03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دو طلاقوں کا حکم
87471طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

 8 مئی کو میرے  داماد نے میری بیٹی کو اپنے دونوں بڑے بچوں کے سامنے دو مرتبہ کہا کہ’’ میں اپنے دونوں بچوں کو گواہ بناکر تجھے طلاق دیتا ہوں‘‘۔ اب اس معاملے میں دین اسلام میں ہمارے لئے کیا رہنمائی ہے؟ کتنے دنوں کی عدت گزارنی ہوگی؟ رجوع کی کیا صورت ہوگی اور مہر کا کیا حکم ہو گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں جب آپ کے داماد  نے  اپنی بیوی کو دو طلاقیں  دی ہیں  تو اس کی بیوی پر دو رجعی طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ،اس کے بعد عدت یعنی مکمل تین ماہواریاں گزرنے سے پہلے تک شوہر کو رجوع کرنے کا اختیار ہے، اگر شوہر تین ماہواری گزرنے سے پہلے رجوع کرلیتا ہے تو شوہر  کا نکاح برقرار رہے گا، دوبارہ نئے سرے سے نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر زبان سے کہہ دے کہ "میں نے رجوع کرلیا" تو رجوع ہوجائے گا اور اگر زبان سے کچھ نہ کہے، مگر آپس میں میاں بیوی والا تعلق قائم کر لیں تب بھی رجوع ہو جائے گا، البتہ اگر عدت گزر گئی تو نکاح ٹوٹ جائے گا،پھر باہمی رضامندی سے نیا مہر مقرر کرکے گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ہوگا،  رجوع یا نکاح جدید کرنے کے بعد اب شوہرکو صرف ایک طلاق دینے کا اختیار باقی ہوگا ۔

نیز صورت مسئولہ میں نکاح کے وقت مقرر کردہ حق مہر اگر ابھی تک ادا نہ کیا ہو تو طلاق کے بعد طے شدہ مکمل حق مہر مطلقہ کا حق ہے ،جس کی ادائیگی شرعااس کے شوہر پر لازم ہے ، بیوی کا حق مہر ادا نہ کرنا ظلم ہے، جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔

حوالہ جات

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص213):

‌فروع: ‌كرر ‌لفظ ‌الطلاق ‌وقع ‌الكل،

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 293):

(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق،

الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 254):

‌وإذا ‌طلق ‌الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فأمسكوهن بمعروف} [البقرة: 231]

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 303):

(الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة) والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق، كذا في البدائع،

المبسوط للسرخسي (5/ 63):

‌والدليل ‌عليه ‌أنها تحبس نفسها؛ لاستيفاء المهر، ولا تحبس المبدل إلا ببدل واجب وإن بعد الدخول بها يجب.ولا وجه لإنكاره؛ لأنه منصوص عليه في القرآن،

  ارسلان نصیر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

  15 /ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب