعاً بالاتفاق حرام اور سودی قرض کا حیلہ ہے۔

مخرجِ شرعی / حیلۂ جائز: حرام (سود) سے بچنے کے لیے شریعت کے بتائے ہوئے حقیقی تجارتی راستے اور قانونی صیغوں کو اختیار کرنا۔ اس میں مقصد تو نفع کمانا یا گاڑی و مکان کی تمویل (Financing) ہوتا ہے، لیکن اس مقصد تک پہنچنے کے لیے سودی قرض کے بجائے واقعی خرید و فروخت، اجارہ اور ملکیت و ضمان کے شرعی مراحل سے گزرا جاتا ہے۔

سوال میں مذکور مثال (5 سال تک گاڑی کا کرایہ ادا کرنا اور مدت کے اختتام پر گاڑی کا ہبہ ہونا) فقہ میں "الاجارۃ المنتہیۃ بالتملیک" کہلاتی ہے۔

یہ معاملہ حقیقی تجارت ہے یا سودی فنانسنگ، اس کا دارومدار درج ذیل دو بنیادی شرائط کی تکمیل پر ہے:

۱)عقدِ اجارہ (لیزنگ معاہدہ) اور وعدۂ ہبہ (یا وعدۂ بیع) دو بالکل الگ اور مستقل معاہدے ہوں۔ اگر عقدِ اجارہ کے اندر ہی یہ شرط لگا دی جائے کہ "مدت پوری ہونے پر گاڑی خود بخود خریدار کی ہو جائے گی"، تو یہ "صفقتان في صفقة" (ایک عقد میں دوسرا عقد مشروط کرنا) کی وجہ سے فاسد ہو جائے گا۔ لیکن اگر اجارہ کا معاہدہ مستقل ہو اور بینک کی طرف سے ہبہ کا ایک الگ اور یکطرفہ وعدہ (Unilateral Promise) ہو، تو یہ جائز ہے( بینک میں یہی ہوتا ہے)

۲)پانچ سالہ مدتِ اجارہ کے دوران گاڑی کی بنیادی ملکیت اور اس کا بنیادی نقصان (مثلاً گاڑی کا بالکلیہ ہلاک ہو جانا یا حادثے میں ضائع ہونا) بینک کے ضمان اور رسک پر رہے۔ اگر گاڑی بغیر کسی تعدی (غفلت) کے ضائع ہو جائے تو اس کا تاوان بینک برداشت کرے گا، مستأجر (کرایہ دار) سے آخری اقساط یا گاڑی کی قیمت وصول نہیں کی جا سکتی۔( بینک میں یہی ہوتا ہے) اگر یہ تمام رسک خریدار پر ڈال دیے جائیں تو یہ سودی قرض کا فرضی روپ بن جائے گا۔

نوٹ:  مزید تفصیلی  دلائل کے لیے اس موضوع پر لکھی گئی مفصل کتب  کی طرف رجوع کریں۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 26)

(المادة 84) المواعيد باكتساب صور التعاليق تكون لازمة.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 184)

وإن ذكر البيع من غير شرط ثم ذكرا الشرط على الوجه المعتاد جاز البيع ويلزمه الوفاء بالميعاد؛ لأن المواعيد قد تكون لازمة قال - عليه الصلاة والسلام - «العدة دين» فيجعل هذا الميعاد لازما لحاجة الناس إليه.

المعايير الشرعية (ص:1190):

4/3: الوعد بفعل أو تصرف مالي مباح شرعا يجب الوفاء به ديانة، بمعنى أن إخلافه بدون عذر إثم، ولكنه غيرملزم في القضاء، فإن ترتب على عدم الوفاء بالوعد ضرر على الموعود له فيلزم الواعد التعويض عن الضرر قضاء مثل: أن يقول الواعد لتاجر: اشتر هذه البضاعه لنفسك وإني أعدك بأني سوف إشتريها منك، فاشتراها التاجر اعتمادا على ذلك الوعد، فلم يف الواعد، فحينئذ يلزم قضاء مايجبر ما لحق التاجر الموعود له من ضرر فعلي، بمعنى أنه إن لم يستطع التاجر أن يبيعه في السوق بما يغطي  تكلفته، فالواعد بالشراء يتحمل الفرق بين التكلفة والثمن الذي باعه به. وليس من الضرر الفعلى الفرصة الضائعة.

(الموسوعة الفقهية الكويتية44/75 )

"القول الخامس: أن إنجاز الوعد المجرد غير واجب، أما الوعد المعلق على شرط، فإنه يكون لازما، وهو مذهب الحنفية، حيث نقل ابن نجيم عن القنية: لا يلزم الوعد إلا إذا كان معلقا وفي الفتاوى البزازية: أن المواعيد باكتساء صور التعليق تكون لازمة  . ونصت المادة (84) من مجلة الأحكام العدلية: المواعيد بصور التعاليق تكون لازمة. مثال ذلك: لو قال شخص لآخر: ادفع ديني من مالك، فوعده الرجل بذلك، ثم امتنع عن الأداء، فإنه لا يلزم الواعد بأداء الدين، أما قول رجل لآخر: بع هذا الشيء لفلان، وإن لم يعطك ثمنه فأنا أعطيه لك، فلم يعط المشتري الثمن،"

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 195)

وأجمعوا أن رؤية الوكيل بالشراء كرؤية الموكل تسقط خياره وأجمعوا أن المشتري لو أرسل رسولا فأخذ المبيع ورضي به لم يسقط خيار المرسل لأن الرسول لا تتعلق به الحقوق وقد أرسل في شيء فلا يتعداه.

مجلة الأحكام العدلية (ص: 66)

(المادة 332) من رأى شيئا بقصد الشراء ثم اشتراه بعد مدة وهو يعلم أنه الشيء الذي رآه لا خيار له إلا أنه إذا وجد ذلك الشيء قد تغير عن الحال الذي رآه فيه كان له الخيار حينئذ.

المعیار الشرعی ،رقم(۹)الإجارة والإجارة المنتهية بالتمليك

تمليك العين المؤجرة في الإجارة المنتهية بالتمليك:

۸/۱ يجب في الإجارة المنتهية بالتمليك تحديد طريقة تمليك العين للمستأجر ويتم ذلك بوثيقة مستقلة عن عقد الإجارة، ويكون بإحدى الطرق الآتية:

۸/۱/۱ وعد بالبيع بثمن رمزي، أو بثمن حقيقي، أو وعد بالبيع في أثناء مدة الإجارة بأجرة المدة الباقية، أو بسعر السوق.

۸/۱/۲ وعد بالهبة.

۸/۱/۳ عقد هبة معلق على شرط سداد الأقساط.

وفي حالات إصدار وعد بالهبة أو وعد بالبيع أو عقد هبة معلق بمستندات مستقلة لا يجوز أن يذكر أنها جزء لا يتجزأ من عقد الإجارة المنتهية بالتمليك.

   شفیع اللہ بن معروف خان

دارالافتاءجامعہ الرشید کراچی

   تاریخ:۱۸،ربیع الثانی، ١٤٤۸

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

شفیع اللّٰہ بن معروف خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب