| 90336 | نکاح کا بیان | نکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں |
سوال
ایک شادی شدہ شخص نے ایک بیوی اور اس سے ایک بچے کے ہوتے ہوئے، بیوی کواعتماد میں لیے بغیر دوسری شادی کی۔دوسری شادی کا نکاح اس طرح ہوا کہ نکاح میں صرف شوہر، دوسری منکوحہ اور قاضی موجود تھے۔ صرف ان تین شخصوں کی موجود گی میں بغیر ولی اور گواہوں کے نکاح ہواہے ۔ یہ بات شوہر نے اپنے اور لڑکی کےبہن بھائیوں کے سامنے بتائی ہے۔ اس بات کی تصدیق دوسری بیوی نے بھی کی ہے، اور بتایا کہ ہمارا نکاح کورٹ کے آدمی نے اپنے گھر پر پڑھایا ہے۔ یہ نکاح اس شرط پر ہوا تھا کہ جب تک میں اپنی پہلی بیوی کو راضی نہ کر لوں، اس وقت تک اس نکاح کا کسی کو علم نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ نکاح میں اپنی پہلی بیوی کی خدمت کے لیے کر رہا ہوں۔ اگر تم نے کسی کو بھی بتایا، تو میں تمہیں نہیں رکھ سکتا۔ لیکن دوسری بیوی نے اپنے گھر اور رشتےداروں کو بتادیا۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ
- کیا یہ اس طرح نکاح جائزہے؟ آیا یہ نکاح منعقد ہوگیاہے یا نہیں؟
- لڑکے کا یہ کہنا کہ" تم اگر یہ بات کسی کو بتادوگی تو میں تجھے نہیں رکھ سکتا"؛ کیا اس طرح کے جملے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟ اگر طلاق واقع ہوتی ہے، تو کتنی طلاقیں ہوئیں؟ برائے مہربانی اس مسئلہ کا جواب فقہ حنفی کی رو سے عنایت فرمادیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرد کے لیے دوسرا نکاح کرنا جائز ہے، لہٰذا اسے عام نکاح کی طرح اعلانیہ ہونا چاہیے۔ نیز اس میں پہلی بیوی کو رکاوٹ بھی نہیں ڈالنی چاہیے۔ تاہم اگر سوال میں ذکر کردہ تفصیل درست ہے کہ نکاح کے دوران قاضی کے علاوہ کوئی اور موجود نہیں تھا، تو یہ نکاح منعقد نہیں ہوا۔ عورت آزاد ہے، چاہے تو اسی شخص سے ازسرِ نو نکاح کرے یا کہیں اور نکاح کرے۔
حوالہ جات
رد المحتار ط الحلبي (3/ 22):
(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) على الأصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر.
رد المحتار ط : الحلبي(3/ 344):
(شرطه الملك)... ولو حكما (كقوله لمنكوحته) أو معتدته (إن ذهبت فأنت طالق)... (فلغا قوله لأجنبية إن زرت زيدا فأنت طالق، فنكحها، فزارت).
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
21/ذو القعدہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


