03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دورانِ ملازمت وفات پر ملنے والی سرکاری مالی امدادکا حکم
92829میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے بھائی قیصر محمود (پی ایس ٹی، گورنمنٹ پرائمری سکول حضرو نمبر ۳، ضلع اٹک) 17 جنوری 2026ء کو دورانِ ملازمت وفات پا گئے۔ ان کی کوئی اولاد نہیں، ورثاء میں بیوہ، والدہ، دو بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ اس سلسلے کی دستاویزات کا خلاصہ یہ ہے:

۱۔ نادرا کا جانشینی سرٹیفکیٹ (28 اپریل 2026ء): یہ مرحوم کے نیشنل بینک حضرو کے اکاؤنٹ کی رقم کے لیے میرے (ناصر محمود) حق میں جاری ہوا کہ میں رقم وصول کرکے ورثاء میں تقسیم کروں۔ اس میں ورثاء کے حصے یہ درج ہیں: بیوہ سعیدہ بانو 1/4، والدہ نسیم اختر 1/6، دونوں بھائی (خالد محمود، ناصر محمود) ہر ایک 1/6، اور تینوں بہنیں (رابعہ خاتون، ثریا خاتون، کوثر خاتون) ہر ایک 1/12۔

۲۔ ضلعی تعلیمی افسر اٹک کا نوٹیفیکیشن (21 مئی 2026ء): اس میں محکمہ خزانہ پنجاب کے مقررہ ضابطوں کے تحت چالیس لاکھ روپے مالی امداد اور چار ماہ کی تنخواہ کی منظوری دی گئی ہے۔ دونوں کے بارے میں الفاظ یہ ہیں کہ یہ منظوری جانشینی سرٹیفکیٹ میں مذکور قانونی ورثاء کے حق میں ہے، اور اس کے ساتھ نام صرف بیوہ سعیدہ بانو کا درج ہے۔ نوٹیفیکیشن کی کاپی بھی بیوہ ہی کو پہنچانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

۳۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی اٹک کا حکم نامہ (28 اگست 2026ء): اس میں دورانِ ملازمت وفات پانے والے ملازمین کے خاندان/قانونی ورثاءکے لیے مالی امداد کی رقم مختص کی گئی ہے، اور مرحوم قیصر محمود کے سامنے قانونی ورثاء کے خانے میں صرف بیوہ سعیدہ بانو کا نام اور چالیس لاکھ روپے کی رقم درج ہے۔

۴۔ وصیت: مرحوم کی ہاتھ سے لکھی تحریر وفات کے بعد ملی، جس میں بہن بھائیوں کو مخاطب کرکے لکھا ہے کہ دورانِ ملازمت فوت ہونے کی صورت میں میرے اصل حصہ دار آپ ہی ہیں، اور اگر آپ سب راضی ہوں تو میری خواہش ہے کہ میرے مرنے کے بعد پیر مبارک شاہ صاحب کی بیوہ، طاہر شاہ صاحب اور راشد کی بیوہ کو بھی مناسب حصہ دینا، باقی آپ سب حصہ دار ہیں۔ یہ تینوں افراد مرحوم کے شرعی ورثاء میں شامل نہیں۔سوال یہ ہے کہ:

:1 چالیس لاکھ روپے مالی امداد اور چار ماہ کی تنخواہ مرحوم کا ترکہ ہیں یا نہیں، اور مذکورہ دستاویزات کی رو سے یہ صرف بیوہ کے لیے جاری ہوئی ہیں یا تمام ورثاء کے لیے؟

:2 مرحوم کی وصیت ان رقوم پر اور ترکہ پر کس حد تک نافذ ہوگی؟

 :3 ترکہ میں ہر وارث کا کتنا حصہ ہے؟

نوٹ: مذکورہ تمام دستاویزات (جانشینی سرٹیفکیٹ، نوٹیفیکیشن اورحکم نامہ) سوال کے ساتھ منسلک ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

وفات کے بعد سرکاری محکمے کی طرف سے منظور ہونے والی چالیس لاکھ روپے مالی امداد اور چار ماہ کی تنخواہ نہ مرحوم کی زندگی میں اس کی ملکیت تھی اور نہ اس پر اس کا کوئی حق ثابت ہوا تھا، بلکہ یہ حکومت کی طرف سے عطیہ ہے۔اس لیے یہ رقوم مرحوم کا ترکہ نہیں، نہ ان میں میراث جاری ہوگی اور نہ مرحوم کی وصیت ان پر نافذ ہوگی۔ یہ رقوم اسی کی ملکیت ہیں جسے حکومت اپنے ضابطے کے مطابق مالک بنا کر دے۔

1:منسلکہ نوٹیفیکیشن میں یہ دونوں رقوم جانشینی سرٹیفکیٹ میں مذکور تمام قانونی ورثہ کے حق میں منظور کی گئی ہیں، لہٰذا چالیس لاکھ روپے مالی امداد اور چار ماہ کی تنخواہ سرٹیفکیٹ میں درج تمام ورثہ کی ملکیت ہیں تنہا کسی ایک وارث کی نہیں۔

 :2 پیر مبارک شاہ صاحب کی بیوہ، طاہر شاہ صاحب اور راشد کی بیوہ چونکہ وارث نہیں، اس لیے ان کے حق میں وصیت صرف مرحوم کے ترکہ میں ایک تہائی کی حد تک نافذ ہوگی۔یاد رہے کہ ایک تہائی کے حساب کے وقت 40 لاکھ کا فنڈ ترکے میں شمار نہیں کیا جائے گا۔ مرحوم نے مقدار متعین نہیں کی، اس لیے ورثہ ترکے کے ایک تہائی کے اندر جتنا مناسب سمجھیں انہیں دے دیں۔ نہ دیں تو بھی گناہ گار نہیں ہوں گے۔

:3مرحوم کا ترکہ وہ مال ہے جو وفات کے وقت ان کی ملکیت تھا یا جس پر ان کا حق ثابت ہوچکا تھا، مثلاً بینک اکاؤنٹ کی رقم اور وفات تک کی واجب الادا تنخواہ۔ اس میں سے تجہیز و تکفین کا خرچ، قرض (اگر ہو) اور مذکورہ غیر وارث افراد کی وصیت ادا کرنے کے بعد باقی ترکہ کے ساتھ چالیس لاکھ روپے مالی امداد اور چار ماہ کی تنخواہ ملا کر کل رقم بارہ برابر حصوں میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ بیوہ کو تین حصے (25%)، والدہ اور ہر بھائی کو دو  دوحصے (16.67%)، اور ہر بہن کو ایک ایک حصہ (8.33%)ملے گا۔ جانشینی سرٹیفکیٹ میں درج حصے اسی کے مطابق ہیں۔

حوالہ جات

القرآن الكريم (النساء: 11):

﴿فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ﴾

الأشباه والنظائر - ابن نجيم (ص256):

الميت لا يملك بعد الموت إلا إذا نصب شبكة للصيد ثم مات فتعلق الصيد فيها بعد الموت فإنه يملكه ويورث عنه

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (5/ 92):

(قوله ولا من مات فيها وبعد الإحراز بدارنا يورث نصيبه) لأن الإرث يجري في الملك ولا ملك قبل الإحراز وإنما الملك بعده كما قدمناه ... وسيأتي أن من مات من أهل الديوان قبل خروج العطاء لا يورث نصيبه.

رد المحتار على الدر المختار (6/ 759):

(قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.

الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 513):

قال: "الوصية غير واجبة وهي مستحبةوالقياس يأبى جوازها لأنه تمليك مضاف إلى حال زوال مالكيته، ولو أضيف إلى حال قيامها بأن قيل ملكتك غدا كان باطلا فهذا أولى، إلا أنا استحسناه لحاجة الناس... ثم تصح للأجنبي في الثلث من غير إجازة الورثة لما روينا ... قال: "ولا تجوز بما زاد على الثلث"…قال: "ولا تجوز لوارثه" لقوله عليه السلام: "إن الله تعالى أعطى كل ذي حق حقه، ألا لا وصية لوارث" ولأنه يتأذى البعض بإيثار البعض ففي تجويزه قطيعة الرحم ولأنه حيف بالحديث الذي رويناه ... قال: "إلا أن تجيزها الورثة" ويروى هذا الاستثناء فيما رويناه، ولأن الامتناع لحقهم فتجوز بإجازتهم؛ ولو أجاز بعض ورد بعض تجوز على المجيز بقدر حصته لولايته عليه وبطل في حق الراد.

الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 519):

قال: "ولو أوصى بجزء من ماله قيل للورثة أعطوه ما شئتم" لأنه مجهول يتناول القليل والكثير، غير أن الجهالة لا تمنع صحة الوصية والورثة قائمون مقام الموصي فإليهم البيان.

ظہوراحمدبن خیردادخان

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 14/جمادی الاولی/1448ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب