03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
"ایک طلاق ، دو طلاق ، تین طلاقِ بائن دیتا ہوں” کا حکم
92527طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

.1میری  صاحبزادی کے شوہر نے کاغذات پہ تین دفعہ طلاق لکھ کے بھیج دی ،تو کیا طلاق ہو جاتی ہے؟

.2میرے سابقہ داماد نے میری صاحبزادی سے دوسری شادی کی تھی ، نا انصافی کی وجہ سے ان دونوں میں بہت اختلافات رہتے تھے ،اس لڑکے نے نا انصافی پر غور کرنے کی بجائے میری صاحبزادی پر بد اخلاقی اور بد کلامی کا الزام لگاتے ہوئے اسے طلاق کے پیپر بھجوا دیے، جبکہ نا انصافی وہ کرتا تھا ۔اب آپ مجھے بتائیں کہ اس صورت میں  گناہ کس پر ہوگا؟

کاغذات پر درج الفاظ ِطلاق:  چند ناگزیر وجوہات کی بناء پر ... لہٰذا میں  خوب غور وفکر کے بعد مسمات شنیلہ بنت عبدالوحید کو  ایک طلاق ، دو طلاق ، تین طلاقِ بائن دیتا ہوں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

.1مذکورہ تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں  ، نکاح مکمل طور پر ختم ہوگیاہے ۔ اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی  دوبارہ نکاح۔

طلاق نامہ پر دستخط کے وقت سے عورت  کی عدت شروع ہوچکی ہے،  اگر عورت حاملہ نہ ہو تو عدت تین ماہواریاں ہیں اور اگر حاملہ ہو تو بچے کی پیدائش کے بعد عدت پوری ہوگی،البتہ اگر حیض ہی  نہ آتا ہو تو پھر تین ماہ عدت ہوگی ۔

.2اگر شوہر کی طرف سے واقعی ناانصافی کا معاملہ ہو ا ہے تو وہی گناہ گار ہوگا ۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية  (1/ 378):

(الفصل السادس في الطلاق بالكتابة) الكتابة على نوعين مرسومة ... وإن ‌كانت ‌مرسومة ‌يقع

الطلاق نوى أو لم ينو، ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 331):

وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا.

شرح الوقاية - ت أبو الحاج (3/ 110):

هي لحرة تحيض للطلاق والفسخ ثلاث حيض كوامل.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 526):

والعدة لمن لم تحض لصغر أو كبر أو بلغت بالسن ولم تحض ثلاثة أشهر كذا في النقاية.

یاسر علی گل بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

27/ربیع الآخر/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

یاسر علی بن گل بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب