| 90197 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرا نام ....................... ہے میرے والد کا 2012 میں انتقال ہو گیا تھا، میری 2 بہنیں ہے جو شادی شدہ ہے اور میری بیوہ ماں ہے جو حیات ہے۔ میرے والد نے دوسری شادی بھی کی تھی جس سے 3 بھائی اور 1 بہن ہے لیکن اس فیملی سے ہمارا کوئی تعلق رابطہ نہیں ہے۔ ہم جس گھر میں رہتے ہیں وہ میرے دادا کا ہے، اور میرے دادا کا انتقال 2025 میں ہوا تھا۔ میرے والد کو ملا کر 5 بھائی اور 4 بہنیں ہے۔ بہنیں چاروں حیات ہے اور بھائیوں میں سے 2 کا انتقال والد سے پہلے ہو گیا ہے۔ میرے 1 چاچا جو کہ دادا کے گھر میں ہی رہتے ہے اُن کا کہنا ہے کہ وہ اس گھر کے مالک ہے اور ہمارا اس گھر میں کوئی قانونی حصہ نہیں ہے۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ میری صحیح رہنمائی کی جائے کہ میرے دادا کے گھر میں میرا قانونی حصہ بنتا ہے یا نہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے والد کا انتقال داداکی حیات میں ہوگیا تھا اس لیے داداکےترکےمیں ان کاشرعا کوئی حق نہیں تھا،لہذاان سےآپ کوبھی کوئی وراثتی حصہ نہیں ملےگا۔نیز داداکےاپنےبیٹے زندہ ہیں ۔لہذا پوتےکےطورپربھی آپ کاحصہ نہیں بنتا۔لہذا آپ کےچچاکایہ کہناٹھیک ہےکہ شرعی وقانونی لحاظ سےآپ کا وراثتی حصہ نہیں ہے ۔البتہ اگر آپ کے چچا اپنی خوشی سےآپ لوگوں کوکچھ حصہ دیں تو وہ ان کے لیے باعث اجروثواب ہوگا۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي: (6/ 779)
ثم شرع في الحجب فقال (ولا يحرم ستة) من الورثة (بحال) ألبتة (الأب والأم والابن والبنت) أي الأبوان والولدان (والزوجان) وفريق يرثون بحال، ويحجبون حجب الحرمان بحال أخرى وهم غير هؤلاء الستة سواء كانوا عصبات أو ذوي فروض وهو مبني على أصلين أحدهما (أنه يحجب الأقرب ممن سواهم الأبعد) لما مر أنه يقدم الأقرب فالأقرب اتحدا في السبب أم لا (و) الثاني (أن من أدلى بشخص لا يرث معه) كابن الابن لا يرث مع الابن.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (6/ 452)
الباب الرابع في الحجب) وهو نوعان: حجب نقصان وحجب حرمان. فحجب النقصان هو الحجب من سهم إلى سهم، وأما حجب الحرمان فنقول: ستة لا يحجبون أصلا، الأب والابن والزوج والأم والبنت والزوجة ومن عدا هؤلاء فالأقرب يحجب الأبعد كالابن يحجب أولاد الابن والأخ لأبوين يحجب الإخوة لأب ومن يدلي بشخص لا يرث معه إلا أولاد الأم.
رشيدخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
10/ذو القعدہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


