| 85818 | علم کا بیان | علم کے متفرق مسائل کابیان |
سوال
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ امید ہے آپ بخیر و عافیت ہونگے جی آپ سے ایک مسئلہ کے متعلق جاننا تھا جی آج کل آپ کو علم ہوگا کہ ماشاءاللہ سے علماء کی تعداد الحمد للہ کافی ہوگئی ہے اور ہمارے اپنے محلے میں دو تین علماء ہے اور ماشاءاللہ بہت قابل علماء ہے۔ ایسے میں کچھ طلباء علم قراءات (سبعہ عشرہ) کی طرف رخ کرتے ہے تو اکثر لوگ اس میں علماء بھی ہمارے کچھ شامل ہے انکی حوصلہ شکنی کرتے ہے کہ یہ بے فائدہ ہے یا اس پر وقت کیو ضائع کرنا اس طرح کی باتیں بلکہ ایک عالم صاحب نے میرے دوست کو جو قراءات عشرہ کے بہت اچھے قاری ہے ان سے کہا کہ آپ اتنے قابل بندے ہے آپ نے قراءات عشرہ میں 5 سال لگا کر اپنا وقت برباد کیا ہے اور اتنے قراءات پڑھنے کی کیا ضرورت جبکہ ہمارے شیخ فیاض الرحمن علوی صاحب(دار القراء نمک منڈی پشاور ) فرماتے تھے کہ علماء دیوبند کے نزدیک درس نظامی اور قراءات عشرہ دونوں علوم فرض کفایہ ہے تو اس میں ان لوگوں اور علماء کی اس طرح سے باتیں کرنے کے بارے میں آپکی کیا رائے ہے اور کیا فقہ قراءات سے افضل ہے یا برابر ؟ حالانکہ ہمارے معاشرے میں قراء کی بہت کمی ہے علماء کے مقابلے میں۔۔ اس متعلق رہنمائی فرمائیں ، جزاکم اللہ خیرا محمد زیب احمد رحیمی نوشھرہ خیبر پختونخوا
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ہر مسلمان کے لیے فقہ کا اتنا علم ضروری ہے جس سے زندگی میں پیش آنے والے مسائل کا علم ہو جیسے حلال و حرام ، پاکی وناپاکی ،جائز وناجائز ،اسی طرح تجوید وقراءت کا اتنا علم ضروری ہے جس سے قرٓان مجید کے حروف کو صحیح طور پر پڑھ سکے اور وقف مناسب جگہ پر کرسکے ،اس سے زیادہ علم (فقہ ،قراءت )سیکھنا فرض کفایہ ہے۔دونوں علوم کی اپنی اپنی اہمیت ہے اور ان میں افضلیت کا فیصلہ ضرورت کے مطابق ہوگا،لہذا مذکورہ صورت میں جب کہ ٓاپ کے علاقے میں قراء حضرات کی ضرورت بھی ہے توکچھ لوگوں کا قراءت کا علم سیکھنا افضل ہے۔ علماء حضرات کے لیے قراء حضرات کی بے توقیری کرنا مناسب نہیں ۔ خاص طور پر سوال میں درج الفاظ :وقت برباد کرنا یا عمر ضائع کرنا وغیرہ ، ان علوم کی تنقیص کی وجہ سے زیادہ خطرناک ہیں ۔ اس پر متعلقہ حضرات کو استغفار بھی کرنی چاہیے ۔
حوالہ جات
لا خلاف في أن الاشتغال بعلم التجويد فرض كفاية أما العمل به، فقد ذهب المتقدمون من علماء القراءات والتجويد إلى أن الأخذ بجميع أصول التجويد واجب يأثم تاركه، سواء أكان متعلقا بحفظ الحروف - مما يغير مبناها أو يفسد معناها - أم تعلق بغير ذلك مما أورده العلماء في كتب التجويد، كالإدغام ونحوه. قال محمد بن الجزري في النشر نقلا عن الإمام نصر الشيرازي: حسن الأداء فرض في القراءة، ويجب على القارئ أن يتلو القرآن حق تلاوته ،وذهب المتأخرون إلى التفصيل بين ما هو (واجب شرعي) من مسائل التجويد، وهو ما يؤدي تركه إلى تغيير المبنى أو فساد المعنى، وبين ما هو (واجب صناعي) أي أوجبه أهل ذلك العلم لتمام إتقان القراءة، وهو ما ذكره العلماء في كتب التجويد من مسائل ليست كذلك، كالإدغام والإخفاء إلخ. فهذا النوع لا يأثم تاركه عندهم.قال الشيخ علي القاري بعد بيانه أن مخارج الحروف وصفاتها، ومتعلقاتها معتبرة في لغة العرب: فينبغي أن تراعى جميع قواعدهم وجوبا فيما يتغير به المبنى ويفسد المعنى، واستحبابا فيما يحسن به اللفظ ويستحسن به النطق حال الأداءالخ...
(الموسوعة الفقهية الكويتية :10 / 178)
ولا شك أن الأمة كما هم متعبدون بفهم معاني القرآن وإقامة حدوده هم متعبدون بتصحيح ألفاظه وإقامة حروفه على الصفة المتلقاة من أئمة القراء المتصلة بالحضرة النبوية.
( الإتقان في علوم القرآن : 1/ 346)
أخرجه مسلم في صحيحه: (8/ 10)(رقم الحديث : 2564)من حديث أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « لا تحاسدوا ولا تناجشوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، ولا يبع بعضكم على بيع بعض، وكونوا عباد الله إخوانا، المسلم أخو المسلم لا يظلمه، ولا يخذله، ولا يحقره التقوى ها هنا ويشير إلى صدره ثلاث مرات بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم، كل المسلم على المسلم حرام دمه، وماله، وعرضه .
ولا يحقره هو بالقاف والحاء المهملة أي لا يحتقره فلا ينكر عليه ولا يستصغره ويستقله...
( شرح النووي على مسلم: 16/ 120)
وفي مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح : (8/ 3157)من حديث سعيد بن زيد رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إن من أربى الربا الاستطالة في عرض المسلم بغير حق. (الاستطالة) أي: إطالة اللسان (في عرض المسلم) : وأصل التطاول استحقار الناس والترفع عليهم ........ لأنه أكثر مضرة وأشد فسادا، فإن العرض شرعا وعقلا أعز على النفس من المال، وأعظم منه خطرا، ولذلك أوجب الشارع بالمجاهرة بهتك الأعراض ما لم يوجب بنهب الأموال .
قال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالي :وتعلم الفقه أفضل من تعلم باقي القرآن وجميع الفقه لا بد منه.
(قوله: وتعلم الفقه إلخ) في البزازية تعلم بعض القرآن ووجد فراغا، فالأفضل الاشتغال بالفقه؛ لأن حفظ القرآن فرض كفاية، وتعلم ما لا بد من الفقه فرض عين. قال في الخزانة: وجميع الفقه لا بد منه: وظاهر قوله وجميع الفقه لا بد منه أنه كله فرض عين، لكن المراد أنه لا بد منه لمجموع الناس فلا يكون فرض عين على كل واحد، وإنما يفرض عينا على كل واحد ما يحتاجه؛ نعم قد يقال تعلم باقي الفقه أفضل من تعلم باقي القرآن لكثرة حاجة العامة إليه في عباداتهم ومعاملاتهم وقلة الفقهاء بالنسبة إلى الحفظة تأمل. (رد المحتار: 1/ 39)
عبدالوحیدبن محمد طاہر
دارالافتاء جامعہ الرشیدکراچی
۸جمادی الاخری ۱۴۴۶ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالوحید بن محمد طاہر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


