| 92249 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
آج کل کالا خضاب ہر خاص و عام استعمال کرتا ہے، جبکہ بڑھاپا چھپانے سے منع فرمایا گیا ہے۔ یہ ایک عام رواج بن چکا ہے، جبکہ کفار سے عام حالت جنگ کے علاوہ اس کا استعمال درست نہیں ، جو کہ سوائے فلسطین، غزہ اور بھارت کے کہیں درپیش نہیں ۔ فلسطین، غزہ اور بھارت کے مسلمانوں کی حالت زار عالم اسلام اور حکمرانوں پر سکتہ طاری ہے۔ عامۃ الناس ان کی کیوں کر مدد کریں ،اور اپنا مذہبی فريضہ کیسے ادا کیا جائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عام حالات میں بڑھاپا چھپانے کی غرض سے خالص سیاہ خضاب (کالا رنگ) کا استعمال مرد و عورت دونوں کے لیے جائز نہیں ؛ البتہ اگر کسی شرعی مصلحت کی بنا پر استعمال کیا جائے جیساکہ میدان جنگ (حالت جہاد) میں دشمن پر رعب و ہیبت طاری کرنے کی غرض سے تو ایسی صورت میں سیاہ خضاب کا استعمال بالاتفاق جائز ہے۔
جہاں تک فلسطین، غزہ اور بھارت کے مظلوم مسلمانوں کی امداد و اعانت کا تعلق ہے، تو اگرچہ فوجی و حکومتی دائرہ کار بالواسطہ ریاستوں اور حکمرانوں پر عائد ہوتا ہے، لیکن عامۃ الناس پر بھی اپنے مظلوم دینی بھائیوں کی مدد کا مذہبی و ایمانی فريضہ عائد ہوتا ہے؛ جسے عوام الناس اپنے طور پر مالی اعانت و عطیات (زکوٰۃ و صدقات) کی باقاعدہ فراہمی، مساجد میں قنوت نازلہ و مسنون دعاؤں کا اہتمام، ظالم و غاصب قوتوں اور ان کی معاون کمپنیوں کا اخلاقی و معاشی بائیکاٹ، اور مظلومین کے حقوق و دفاع کے لیے ہر ممکن اخلاقی و ذرائع ابلاغ کے سطح پر آواز بلند کر کے احسن طریقے سے ادا کر سکتے ہیں۔
حوالہ جات
عن جابر بن عبد الله، قال: أتي بأبي قحافة يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كالثغامة بياضا، فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "غيروا هذا بشيء، واجتنبوا السواد".
(سنن أبي داود ،6/ 267)
عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يكون قوم يخضبون في آخر الزمان بالسواد، كحواصل الحمام، لا يريحون رائحة الجنة».
(سنن أبي داود ،4/ 87)
وأما الخضاب بالسواد: فمن فعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه، اتفق عليه المشايخ، ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء، وليحبب نفسه إليهن فذلك مكروه عليه عامة المشايخ. وبنحوه ورد الأثر عن عمر رضي الله عنه، وبعضهم جوزوا ذلك من غير كراهية، روي عن أبي يوسف أنه قال: كما يعجبني أن تتزين لي يعجبها أن أتزين لها، هذه الجملة ۔۔۔.
(المحيط البرهاني في الفقه النعماني، 5/ 377)
عن أنس بن مالك: " قنت رسول الله صلى الله عليه وسلم شهرا بعد الركوع في صلاة الصبح يدعو على رعل، وذكوان، ويقول: عصية عصت الله ورسوله ".
عن أنس بن مالك: «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قنت شهرا بعد الركوع في صلاة الفجر يدعو على بني عصية».
(صحيح مسلم ،1/ 468)
عبدالرحیم بن سید جنان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
03 /ربیع الثانی /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبد الرحیم بن سید جنان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


