| 92457 | علم کا بیان | تجوید کے مسائل |
سوال
السلام علیکم مفتی صاحب! ایك مسئلہ پوچھنا ہے۔ ایک شخص کو تجوید آتی ہے، لیکن کلمۂ شہادت میں “ محمدً ” کے حرف "ح" کی ادائیگی میں کبھی مشکل پیش آتی ہے۔ کبھی ح صحیح ادا ہو جاتی ہے، کبھی "ہ" کی آواز نکلتی ہے، اور کبھی ح کے قریب آواز نکلتی ہے۔ بعض اوقات چند یا کافی مرتبہ کوشش کے بعد ح صحیح ادا ہو جاتی ہے، جبکہ کبھی کافی کوشش کے باوجود بھی صحیح ح ادا نہیں ہو پاتی۔ اگر اسے کسی وجہ سے تجدیدِ اسلام کے لیے کلمۂ شہادت پڑھنا ہو تو ایسی صورت میں کیا کرے؟ کیا پہلی کوشش میں ح صحیح نہ نکلنے پر کلمہ مکمل کر دے، یا صحیح ح آنے تک تکرار کرے؟ اگر بعد کی کسی کوشش میں ح صحیح ہو جائے تو کیا اسی پر اکتفا کرے، اور اگر کوشش کے باوجود صحیح ح نہ ہو تو اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرکے کلمہ مکمل کر لینا کافی ہے؟ براہِ کرم اس کا واضح اور عملی حکم بتا دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر کسی شخص کو کلمۂ شہادت میں لفظ "محمد" کے حرف "ح" کی ادائیگی میں کبھی مشکل پیش آتی ہو، کبھی ” ح “صحیح ادا ہو جاتا ہو اور کبھی” ہ “یا اس کے قریب آواز نکلتی ہو، تو اس کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرنا ضروری ہے۔
اگر پہلی مرتبہ ” ح “صحیح ادا نہ ہو، لیکن آسانی سے دوبارہ کوشش کرنے پر صحیح ادا ہونے کی امید ہو تو ایک آدھ مرتبہ کوشش کر لے۔
اور اگر اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرنے کے باوجود ” ح “صحیح ادا نہ ہو سکے اور ” ہ “یا اس کے قریب آواز ہی نکلے، تو اپنی استطاعت کے مطابق کلمہ مکمل کر لینا کافی ہے۔ ایسی صورت میں اسے معذور سمجھا جائے گا اور محض تلفظ کی اس مجبوری کی وجہ سے اس کی تجدیدِ اسلام میں کوئی خلل نہیں آئے گا۔
البتہ اگر کوئی شخص صحیح تلفظ ادا کرنے پر قادر ہو اور محض سستی یا لاپرواہی کی وجہ سے درست ادائیگی کی کوشش نہ کرے تو اس کے لیے ایسا کرنا درست نہیں؛ بلکہ اسے اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔
حوالہ جات
سورۃ البقرۃ
لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا
كتاب حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح:289
لو قال الهمد لله بالهاء بدل الحاء أو كل هو الله أحد بالكاف بدل القاف جاز إذا لم يقدر على غير ذلك أو بلسانه علة قال الفقيه وإن لم يكن بلسانه علة ولكن جرى ذلك على لسانه لا تفسد اهـ.
كتاب فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي:323\1
والثاني وهو الإقامة عجزا كالحمد لله الرحمن الرحيم بالهاء فيها، أعوذ بالمهملة، الصمد بالسين إن كان يجهد الليل والنهار في تصحيحه ولا يقدر فصلاته جائزة.
عابداللہ بن لاجبرخان
دارالافتاء جامعہ الرشید کراچی
28/ربیع الثانی /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عابد اللّہ بن لاجبر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


