03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چار بطن کا مناسخہ
92448میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

چار بطن کا مناسخہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

ہمارے خاندان میں وراثت کا ایک معاملہ درپیش ہے، جس کی شرعی تقسیم اور وراثت کے حصے کے بارے میں رہنمائی مطلوب ہے۔

(1ہمارے والدابرار صاحب کا انتقال 2013ء میں ہواتھا، وفات کے وقت درج ذیل ورثہ تھے :

  • دوبیٹے:ارباب ،الطاف

والدصاحب  کے انتقال کے وقت ترکہ میں درج ذیل اموال تھے:

  • 6لاکھ روپے کی سرمایہ کاری ہے،اس سے ماہانہ 10,000روپے  آتےہیں، والد کے وفات کے بعد یہ رقم الطاف لیتے تھے ۔
  • گھرکا سامان تقریبادولاکھ روپے مالیت کا۔

(2اس کے بعد2015ءمیں   والدصاحب کاایک بیٹا(ارباب)کاانتقال ہوا،وفات کے وقت درج ذیل ورثہ تھے:

  • ایک بھائی :الطاف

ارباب کے انتقال کے وقت ترکہ میں درج ذیل اموال تھے:

  • ایک پلاٹ ،جس کی مالیت تقریبادولاکھ روپے ہیں

(32024ء میں ہماری والدہ(لطیفہ) کاانتقال ہوا،وفات کے وقت درج ذیل ورثہ تھے:

  • ایک بیٹا:الطاف
  • ایک نواسہ

لطیفہ کے انتقال کے وقت ترکہ میں درج ذیل اموال تھے:

  • ایک اپارٹمنٹ،جس کی مالیت تقریبا50لاکھ روپے ہے۔
  • لاکھ روپے قومی بچت میں ہے ۔والدہ کی وفات کے وقت اس رقم سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی الطاف لیتے تھے۔
  • زیور،جس کی مالیت ایک لاکھ روپے ہے۔

(42026ء  میں والد صاحب کابیٹا(الطاف) کاانتقال ہوا، وفات کے وقت درج ذیل ورثہ تھے:

الطاف کے انتقال کے وقت ترکہ میں درج ذیل اموال تھے:

  • ایک موٹر سائیکل ،جس کی مالیت20,000روپے ہے۔
  • بینک اکاونٹ تقریبا65,000روپے ہے۔
  • ملازمت کی جگہ سے کچھ رقم ملی الطاف کی بیوی کوملی۔

براہ کرم درج ذیل سوالات  کا شرعی حکم واضح فرمائیں:

  1. والدصاحب ( ابرار) کی وفات کے بعد ان کے شرعی وارث کون ہیں اور ان کو کتنا حصہ ملے گا؟
  2. ارباب غیر شادی شدہ تھا تو اس کا حصہ کس کو منتقل ہوگا؟
  3. والدہ( لطیفہ صاحبہ) کی وفات کے بعد ان کے مال کا شرعی وارث کون ہے اور کس کو کتنا حصہ ملے گا؟

آخر میں براہ کرم 2013، 2015، 2024 اور 2026 کے ہر مرحلے کو الگ الگ مدنظر رکھتے ہوئے تمام اموال کی مکمل شرعی تقسیم فرمائیں، تاکہ وراثت کا حق صحیح طور پر واضح ہو جائے۔

تنقیح :سائل کاکہناہے کہ الطاف والداور والدہ کی وفات کے بعد جوآمدنی لیتے رہے وہ ساری بہنوں کی اجازت کے بغیر لیتے تھے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم (ابرار ) نے اپنے انتقال کے وقت جو جائیداد، نقد رقم، سونا، چاندی، مکان، کاروبار، ضرورت کی اشیاء، الغرض جو کچھ چھوٹا بڑا ساز و سامان چھوڑا ہو، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا کوئی قرض ہو، تو وہ سب ان کا ترکہ شمار ہوگا۔اس میں سے سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ اگر ان کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔ پھر اگر انہوں نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو، تو اسے ایک تہائی ترکہ کی حد تک پورا کیا جائے گا۔یہی تفصیل دیگرمورثین(ارباب،لطیفہ،الطاف)کے بارے میں بھی ہے۔

 اس کے بعد چونکہ الطاف والد اور والدہ کی وفات کے بعد ان کی آمدنی مجموعی طور پر خود لیتے رہےجبکہ اس میں الطاف کاپچاس فیصد اور  دونوں بہنوں  میں سے ہر ایک کاپچیس فیصد حصہ تھا  ،لہذاالطاف والد اور والدہ کی وفات سے اپنی وفات تک جو ساری آمدنی خود لیتے رہے اس مجموعی آمدنی کا پچاس فیصد اس ترکہ میں سےپہلے  نکال کر دونوں بہنوں کو دیاجائے،اس کے بعد جو ترکہ بچ جائے گا(چاہے وہ والد سے ملاہو یابھائی سے یاوالدہ سےیااپناذاتی مال ہو)اسے زندہ تمام ورثہ میں ان کے حصص کے بقدر تقسیم کردیاجائےگا،لہذاالطاف کی زوجہ کہکشاں کو 12.5%فیصد حصہ دیاجائے گااور الطاف کی دونوں بہنوں میں سے ہر ایک کو 43.7498%فیصد حصہ دیاجائے گا۔نواسہ اور نواسیوں کو میراث میں سے کچھ نہیں دیاجائے گا۔

درج ذیل نقشے میں  تمام زندہ  ورثہ  کا فیصدی اور عددی حصہ درج ہے۔

نمبر شمار

ورثہ

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

کہکشاں

72

12.5%

2

ماہرہ

252

43.7498%

3

راحیلہ

252

43.7498%

 

کل تعداد03

کل حصص576

99.9996%

 

 

 

 

 

 

اس تفصیل کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات  بالترتیب درج  ہیں:

1۔ابرار کی وفات کے وقت اس کے شرعی ورثہ زوجہ،دوبیٹے ،دوبیٹیاں تھیں،لہذامرحوم ابرار کےترکہ میں  سےحقوق  ثلاثہ   (تجہیز وتکفین ،قرض ،وصیت )کی ادائیگی کے بعد جو کچھ بچے  ،اس کا 12.5%فیصد زوجہ کو ملے گا،دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو 29.166%فیصد ملےگا،اور ہر ایک بیٹی کو14.583%فیصد ملےگا۔

2۔ارباب  کی وفات کے وقت اس کے شرعی ورثہ  والدہ ،ایک بھائی ،دوبہنیں تھیں ،لہذامرحوم ارباب کےترکہ میں  سےحقوق  ثلاثہ   (تجہیز وتکفین ،قرض ،وصیت )کی ادائیگی کے بعد جو کچھ بچے  اس کا 16.666%فیصد والدہ کو ملے گا،41.666%فیصد ایک بھائی کو ملے گا،اور ہر ایک بہن کو 20.833%فیصد ملے گا۔

3۔مرحومہ  لطیفہ  کی وفات کے وقت اس کے شرعی ورثہ ایک بیٹا،دوبیٹیاں  تھیں ،لہذامرحومہ لطیفہ کےترکہ میں  سےحقوق  ثلاثہ  (تجہیز وتکفین ،قرض ،وصیت )کی ادائیگی کے بعد جو کچھ بچے  ،اس کا 50%فیصد بیٹے کو ملے گا،اور ہر بیٹی کو 25%فیصد ملے گا۔

حوالہ جات

مسند أبي يعلى (3/ 140 ت حسين أسد):

حدثنا عبد الأعلى، حدثنا حماد، عن علي بن زيد، عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:لا يحل ‌مال ‌امرئ ‌مسلم إلا بطيب نفس منه.

المبسوط للسرخسي (3/ 22):

لو غصب ألف درهم وخلطها بألف من ماله كان ضامنا.

حاشية ابن عابدين (6/ 801):

فصل في المناسخة:هي مفاعلة من النسخ بمعنى النقل والتحويل والمراد بها هنا أن ينتقل نصيب بعض الورثة بموته قبل القسمة إلى من يرث منه.

الفتاوى الهندية (6/ 447):

التركة ‌تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف.

السراجي في الميراث(25):

وأماللأخوات لأب وأُ م فأحوال خمس : النصف للواحدة، والثلثان للاثنتين فصاعدة.

 عزیزالرحمن

  دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی

25/ربیع الثانی  /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیز الرحمن بن اول داد شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب