| 87472 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
ایک عورت کی شادی ہوئی۔اسے کچھ(آدھا) مہر ادا کر دیا گیا اور کچھ باقی رہا۔ کچھ عرصے بعد اسکے شوہر اور جیٹھ نے بہت کوشش کی کہ بقایا مہر کی ادائیگی کر دیں اور شوہر نے بیوی سے کہاکہ سونے کی سٹ بنوا دیں ،یا کوئی پلاٹ لےلو، لیکن اس نے کہہ دیا کہ مجھے کچھ بھی نہیں لینا اور کچھ عرصے بعد یہ طے پایا کہ آپ اپنے مکان میں میری رقم لگا کر اوپری پورشن بنوا دیں۔ شوہر نے بنوا دیا، اس کے بعد وہ روٹھ کے میکے چلی گئی اور معاملہ طلاق تک پہنچ گیا اور اب بیوی بقایا مہر کا مطالبہ کررہی ہے۔
اب سوال یہ ہے اگر طلاق ہو جائے تو شوہر کو بقایا حق مہر ادا کرنا ہو گا ،یا اسکی ادائیگی ہو چکی؟
نوٹ: زبانی تنقیح کروانے کے بعد یہ بات واضح ہوئی کہ جس مکان پر حق مہر کی رقم خرچ ہوئی ہےاس کا مالک شوہر ہے اور اوپر پورشن شوہر اپنے لئے ہی بنوارہا تھا۔ گھر میاں بیوی کا مشترک نہیں تھا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں درج تفصیلات اگر حقیقت کے مطابق ہیں تو اس کا شرعی حکم درج ذیل ہے:
۱۔صورت مسئولہ میں عورت کا یہ کہنا کہ "میں مہر نہیں لیتی ، یا نہیں لینا چاہتی " صرف ارادہ کا اظہار ہے ، مہر تب معاف ہوتا ہے جب بیوی بغیر کسی دباؤ کے دلی رضامندی سے شوہر کے لئے مہر ایسے صریح الفاظ سے معاف کردے جو کہ واضح طور پر مہر کی معافی پر دلالت کرتے ہوں۔چونکہ بعد میں بیوی نے شوہر سے یہ بھی کہا کہ میرے مہر کی رقم اوپر پورشن بنوانے پر خرچ کردے ، جس سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ مہر معاف نہیں کیا تھا۔
۲۔جب بعد میں بیوی نے دلی رضامندی سے شوہر کو اپنے مہر کی رقم خرچ کرنے کی اجازت دے دی تو یہ بیوی کی طرف سے شوہر کے لئے ہبہ (گفٹ)ہوگیااور شوہر نےوہ رقم اوپر منزل کی تعمیر میں خرچ بھی کردی ۔
چونکہ گھر کا مالک شوہر ہے اور اوپر پورشن بھی شوہر اپنے لئے ہی بنوارہا تھا اس لئے اب بیوی کو نہ تو مہر کے مطالبے کا حق ہے اور نہ ہی وہ گھر میں کسی قسم کی شراکت دار ہے،کیونکہ مہر اس نے ہبہ کردیا تھا ، اب وہ دوبارہ اس ہبہ میں شوہر پررجوع نہیں کرسکتی۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 162):
(قوله ولو وهبته لأحد) أي غير الزوج لأن هبة الدين لمن عليه الدين تصح مطلقا أما هبته لغيره فلا تصح ما لم يسلطه على قبضه فيصير كأنه وهبه حين قبضه، ولا يصح إلا بقبضه كما في جامع الفصولين (قوله لم تصح) أي الهبة.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (4/ 384):
(الباب الرابع في هبة الدين ممن عليه الدين) . هبة الدين ممن عليه الدين جائزة قياسا واستحسانا وهبة الدين من غير من عليه الدين جائزة إذا أمره بقبضه استحسانا، كذا في التتارخانية.
هبة الدين ممن عليه الدين وإبراءه يتم من غير قبول من المديون.
محمد اسامہ فاروق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
15/ذی القعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


