| 87990 | نماز کا بیان | سنتوں او رنوافل کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ظہر کی چار سنتیں (جو فرض سے پہلے ادا کی جاتی ہیں) مجھ سے رہ گئیں۔ میں نے فرض نماز کے بعد ان چار سنتوں کی نیت سے نماز شروع کی، لیکن غلطی سے دو رکعت پر سلام پھیر دیا۔ پھر میں نے ان دو رکعتوں کو ظہر کے بعد کی سنتیں شمار کر لیا اور دوبارہ نیت باندھ کر چار رکعتیں پڑھ لیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا میری پہلی دو رکعتیں (جن پر غلطی سے سلام پھیر دیا گیا تھا) کو سنت بعدیہ شمار کرنا درست ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ان دو اور چار رکعت والی نمازوں میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ یہ دونوں فرض کے بعد پڑھی گئی ہیں، اور دونوں ہی بقصدِ سنت اداکی گئی ہیں، لہٰذا ہے تو یہ سنت ہی، کیونکہ راجح قول کے مطابق سنتِ قبلیہ، جب بعد میں پڑھی جاتی ہے تو بھی وہ سنت ہی رہتی ہے۔ بس اتنی بھول اس پہلی نماز میں ہوئی ہے کہ نیت چار کی تھی اور پڑھی صرف دو گئی ہیں، اور اس کے بعد چار رکعت الگ سے بھی بقصدِ سنت پڑھی گئی ہیں، جس سے سنتوں کی مجموعی تعداد چھ پوری ہو گئی ہے۔ لہٰذا صرف اس بات سے کہ نیت چار کی تھی، یہ نماز سنت ہونے سے خارج نہیں ہوگی۔چونکہ یہ بقصدِ سنت بھی ادا کی گئی ہے اور اس میں بعدیت کی صفت بھی ہے۔ لہٰذا یہ ظہر کی سنتِ بعدیہ کے قائم مقام ہو سکتی ہے۔ تودو یہ ہو گئی، اور اس کے بعد جب سائل نے مزید چار رکعتیں بقصدِ سنت ادا کر لیں، تو سنتوں کی مجموعی تعداد چھ رکعت پوری ہو گئی۔ لہٰذا مزید دو رکعت سنت پڑھنا ضروری نہیں۔
حوالہ جات
فی البحر الرائق:
(قولہ وقضی التی قبل الظہر فی وقتہ قبل شفعہ) بیان لشیئین أحدھما القضاء والثانی محلہ أما الأول ففیہ اختلاف والصحیح أنہا تقضی کما ذکرہ قاضی خان فی شرحہ مستدلا بما عن عائشۃ أن النبی ﷺ ’’کان إذا فاتتہ الأربع قبل الظہر قضاہن بعدہ‘‘، وظاہر کلام المصنف أنہا سنۃ لا نفل مطلق وذکر قاضی خان أنہ إذا قضاہا فہی لا تکون سنۃ عند أبی حنفیۃ وعندہما سنۃ وتبعہ الشارح وتعقبہ فی فتح القدیر بأنہ من تصرف المصنفین فإن المذکور من وضع المسألۃ الاتفاق علی قضاء الأربع وإنما الاختلاف فی تقدیمہا أو تأخیرہا والاتفاق علی أنہا تقضی اتفاق علی وقوعہا سنۃ إلی آخر ما ذکرہ وأما الثانی فاختلف فیہ النقل عن الشیخین فذکر فی الجامع الصغیر للحسامی أن أبا یوسف یقدم الرکعتین ومحمد یؤخرہما وفی المنظومۃ وشروحہا علی العکس وفی غایۃ البیان ویحتمل أن یکون عن کل واحد من الإمامین روایتان ورجح فی فتح القدیر تقدیم الرکعتین لأن الأربع فاتت عن الموضوع المسنون فلا یفوت الرکعتین عن موضعہما قصدا بلا ضرورۃ۔ اھـ (ج۲، ص۸۵)۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 59):
"(بخلاف سنة الظهر) وكذا الجمعة (فإنه) إن خاف فوت ركعة (يتركها) ويقتدي (ثم يأتي بها) على أنها سنة (في وقته) أي الظهر (قبل شفعه) عند محمد، وبه يفتى جوهرة.
(قوله: وبه يفتى) أقول: وعليه المتون، لكن رجح في الفتح تقديم الركعتين. قال في الإمداد: وفي فتاوى العتابي، أنه المختار، وفي مبسوط شيخ الإسلام أنه الأصح؛ لحديث عائشة «أنه عليه الصلاة والسلام كان إذا فاتته الأربع قبل الظهر يصليهن بعد الركعتين». وهو قول أبي حنيفة، وكذا في جامع قاضي خان اهـ والحديث قال الترمذي: حسن غريب، فتح".
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 53)
المتون على ظاهر الرواية من أنه لا يلزمه بالشروع في السنن إلا ركعتان لم تكن في حكم صلاة واحدة من كل وجه، ولم يكن في التسليم على الركعتين إبطالا لها وإبطال وصف السنية لما هو أقوى منه مع إمكان تداركها بالقضاء بعد الفرض لا محذور فيه فتدبر.
قال ابن عابدین: (قولہ لان کل شفع منہ صلاۃ) لتمکنہ من الخروج علی رأس الرکعتین فاذا قام الی شفع آخر کان بانیا صلاۃ علی تحریمۃ صلاۃ ومن ثم صرحوا بانہ لو نوی اربعا لا یجب علیہ بتحریمتہا سوی الرکعتین فی المشہور عن اصحابنا وان القیام الی الثالثۃ بمنزلۃ مبتدأۃ حتی ان فساد الشفع الثانی لا یوجب فساد الشفع الاول الخ۔(ردالمحتار ہامش الدرالمختار ص۳۳۹ جلد۱ مطلب کل شفع من النفل صلاۃ)
فتح القدیر:
والاولیٰ تقدیم الرکعتین لان الاربع فاتت عن الموضع المسنون فلا تفوت الرکعتان ایضا عن موضعہما قصدا بلا ضرورۃ۔ (فتح القدیر ص۴۱۵ جلد۱ باب ادراک الفریضۃ)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
11/1/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


