03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شریعت میں کسی چیز کی فروخت پر کتنا نفع رکھا جا سکتا ہے؟
92480خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیا 40 فیصد نفع کی شرح  ہر قسم کے سامان پر رکھا جا سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تجارت میں نفع کی کوئی خاص مقدار شرعاً مقرر نہیں ہے، بلکہ فریقین کی باہمی رضامندی سے کوئی بھی نفع طے کیا جا سکتا ہے،لہٰذا اگرجھوٹ ودھوکہ دہی سے بچتے ہوئے باہمی رضامندی سے کسی بھی قیمت پر معاملہ کرلیں تو جائز ہے، تاہم خریدار کی مجبوری سے فائدہ اٹھا نا جائز نہیں ۔

حوالہ جات

العناية شرح الهداية - بهامش فتح القدير ط الحلبي (10/ 59):

قال (ولا ينبغي للسلطان أن يسعر على الناس) لقوله عليه الصلاة والسلام «لا تسعروا فإن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق» ولأن الثمن حق العاقد فإليه تقديره، فلا ينبغي للإمام أن يتعرض لحقه إلا إذا تعلق به دفع ضرر العامة على مانبين.

یاسر علی گل بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

24/ربیع الآخر/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

یاسر علی بن گل بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب