| 92434 | نان نفقہ کے مسائل | بیوی کا نان نفقہ اور سکنہ ) رہائش (کے مسائل |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میری اور میرے شوہر کی آپس میں اچھی بنتی ہے اور ہم دونوں خوش رہتے ہیں، لیکن میری ساس کے ساتھ اکثر اختلاف اور جھگڑا ہو جاتا ہے۔ ہر کچھ عرصے بعد کسی نہ کسی بات پر جھگڑا ہونے کی وجہ سے میرا ذہنی سکون بہت متاثر ہوتا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ اگر ممکن ہو تو میرا کچن میری ساس سے الگ کر دیا جائے تاکہ گھر میں جھگڑے کم ہوں اور میں سکون سے رہ سکوں۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں: کیا شرعاً مجھے اپنے شوہر سے الگ کچن کا مطالبہ کرنے کا حق ہے؟ کیا الگ کچن کا مطالبہ کرنے کی وجہ سے میں گناہ گار ہوں گی؟ اگر ساس کے ساتھ بار بار جھگڑے کی وجہ سے میرا ذہنی سکون خراب ہوتا ہے تو ایسی صورت میں شریعت کی طرف سے میرے لیے کیا بہتر طریقہ ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی فرمائیں۔
تنقیحات:سائلہ کی طرف سے مطلوبہ سوالات کے مندرجہ ذیل جوابات موصول ہوئے ۔
1۔گھر میں کتنے افراد ہیں ۔ نندیں ، سسر ، دیور وغیرہ؟
گھر میں میری ساس اور سسر رہتے ہیں۔ میری دو نندیں ہیں، جن میں سے ایک شادی شدہ ہے جبکہ دوسری غیر معمولی (Abnormal) حالت میں ہے۔ میرے جیٹھ بھی شادی شدہ ہیں۔
2۔ساس صاحبہ کی کیا عمر ہے ؟ جوان ہے یا بوڑھی ہے ؟
میری ساس کی عمر تقریباً 58 سال ہے اور الحمدللہ وہ صحت مند ہیں۔ ان کی مالی استطاعت بھی ہے کہ وہ گھر کے کاموں کے لیے ماسی رکھ سکتی ہیں۔
3۔ان کی خدمت کیلئے کوئی اور بیٹا ہے ؟
میرے جیٹھ اسی گھر کی ایک الگ منزل پر اپنی الگ کچن کے ساتھ رہتے ہیں، جبکہ ساس کے لیے بھی گھر میں دو کمرے الگ ہیں اور میرا ایک کمرہ ہے۔اگر مالی اعتبار سے دیکھا جائے تو الگ کچن رکھنے سے مجھے کوئی خاص مالی فائدہ نہیں ہوتا، لیکن میں اپنے ذہنی سکون کے لیے الگ کچن اور گھر کے معاملات الگ رکھنا چاہتی ہوں۔ اس کے باوجود میں اس وقت گھر کا تقریباً سارا کام کرتی ہوں۔گھر کے کام میں کبھی کبھار مجھ سے چھوٹی موٹی غلطی یا کوتاہی ہو جاتی ہے، مثلاً کبھی کچرا نہ اٹھ پانا، فریج کی چیزیں مناسب طریقے سے نہ سنبھال پانا وغیرہ۔ ان باتوں پر میری ساس مجھ سے جھگڑا کرتی ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ بعض اوقات میری ساس میرے شوہر سے کہتی ہیں کہ میرے والدین کو بلائیں اور پھر میرے والدین کو بلا کر ان سے میری شکایت کی جاتی ہے۔ میری والدہ شوگر کی مریض ہیں، بیمار رہتی ہیں۔ مجھے یہی بات زیادہ تکلیف دیتی ہے۔ میں اپنے شوہر سے کہتی ہوں کہ آپ اس معاملے میں انصاف کریں، تو وہ کہتے ہیں کہ میں اپنی والدہ کو کچھ نہیں کہوں گا۔
4۔شوہر کی ، والدہ اور آپ، دونوں کو الگ گھر فراہم کرنے کی استطاعت ہے ؟
