03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اتحادِمجلس نہ ہونے پر نکاح کا حکم
92400نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

ایک شخص نے ایک مفتی صاحب سے پوچھا کہ اگر شوہر اور بیوی ایک ہی جگہ موجود ہوں، لیکن نکاح کے دو گواہ الگ الگ جگہوں پر ویڈیو کال کے ذریعے نکاح میں شریک ہوں، تو کیا حنفی فقہ کے مطابق ایسا نکاح صحیح ہے؟ مفتی صاحب نے جواب دیا کہ ہاں نکاح صحیح ہے۔اس نکاح کے وقت شوہر نے ایک گواہ سے جھوٹ بولا کہ ہمارا نکاح پہلے ہی گھر والوں نے کر دیا ہے، اب تجدیدِ نکاح کرنا ہے۔ جبکہ دوسرے گواہ کو نہ شوہر جانتا تھا اور نہ وہ شوہر یا بیوی کو جانتا تھا۔ وہ صرف آن لائن ویڈیو کے ذریعے کھیل کے میدان سے کانفرنس پر شامل ہوا تھا ۔تقریباً چھ ماہ بعد شوہر نے دارالعلوم دیوبند اور دوسرے معتبر حنفی دارالافتاؤں  کے فتاوٰی دیکھے۔ اس کے بعد مقامی حنفی مفتی صاحب سے مکمل تفصیل کے ساتھ پوچھا تو انہوں نے صاف کہا کہ یہ نکاح باطل ہے، کیونکہ اتحادِ مجلس نہیں ہے۔ پھرپہلے مفتی صاحب سے دوبارہ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے مسئلہ غلط سنا تھااور اپنے پہلے جواب سے رجوع کرتے ہوئے کہا کہ یہ نکاح سو فیصد باطل ہے۔اب سوال یہ ہے کہ حنفی فقہ کے مطابق مذکورہ صورت میں نکاح صحیح ہوگا یا باطل؟ پانچ سے زیادہ مفتیان کرام کا کہنا ہے کہ  یہ نکاح ہر حال میں باطل ہے ۔البتہ اگر دو گواہ اور شوہر یا بیوی میں سے ایک اُن کے ساتھ ایک ہی مجلس میں ہوتے اور پھر میاں یا بیوی میں سے ایک آن لائن ایجاب و قبول کرتے تو کچھ علماء کے نزدیک گنجائش نکل جاتی اور نکاح صحیح ہوتا۔ لیکن یہاں گواہوں کا آن لائن ہونا اور الگ الگ جگہوں سے ہونا بِلکُل مجلس کو الگ الگ کردیتا ہے تو یہ نکاح باطل ہی رہےگا۔ ایسے نکاح کےبعد طلاق کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔اگر میاں بیوی والا تعلق ہوا ہے تو احتیاطاً متا ر کت کافی ہے اور عورت آزاد ہےکہیں بھی نکاحکرسکتی ہے ۔

مزید یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ اگر اس پہلے نکاح کو حنفی فقہ کے مطابق باطل قرار دیا جائے، تو اس باطل نکاح کے بعد شوہر کی طرف سے دی گئی کوئی  طلاق شرعاً معتبر ہوگی یا نہیں؟ نکاح ولی  کی اِجازت کی بغیر ہوا تھا اور لڑکی غیر مقلد ہے ۔کہتی ہے چاہے یہ نکاح صحیح ہو یا غلط میں تب سے گناہ میں مبتلا تھی ۔فقہ حنفی میں  ولی  کے بغیر نکاح کو نہیں مانتے  اور لڑکی کا کہنا ہے کہ دیوبندی سے نکاح کرنا صحیح نہیں ہے اور لڑکا اہل حدیث ہی ہو۔ ایسی صورت میں لڑکے کو سب یہی مشورہ دیتے ہیں کہ  ایسی لڑکی سے ایمان اور عزت دونوں کو خطرہ ہے۔ اب جو نکاح آن لائن ہوا تھا ،وہ صحیح  ہےیانہیں؟

