| 92723 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
ہمارا دفتر راولپنڈی میں واقع ہے، جہاں تقریباً پچاس ملازمین کام کرتے ہیں۔ دفتر کے قریب مسجد موجود ہے اور دفتر سے پیدل مسجد پہنچنے میں تقریباً تین منٹ لگتے ہیں۔
دفتر کے بعض ملازمین کی تجویز ہے کہ نماز کی جماعت دفتر ہی میں قائم کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض ملازمین نماز ادا نہیں کرتے، اس لیے اگر دفتر میں جماعت کا اہتمام ہو تو امید ہے کہ وہ بھی نماز میں شامل ہو جائیں گے۔
اس صورت حال میں درج ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
کیا مسجد صرف تین منٹ کے پیدل فاصلے پر ہونے کے باوجود مسجد کی جماعت چھوڑ کر دفتر میں الگ جماعت قائم کرنا شرعاً جائز ہے؟
کیا نماز نہ پڑھنے والے ملازمین کو نماز کی طرف راغب کرنے کی غرض سے دفتر میں الگ جماعت قائم کرنے کی گنجائش ہے، یا مسجد کی جماعت میں شرکت کا اہتمام کرنا چاہیے؟
براه کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں تاکہ ہم اپنے دفتر میں نماز کا اہتمام شرعی احکام کے مطابق کر سکیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں جب قریب میں جامع مسجد موجود ہے تو مسجد میں ہی باجماعت نماز ادا کرنا لازم ہے ،بغیر کسی شرعی عذر کےمستقل طور پر گھر،دکان،دفتر یا کسی اور جگہ اپنی جماعت قائم کرنا جائز نہیں ،تاہم اگر کبھی کبھار تاخیر ہونے کی وجہ سے آفس میں باجماعت نماز پڑھی جائے تو اس کی گنجائش ہے لیکن ایسے میں بھی صرف جماعت کا ثواب ملے گا، مسجد کا ثواب نہیں ملے گا جبکہ مسجد میں نماز کا ثواب گھر میں نماز پڑھنے کے مقابلےکئی درجے زیادہ ہے ۔
باقی ملازمین کو نمازی بنانے کادرست طریقہ یہ ہے کہ نماز کے اوقات میں آفس بند کر دیا جائے اورسب ملازمین مسجد جاکر نماز ادا کریں ۔اگر اس طریقے میں بھی یہ مشکل پیش آئے کہ سب ملازمین مسجد نہ جائیں تو ایسے میں بھی جو ملازمین مسجد میں نماز پڑھنے کا اہتمام کرتے ہوں ،اور دیانت داری سے وقت پر آتے جاتے ہوں توانہیں مسجد جانے سے نہ روکا جائے البتہ جو ملازمین مسجد نہ جاتے ہوں پہلے ان کو خوش اسلوبی سے مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کی دعوت دی جائے ، اور اگر تر غیب سے بھی فائدہ نہ ہو یعنی کچھ نہ کچھ ملازمین پھر بھی مسجد جانے سے رہ جاتے ہوں توایسے میں ان کے لیے مسجد کی جماعت ہوجانے کے بعد دفتر میں نماز باجماعت کا نظم بنا لینے میں حرج نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
( سنن أبي داود، كتاب الصلاة، ج:1، ص:151):
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ اتِّبَاعِهِ، عُذْرٌ»، قَالُوا: وَمَا الْعُذْرُ؟، قَالَ: «خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ، لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّى.
(مشکوٰۃ المصابیح: ج۱، ص۷۰):
قال رسول اﷲ ﷺ من خرج من بیتہ متطہرا الی صلوٰۃ متکوبۃ فاجرہ کاجر الحاج المحرم۔ الخ
«مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر» (2/ 710):
قال عليه الصلاة والسلام «لا صلاة لجار المسجد إلا في المسجد» وفسر بكل من سمع النداء ولأن المقصود البر.
اعلاء السنن: (ج۴، ص۱۶۴):
لا یخفٰی ان وجوب الجماعۃ لو کان مجردًا عن حضور المسجد لما هم رسول اﷲ ﷺ باضرام البیوت علی المتخلفین لاحتمال انّہم صلواها بالجماعۃ فی بیوتہم فثبت ان اتیان المسجد ایضًا واجب کوجوب الجماعۃ فمن صلاها بجماعۃ فی بیتہ اتی بواجب وترک واجبًا آخر.
محمدعمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
11/جمادی الاولیٰ/8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


