| 92247 | نماز کا بیان | نماز کےمتفرق مسائل |
سوال
صبح صادق ہو گئی، اذانیں نہیں ہوئیں، کوئی شخص پہلے سے تہجد میں مشغول ہے۔اگر اذانیں شروع ہو جائیں ، تو ایسی صورت میں تہجد توڑ دی جائے یا جاری رکھی جائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کوئی شخص صبح صادق سے پہلے تہجد کی نماز میں مشغول تھا اور اسی اثناء صبح صادق کا وقت داخل ہو گیا یا اذان فجر شروع ہو گئی، تو ایسی صورت میں تہجد کی نماز توڑنا جائز نہیں ، بلکہ اسے جاری رکھ کر مکمل کرنا افضل اور مستحب ہے۔ فقہ حنفی کی رو سے اگر نفل نماز (تہجد) کی نیت صبح صادق سے پہلے باندھی گئی ہو اور نماز کے دوران وقت فجر شروع ہو جائے، تو بلا قصد مکروہ وقت میں شمولیت کی بنا پر اس نفل کو مکمل کرنا ہی شرعاً بہتر ہے اور یہ نماز صحیح ادا ہوجائے گی ۔ البتہ، چونکہ نماز کا آغاز صبح صادق سے پہلے ہوا تھا اور دوران نماز فجر کا وقت داخل ہوا، اس لیے راجح قول کے مطابق یہ نفل نماز فجر کی دو رکعت سنت کے قائم مقام نہیں بنے گی، لہٰذا اس نفل کو مکمل کرنے کے بعد فجر کی دو رکعت سنت الگ سے ادا کی جائے گی۔
حوالہ جات
لو صلى تطوعا في آخر الليل فلما صلى ركعة طلع الفجر فإن الأفضل إتمامها؛ لأن وقوعه في التطوع بعد الفجر لا عن قصد ولا ينوبان عن سنة الفجر على الأصح (لقوله ولو تحية مسجد) أشار به إلى أنه لا فرق بين ما له سبب أو لا كما في البحر خلافا للشافعي فيما له سبب كالرواتب وتحية المسجد ط.
(الدر المختار وحاشية ابن عابدين ،1/ 374)
(ولو صلى ركعتين تطوعا مع ظن أن الفجر لم يطلع فإذا هو طالع) أو صلى أربعا فوقع ركعتان بعد طلوعه (لا تجزيه عن ركعتيها على الاصح) تجنيس ؛لان السنة ما واظب عليه الرسول بتحريمة مبتدأة.
(الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار ،ص: 91)
و من صلى تطوعاً في آخر الليل فلما صلى ركعة طلع الفجر كان الإتمام أفضل.
(الفتاوى الهندية،52/1)
عبدالرحیم بن سید جنان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
03 /ربیع الثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبد الرحیم بن سید جنان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