سوال کا خلاصہ :ایک شخص کا ایک عورت سے آن لائن نکاح ہوا، جس میں شوہر اور عورت ایک ہی جگہ موجود تھے، جبکہ نکاح کے دونوں گواہ الگ الگ مقامات پر ویڈیو کال کے ذریعے شریک تھے۔ کسی کو وکیل مقرر نہیں کیا گیا تھا۔ ابتدا میں ایک مفتی صاحب نے اس نکاح کو حنفی فقہ کے مطابق صحیح قرار دیا، لیکن بعد میں مکمل صورتِ حال معلوم ہونے پر انہوں نے اپنے پہلے فتویٰ سے رجوع کرتے ہوئے نکاح کو باطل قرار دیا۔ دیگر متعدد حنفی مفتیانِ کرام نے بھی اتحادِ مجلس نہ ہونے کی وجہ سے نکاح کو باطل قرار دیا۔اب آپ سے پوچھنا ہے کہ کیا یہ نکاح باطل ہے یا صحیح ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 نکاح منعقد ہونے کے لیے خود زوجین یا  ان کے وکیل یاکم ازکم  کسی ایک کی جانب سے وکیل اور دوگواہوں  کا ایک مجلس میں ہونا ضروری ہے ۔جبکہ صورت مسئولہ میں  صرف لڑکا اور لڑکی موجود تھے  ،گواہوں كا ویڈیوکال کے ذریعے شامل ہونے سے اتحادِمجلس ثابت نہیں ہوتا۔ لہذا یہ نکاح منعقد نہیں ہوا  اور اس کے بعد دی جانے والی طلاق کا بھی کوئی اعتبار نہیں ۔اس حالت میں دونوں کا ایک ساتھ رہنا جائز نہیں ۔ اب تک جو  ساتھ رہے ،وہ ناجائز وحرام تھا ،اس پر  میاں  اور بیوی  دونوں کو اللہ کے حضور سچی توبہ کرنی چاہیے ۔البتہ اگر آئندہ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو دو گو اہوں کی موجودگی میں نکاح کرسکتے ہیں ۔

حوالہ جات

(المحيط البرهاني  (4/145:

ألا ترى أن ‌المرأة ‌إذا ‌زوجت ‌نفسها ‌من ‌غير ‌كفء لها كان للأولياء حق الاعتراض وإن تصرفت في خالص ملكها؛ لأنها ألحقت بما تصرفت ضرراً بالأولياء فكذا ههنا بل أولى لأن الكتابة أقبل للفسخ من النكاح، فإن النكاح  لا يفسخ إلا بقصور في ولاية العاقد، والكتابة تفسخ بتراجعها من غير قصور في ولاية العاقد.

(حاشية ابن عابدين (3/96:

(ويتولى طرفي النكاح واحد) بإيجاب يقوم مقام القبول في خمس صور كأن كان وليا أو وكيلا من الجانبين أو أصيلا من جانب ووكيلا أو وليا من آخر، أو وليا من جانب وكيلا من آخر كزوجت بنتي من موكلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(قوله يقوم مقام القبول) كقوله مثلا: زوجت فلانة من نفسي، فإنه يتضمن الشطرين، فلا يحتاج إلى القبول بعده وقيل يشترط ذكر لفظ هو أصيل فيه كتزوجت فلانة بخلاف ما هو نائب فيه كزوجتها من نفسي                                                  .

(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 232:

(وأما) الذي يرجع إلى مكان العقد فهو اتحاد المجلس إذا كان العاقدان حاضرين وهو أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس لا ينعقد النكاح، بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول، أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس، لا ينعقد؛ لأن انعقاده عبارة عن ارتباط أحد الشطرين بالآخر، فكان القياس وجودهما في مكان واحد، إلا أن اعتبار ذلك يؤدي إلى سد باب العقود؛ فجعل المجلس جامعا للشطرين حكما مع تفرقهما حقيقة للضرورة، والضرورة تندفع عند اتحاد المجلس، فإذا اختلف تفرق الشطرين حقيقة وحكما فلا ينتظم الركن.

)الموسوعة الفقهية الكويتية( (41/ 294):

ثالثا: الإشهاد على النكاح:

فقال جمهور الفقهاء الحنفية والشافعية والحنابلة في المذهب: لا يصح النكاح إلا بحضرة شاهدين لخبر عائشة رضي الله تعالى عنها " لا نكاح إلا بولي وشاهدي عدل، وما كان من نكاح على غير ذلك فهو باطل "،والمعنى في اعتبارهما الاحتياط للأبضاع، ولأنه عقد يتعلق به حق غير المتعاقدين، وهو الولد، فاشترطت الشهادة فيه لئلا يجحده أبوه فيضيع نسبه، ولأن الحاجة ماسة إلى دفع تهمة الزنا عن الزوجة بعد النكاح والدخول، ولا تندفع إلا بالشهود لظهور النكاح واشتهاره بقول الشهود.غير أن الحنفية والحنابلة يرونه شرطا.

حنبل اکرم

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   21  / ربیع الاٰخر   /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب