03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث اور وصیت
85817وصیت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین دربارہ اس مسئلے کے کہ چند اہم سوالات میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر مشکور فرمائیں تاکہ ہم شرعی احکام کے مطابق عمل کر سکیں۔ سوالات: 1. ایک عورت نے اپنی زندگی میں باہوش و حواس اپنی کل جائیداد میں سے ایک کنال زمین اپنے ایک بیٹے کو حبہ کر کے اس پر قبضہ دے دیا اور اسے مالک بنا دیا۔ کیا اس حبہ شدہ زمین پر وراثت جاری ہوگی یا نہیں؟ یعنی کیا دیگر ورثاء کا اس زمین میں کوئی حق ہوگا؟ 2. کیا متوفیہ عورت کی ملکیتی زمین کو تقسیم سے قبل، کسی ایک وارث کا بغیر دیگر ورثاء کی رضامندی کے ٹھیکے پر دینا شرعاً درست ہے؟ اگر ایسا ہو تو اس زمین کی آمدنی کا شرعی حکم کیا ہوگا؟ 3. یتیم کے مال و جائیداد پر سرپرست کب تک حق تصرف رکھ سکتا ہے؟ جب یتیم بلوغت کی عمر کو پہنچ جائے اور سمجھ بوجھ رکھتا ہو تو کیا سرپرست کو اس کا مال و جائیداد اس کے حوالے کرنا شرعاً واجب ہوگا؟ اگر یتیم مطالبہ کرے اور سرپرست اس کا مال دینے سے انکار کرے یا زبردستی اپنے قبضے میں رکھے، تو اس کا شرعی حکم کیا ہوگا؟ 4. ایک شخص نے اپنی زندگی میں وصیت کی تھی کہ اس کے انتقال کے بعد اس کی کل جائیداد (ایک مکان اور تین دکانیں) فروخت کر کے تمام ورثاء میں تقسیم کر دی جائے۔ اس وصیت میں یہ شرط بھی شامل تھی کہ جب تک مکان یا دکانیں فروخت نہ ہوں، ان میں رہنے یا ان کا استعمال کرنے والا فرد تمام ورثاء کو کرایہ ادا کرے گا۔ اس شخص کو فوت ہوئے 4 سال اور 5 ماہ گزر چکے ہیں۔ کیا اس وصیت پر شرعاً عمل کرنا ضروری ہے؟ اور کیا کرایہ کی شرط کو برقرار رکھنا واجب ہوگا؟ براہ کرم ان مسائل کے جوابات سے رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1    ۔اپنے بیٹے کو زمین حوالے کرنے سے وہ زمین بیٹے کی ملک ہو گئی  کسی وارث کا اب اس زمین سے کوئی تعلق  نہیں ، لہذا   اگر سوال حقیقت کے مطابق ہو اور  واہب کا انتقال ہو جائے تو چوں کہ وہ چیز اس کی ملکیت میں نہیں ہے اس لیے وہ  اس کا ترکہ بھی شمار نہیں ہوگا اور مرحومہ کے وارثوں میں تقسیم بھی نہیں ہو گا ۔
2۔  مرحومہ کے ورثہ میں سے کسی کو (مرحومہ کے ترکے کا شرعی  ورثہ  میں تقسیم کرنے سے پہلے ) دوسرے ورثہ کی اجازت کے  بغیر خود اپنی مرضی سے کسی حصہ میں تصرف کرنا کرایہ وغیرہ پر دینا شرعا ٹھیک نہیں ہے ،اگر اس سے کچھ نفع ہوا ہو تو اس کو مرحومہ کے شرعی ورثہ میں تقسیم کرنا ضروری ہے ۔
3۔ یتیم بچے کے مال کو یتیم  کا سرپرست (بشرطیکہ اس کا شمار  بچوں کے خیر خواہ  میں ہوتا ہو )یتیم بچے  کے بالغ اور سمجھدار ہونے کے زمانے تک  خود اپنے  قبضہ میں رکھے اور مناسب طریقے سے خرچ کرتا رہے ، بلکہ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس کے مال کو کسی جائز کاروبار میں لگائے تاکہ اس میں نفع ہو ۔جب یتیم بچہ بالغ ہو جائے اور واقعی طور پر سمجھدار بھی   ہو  تو سرپرست پر لازم ہے کہ   اس کو اس کا مال گواہوں کے موجودگی میں حوالے کر دے ۔اگر حوالے نہیں کرے گا   تو یہ ظلم اور ناانصافی ہو گی ، اس بارے میں شرعا سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :پھر اگر دیکھو ان میں (یتیموں میں )ہوشیاری تو ان کے مال ان کے حوالے کردو ۔
4  وارثہ  کے حق میں  وصیت نافذ نہیں ہوتی ،تاہم اگر اس طرح وصیت کر دی گئی اور میت کے انتقال کے بعد  تمام ورثہ (بشرطیکہ سب عاقل بالغ ہوں )اس وصیت کے مطابق ترکہ    تقسیم  ہونے پر راضی ہوں تو اس کے مطابق عمل کرنے کی اجازت ہے ،اگر کوئی وارث اس تقسیم پر راضی نہ ہو  تو وصیت کے ماننے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا  بلکہ اس کی میراث شرعی اصولوں کے مطابق شرعی حصہ داروں میں تقسیم ہوگی۔
 مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیداد ،سونا ،چاندی ،نقدی  اور ہر قسم کے  جو چھوٹا بڑا سازوسامان چھوڑا ہے  اور ان کا وہ قرض  جو کسی کے ذمہ واجب ہو ،یہ سب ان کا ترکہ ہے ۔اس میں سے ان کے کفن  ودفن کے متوسط اخراجات نکالنے،   ان کے ذمہ واجب الادء قرض ادا کرنے  اور کل ترکے کی ایک تہائی تک  ان کی جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی  بچے وہ مذکورہ ورثہ میں تقسیم ہوگا جس میں ہربیٹےکو مالیت کے اعتبار  سے  29,41,000 روپے اور فیصد  کے اعتبار سے  11.764 % حصہ ملے گا اور ہر بیٹی کو مالیت کےاعتبار سے 14,70,500 روپے اور فیصد  کے اعتبار سے 5,882%  حصہ  ملے گا۔

حوالہ جات

لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية.
(الفتاوى الهندية: 4/ 378)
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها،وإن شاغلا لا۔۔۔۔ لأن القبض شرط تمامهاالخ .
( رد المحتار: 5/ 690)
ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره الخ۔(الفتاوى الهندية: 2/ 301)
(فشركة الملك) أن يشترك رجلان في ملك مال، وذلك نوعان: ثابت بغير فعلهما كالميراث.....وهو أن ما يتولد من الزيادة يكون مشتركا بينهما بقدر الملك، وكل واحد منهما بمنزلة الأجنبي في التصرف في نصيب صاحبه.( المبسوط للسرخسي : 11/ 151)
أخرجه الترمذي في سننه  : (25/2) رقم الحديث (641) من حديث عمرو بن شعيب ، عن أبيه ، عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم خطب الناس فقال: ألا من ولي يتيما له مال فليتجر فيه ولا يتركه حتى تأكله الصدقة.
قال: وللوصي أن يتجر بمال اليتيم في المبسوط....... كذا في فتاوى قاضي خان.للوصي أن يدفع مال الصغير مضاربة وأن يشارك به غيره وأن يبضعه.كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية: 6/ 147)
مشكاة المصابيح: (2/ 925)  (رقم الحديث  :3074)من حديث ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ.
(وتجوز بالثلث للأجنبي) (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة إلا أن تجيز ورثته بعد موته) ولا تعتبر إجازتهم حال حياته أصلا بل بعد وفاته (وهم كبار) يعني يعتبر كونه وارثه الخ.
( رد المحتار: 6/ 651)
(ولا لوارثه وقاتله الخ إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام :لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة الخ.( رد المحتار:   6/ 656)
قال الله تعالى :يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ  [النساء: 11] 
وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.
( الفتاوى الهندية: 6/ 448)
يملك ‌كل ‌واحد ‌من ‌أصحاب ‌الحصص حصته مستقلا بعد القسمة ولا يبقى علاقة لأحدهم في حصة الآخر بعد. ويتصرف كل واحد منهم في حصته كيفما يشاء۔
( درر الحكام في شرح مجلة الأحكام : 3/ 168)

عبدالوحید بن محمد طاہر
دارالافتاء جامعہ الرشیدکراچی
۸جمادی الاخرى ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالوحید بن محمد طاہر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب