| 92818 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
پچھلی صف میں اکیلے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ جبکہ کندھے نرم رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، تاکہ اگلی صف سے کسی نمازی کو پکڑ کر اپنے ساتھ پچھلی صف میں ملایا جا سکے، لیکن عام طور پر لوگوں کو اس کا پتہ نہیں ہوتا، تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر اگلی صف پوری طرح مکمل ہو اور کھڑے ہونے کی بالکل جگہ نہ ہوتو بعد میں آنے والا شخص کو چاہیے کہ امام کے رکوع کرنے تک انتظار کرلے، اگر کوئی دوسرا شخص آجائے تواس کے ہمراہ پیچھے کھڑا ہوجائے اور اگر کوئی نہ آئے تو اگلی صف سے کسی ایسے شخص کو جو مسئلے سے واقف ہو، کھینچ کر اپنے ساتھ کرلے اور دونوں صف کے پیچھے کھڑے ہوجائیں اور اگر کوئی ایسا شخص نہ ملے جو مسئلے سے واقف ہو اور عام آدمی کو کھینچنے میں اندیشہ ہو کہ وہ اپنی نماز فاسد کردے گا تو ایسی صورت میں اکیلا ہی کھڑا ہوجائے، بہرحال، اس صورت میں نماز بلاکراہت درست ہوجائے گی۔ البتہ اگر اگلی صف میں جگہ موجود ہو اور اس کے باوجود پچھلی صف میں اکیلے کھڑا ہوکر نماز پڑھے تو یہ مکروہ ہوگا۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 107):
ويكره ۔۔للمقتدي أن يقوم خلف الصفوف وحده إذا وجد فرجة في الصفوف وإن لم يجد فرجة في الصفوف روى محمد بن شجاع وحسن بن زياد عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لايكره فإن جر أحداً من الصف إلى نفسه وقام معه فذلك أولى. كذا في المحيط وينبغي أن يكون عالماً حتى لاتفسد الصلاة على نفسه.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 647):
إن وجد في الصف فرجة، سدّھا وإلا انتظر حتی یجيء آخر، فیقفان خلفہ وإن لم یجئ حتی رکع الإمام، یختار أعلم الناس بہذہ المسئلة فیجذبہ ویقفان خلفہ ولو لم یجد عالما، یقف خلف الصف بحذاء الإمام للضرورة۔۔۔وقدمنا كراهة القيام في صف خلف صف فيه فرجة للنهي، وكذا القيام منفردًا وإن لم يجد فرجةً بل يجذب أحدًا من الصف ذكره ابن الكمال، لكن قالوا: في زماننا تركه أولى، فلذا قال في البحر: يكره وحده إلا إذا لم يجد فرجةً.۔۔۔۔ثم قال في القنية: والقيام وحده أولى في زماننا لغلبة الجهل على العوام فإذا جره تفسد صلاته اهـ قال في الخزائن قلت: وينبغي التفويض إلى رأي المبتلى، فإن رأى من لايتأذى لدين أو صداقة زاحمه أو عالمًا جذبه وإلا انفرد. اهـ.
عبداللہ المسعود
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
۲۴/ربیع الاخر /۱۴۴۸ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


