| 92821 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کالا لباس عموماً لوگ پہنتے رہتے ہیں، کیا اس سے روافض اور اہلِ تشیع سے مشابہت لازم آتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کالے رنگ کے کپڑے پہننے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، البتہ موجودہ دور میں اہل بدعت ماہِ محرم میں کالے لباس کو بطورِ شعار خاص اہتمام سے پہنتے ہیں۔ اس لیے ماہِ محرم میں ان کی مشابہت سے بچنے کے لیے کالے لباس سے بچنا چاہیے۔
حوالہ جات
فتاوی محمودیہ :۱۹/۲۶۶
درست ہے،مگر جب کسی جماعت فساق یا کفار کا شعار ہو جیساکہ محرم میں روافض کا شعار ہےتو اس سے بچنا چاہیے۔
مرقاۃ المفاتیح: کتاب اللباس،الفصل الثانی،2782/7،ط:دار الفکر بیروت
عن ابن عمر (قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (من تشبه بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير.
الفتاوی البزازیہ :۶/۳۱۱،رشیدیہ
وقص الشارب امارۃ اھل السنۃوالجماعۃ،وترکہ امارۃ اھل الروافض وکذا لبس السواد۔
عبداللہ المسعود
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
۲۴/ربیع الاخر /۱۴۴۸ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