میرے سسر بھی اچھا کماتے ہیں اور اس کے علاوہ کرائے کی آمدنی بھی ہے۔ ساس کا اپنا ایک اور گھر بھی ہے جو کرائے پر دیا ہوا ہے۔ جس گھر میں ہم رہتے ہیں، اس کی بھی ایک منزل کرائے پر ہے، ایک منزل پر میرے جیٹھ رہتے ہیں اور ایک منزل پر ساس کے ساتھ میں رہتی ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بیان کردہ صورت حال کے پیش نظر ،شریعت کی روسے آپ کو اپنے شوہر سے مستقل اور علیحدہ کچن فراہم کرنے کے مطالبہ کا حق حاصل ہے، تاکہ ساجھے کچن کے باعث پیدا ہونے والی تکالیف، مداخلت اور ذہنی تناؤ سے بچا جا سکے۔اپنے اس جائز و شرعی حق کا مطالبہ کرنے کی وجہ سے آپ گناہ گاربھی نہیں ہوں گی۔ ساس کے ساتھ جھگڑوں اور ذہنی تناؤ سے بچنے کے لیے شریعت کی روشنی میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے شوہر سے ساس کی شکایات کرنے کے بجائے محبت اور حکمت سے صرف الگ کچن کے انتظام کی ضرورت بیان کریں، تاکہ شوہر کے لیے آپ کا یہ شرعی حق پورا کرنا اور اپنی والدہ کے ساتھ حسنِ سلوک کی ذمہ داری نبھانا دونوں آسان رہیں، جبکہ الگ کچن بن جانے کے بعد بھی آپ اپنی ساس کا احترام اور ان کے ساتھ خوش اخلاقی کا تعلق برقرار رکھیں۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (3/ 599):
«(وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله سوى طفله الذي لا يفهم الجماع وأمته وأم ولده (وأهلها) ولو ولدها من غيره (بقدر حالهما) كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به بحر (كفاها) لحصول المقصود هداية. وفي البحر عن الخانية: يشترط أن لا يكون في الدار أحد -»
«الهداية في شرح بداية المبتدي» (2/ 288):
«" وعلى الزوج أن يسكنها في دار مفردة ليس فيها أحد من أهله إلا أن تختار ذلك لأن السكنى من كفايتها فتجب لها كالنفقة وقد أوجبه الله تعالى مقرونا بالنفقة وإذا أوجب حقا لها ليس له أن يشرك غيرها فيه لأنها تتضرر به فإنها لا تأمن على متاعها ويمنعها ذلك عن المعاشرة مع زوجها ومن الاستمتاع إلا أن تختار لأنها رضيت بانتقاص حقها " وإن كان له ولد من غيرها فليس له أن يسكنه معها " لما بينا ولو أسكنها في بيت من الدار مفرد وله غلق كفاها لأن المقصود قد حصل " وله أن يمنع والديها وولدها من غيره وأهلها من الدخول عليها " لأن المنزل ملكه فله حق المنع من دخول ملكه " ولا يمنعهم من النظر إليها وكلامها في أي وقت اختاروا " لما فيه من قطيعة الرحم وليس له في ذلك ضرر وقيل لا يمنعهم من الدخول والكلام وإنما يمنعهم من القرار والدوام إن الفتنة في اللباث وتطويل الكلام وقيل لا يمنعها من الخروج إلى الوالدين ولا يمنعهما من الدخول عليها في كل جمعة وفي غيرهما من المحارم التقدير بسنة وهو الصحيح.»
«الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي» (10/ 7392):
«واتفق الفقهاء على اشتراط كون المسكن مشتملا على المرافق الضرورية اللازمة للسكنى من دورة مياه ومطبخ ومنشر، وأن تكون تلك المرافق خاصة بالسكن إلا إذا كان الزوج فقيرا ممن يسكن في غرفة في دار كبيرة متعددة الغرف والسكان، بشرط كون الجيران صالحين.»
«الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي» (10/ 7391):
« أن يكون مستقلا بها ليس فيه أحد من أهله إلا أن تختار ذلك، وهذا عند الحنفية؛ لأن السكنى من كفايتها، فتجب لها كالنفقة، وقد أوجبه الله تعالى مقرونا بالنفقة، وإذا وجب حقا لها ليس له أن يشرك غيرها فيه؛ لأنها تتضرر به؛ لأن السكن المشترك يمنعها معاشرة زوجها والاستمتاع بها، ولأنها لا تأمن على متاعها»
عبدالغفار بن غلام اکبر
دارالافتاء جامعتہ الرشید کراچی
23/ربیع الثانی/1448
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالغفار بن غلام اکبر | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


