| 92472 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
.1اگر کسی موبائل کی نقد قیمت 100,000 روپےہو اور میں وہ موبائل پہلے خود خرید کر اپنےقبضے میں لے لوں، پھر اسے کسی شخص کو 140,000 روپےکی مقررہ قیمت پر 12 ماہ کی اقساط میں فروخت کروں، تو کیا یہ شرعاً جائز ہے؟
.2کیا نقد قیمت 100,000 روپے اور قسطوں کی قیمت 140,000 روپے رکھنا جائز ہے، بشرطیکہ معاہدے کے وقت 140,000 روپے کو حتمی قیمتِ فروخت طے کر دیا جائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
.1مذکورہ معاملے میں موبائل فون پہلے خرید کر خود اس پر قبضہ کرنا، پھر اسے کسی دوسرے شخص کو باہمی رضامندی سے طے شدہ زیادہ قیمت پر 12 ماہ کی اقساط میں فروخت کرنا شرعاً درست ہے، بشرطیکہ قیمت طے ہوجائے، ماہانہ اقساط کی رقم بھی طے ہو اورمقررہ اقساط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں طے شدہ قیمت کے علاوہ کوئی اضافی رقم وصول نہ کی جائے۔
.2 باہمی رضامندی سے معاملہ کرتے وقت اسی مجلس ( ( meeting میں قیمت متعین ہوجائے ،تو جائز ہے۔
حوالہ جات
للسرخسي (13/ 8):
وإذا عقدالعقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا
فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام(1/ 228):
(المادة 247) إذا عقد البيع على تأجيل الثمن إلى كذا يوما أو شهرا أو سنة أو إلى وقت معلوم عند العاقدين كيوم قاسم أو النيروز صح البيع.يعني أن التأجيل إذا كان بالأيام أو الشهور أو السنين أو بطريق آخر فهو صحيح ما دام الأجل معلوما (بحر).
یاسر علی گل بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
24/ربیع الآخر/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | یاسر علی بن گل بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


