03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اجتماعی قربانی میں منافع رکھنے کا حکم
87515قربانی کا بیانقربانی کے متفرق مسائل

سوال

اجتماعی قربانی میں منافع رکھنے کے حوالے سے مندرجہ ذیل دو صورتوں میں رہنمائی درکار ہے۔

۱)اگر میں اپنی ذاتی سرمایہ کاری سے جانوروں کی خریداری کرتا ہوں اور ان میں سے کچھ جانور فروخت کر دیتا ہوں جبکہ کچھ اجتماعی قربانی کے لیے مخصوص کر دیتا ہوں، تو ایسی صورت میں اجتماعی قربانی میں منافع رکھنے کا شرعی حکم کیا ہوگا؟

۲)اسی طرح  اگر میں لوگوں کی طرف سے دیے گئے پیسوں سے اجتماعی قربانی کے لیے جانور خریدوں، تو اس صورت میں منافع رکھنے کا کیا شرعی  حکم کیا ہوگا؟

 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پہلی  صورت میں اگر آپ پہلے اپنے پیسوں سے اپنے لیے جانور خرید کر ان کو اپنے قبضے میں لے لیں، اس کے بعدمعمول کے مطابق منافع رکھ کر اجتماعی قربانی میں حصہ لینے والوں پر فروخت کردیں تو اس میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں ہے،  تاہم ، معمول سے  بہت زیادہ ذیادہ منافع رکھنا  مناسب نہیں ہے۔

دوسری صورت میں  اگر آپ جانور اپنے لیے نہیں خریدتے، بلکہ اجتماعی قربانی والوں کا سرمایہ لگا کر جانوروں کی خریداری کرتے ہیں تو اس صورت میں آپ کی حیثیت خریداری کے وکیل(وکیل بالشراء)  کی ہے ۔ وکالت اجرت کے بدلے بھی ہوتی ہے اور بطور تبرع بھی۔ بطورِ وکیل کوئی کام کرنے پر وکیل کو اجرت لینے کا حق اس وقت ہوتا ہے جب وکالت کے وقت صراحتاً اجرت کی شرط لگالی گئی ہو یا پھر یہ دوسرا آدمی (وکیل) معروف اجرت کے بدلے ہی کام کرنے میں مشہور ہو، یعنی اس کا پیشہ ہی یہ ہو کہ وہ معروف اجرت کے بدلہ کام کر تا  ہو۔ ۔ لیکن اگر ان دونوں باتوں میں سے کوئی ایک بھی موجود نہ ہو، تو وکیل کو مؤکل سے اجرت لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔

لہٰذا اجتماعی قربانی میں بھی اگر عقد کے وقت صراحتاً(قولی یا تحریری) اجرت حق الخدمت/سروس چارجز کے نام سے  مقرر کرکے  لی جائے ،تو  یہ شرعاً جائز ہے۔

حوالہ جات

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام(573/03):

"(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل ...لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة."

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (6/ 494):

قال (المرابحة نقل ما ملكه بالعقد الأول بالثمن الأول مع زيادة ربح.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 78):

‌أن ‌المشتراة ‌للأضحية ‌متعينة ‌للقربة إلى أن يقام غيرها مقامها فلا يحل الانتفاع بها ما دامت متعينة

ولهذا لا يحل له لحمها إذا ذبحها قبل وقتها....ويكره له بيعها لما قلنا، ولو باع جاز في قول أبي حنيفة ومحمد - عليهما الرحمة - لأنه بيع مال مملوك منتفع به مقدور التسليم وغير ذلك من الشرائط فيجوز، وعند أبي يوسف - رحمه الله - لا يجوز؛ لما روي عنه أنه بمنزلة الوقف ولا يجوز بيع الوقف ثم إذا جاز بيعها على أصلهما فعليه مكانها مثلها أو أرفع منها فيضحي بها فإن فعل ذلك فليس عليه شيء آخر، وإن اشترى دونها فعليه أن يتصدق بفضل ما بين القيمتين ولا ينظر إلى الثمن وإنما ينظر إلى القيمة حتى لو باع الأولى بأقل من قيمتها واشترى الثانية بأكثر من قيمتها وثمن الثانية أكثر من ثمن الأولى يجب عليه أن يتصدق بفضل قيمة الأولى، فإن ولدت الأضحية ولدا يذبح ولدها مع الأم كذا ذكر في الأصل."

           حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   15 /ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب