03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرغی کا خون ہاتھوں پر لگے توکیاحکم ہے؟
85629/64پاکی کے مسائلنجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان

سوال

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ مفتی صاحب! مرغی کا وہ خون جو اُسکے ذبح کرنے سے نکلا ہو، وہ ہاتھ پر لگ جائے، لیکن اتنی مقدار میں کہ بہنے کی صلاحیت نہیں ہو، کیا وہ ناپاک ہے؟ یہ مسئلہ تب پیش آتا ہے، جب مرغی کا گوشت لینے جاتے ہے، تو جو قصائی ہوتا ہے، وہ مرغی کو ذبح کرکے ایک ڈرم میں ڈال دیتا ہے، تاکہ اُسکی سانس پوری نکلے، وہ مرغی اُسی ڈرم میں پھڑ پھڑاتی ہے، اور اپنے خون میں لت پت ہوتی ہے، بعد میں قصائی اُسکی کھال نکال کر، اُسے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے ہمیں شاپر میں دے دیتا ہے، اب شاپر جب ہم ہاتھ میں اٹھاتے ہے، تو اکثر انگلیوں پر خون لگ جاتا ہے لیکن اتنی مقدار میں لگتا ہے کہ اس میں بہنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ کیا ہمارے ہاتھ ناپاک ہوگئے اُس خون سے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مرغی کا ذبح کے وقت بہنے والا خون نجاست غلیظہ ہے۔  ہاتھوں پر خون لگ جانے کی صورت میں ہاتھ ناپاک ہو جاتے ہیں،ا نہیں  دھونا لازم ہے  ،خواہ  وہ خون کم مقدار میں  ہی کیوں نہ ہو ۔تاہم ذبح ہونے کے بعد  گوشت   کے اندر اگر جماہوا یا نہ بہنے والا خون ہو تو وہ پاک ہے ۔عام طور پر شاپر  پر لگنے والا خون (دم مسفوح )بہنے والا خون نہیں ہوتا  بلکہ گوشت سے نکلنے والا خون ہوتا ہے ،وہ اگر ہاتھوں پر لگ جائےتو  اس سے ہاتھ ناپاک  نہیں ہوتے ،البتہ ہاتھ دھونا بہتر ہے ۔اگر یقین ہو کہ شاپر کو لگنے والا خون ڈرم سے لگا ہے جو کہ یقینا نجس ہے تو پھر وہ ہاتھ کو لگنے سے ہاتھ ناپاک ہوجائیں گے۔

حوالہ جات

وفي الہندية :

"النجاسة إن كانت غليظةً وهي أكثر من قدر الدرهم فغسلها فريضة والصلاة بها باطلة وإن كانت مقدار درهم فغسلها واجب والصلاة معها جائزة وإن كانت أقل من الدرهم فغسلها سنة وإن كانت خفيفة فإنها لا تمنع جواز الصلاة حتى تفحش. كذا في المضمرات. (الفتاوی العالمگیریہ :1/58)

المغلظة وعفي منها قدر الدرهم ۔۔۔۔۔والصحيح أن يعتبر بالوزن في النجاسة المتجسدة وهو أن يكون وزنه قدر الدرهم الكبير المثقال وبالمساحة في غيرها وهو قدر عرض الكف. هكذا في التبيين والكافي۔۔۔۔۔۔۔ هكذا في السراج الوهاج ناقلا عن الإيضاح كل ما يخرج من بدن الإنسان مما يوجب خروجه الوضوء أو الغسل فهو مغلظ كالغائط والبول والمني والمذي والودي ۔۔۔۔۔وكذلك الخمر والدم المسفوح ولحم الميتة ۔۔۔۔۔۔ نجس نجاسة غليظة هكذا في فتاوى قاضي خان ۔۔۔۔۔ فإذا أصاب الثوب أكثر من قدر الدرهم يمنع جواز الصلاة. كذا في المحيط.( الفتاوی العالمگیریہ : 1/ 46)

ثم النجاسة نوعان: غليظة، وخفيفة، فالغليظة إذا كانت قدر الدرهم أو أقل فهي قليلة لا تمنع جواز الصلاة، وإن كانت أكثر من قدر الدرهم منعت جواز الصلاة، ويعتبر الدرهم الكبير دون الصغير.( المحيط البرهاني:1/192)

ودم كل عرق نجس وكذا الدم السائل من سائر الحيوانات ۔۔۔۔ إذا أصاب الثوب لا يفسد وقيل إن زاد على قدر الدرهم أفسد وهو الظاهر.

(البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري: 1/ 241)

ومن أصابه من النجاسة المغلظة كالدم والبول والغائط والخمر مقدار الدرهم فما دونه جازت الصلاة معه، فإن زاد لم تجز.( اللباب في شرح الكتاب : 1/ 51)

عبدالوحید بن محمد طاہر

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

8جمادی الثانیہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالوحید بن محمد طاہر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب