| 87517 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | دلال اور ایجنٹ کے احکام |
سوال
ایک شخص نے بی سی جمع کرنے کی ذمہ داری لی ہے،اور ساتھ میں یہ بھی اس کے ذمہ ہے کہ اگر کوئی شخص بی سی لےکر غائب ہوجائے تو یہ شخص ذمہ دار ہوگا۔اس ذمہ داری کی وجہ سے وہ بغیر قرعہ اندازی کے پہلی بی سی بھی وصول کرتا ہے اورکٹوتی بھی کرتا ہے یہ کہتے ہوئےکہ یہ میرا حق ہے ۔ کیا اس شخص کےلئے بی سی سے کٹوتی جائز ہے یا نہیں؟۔ بعض مرتبہ تو یہ شخص بی سی میں صرف اپنی پہلی قسط جمع کر کے دوبارہ نہیں جمع کرتے، کیونکہ اس شخص کے ذمے واجب قسط کٹوتی سےپوراہو جاتا ہے، تواس کومزید اپنی جیب سے پیسے ملانے کی ضرورت نہیں پڑھتی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بی سی (کمیٹی) کے تمام شرکاء کی باہمی رضامندی سے اگر ابتداءً یہ طے ہوجائے کہ پہلی کمیٹی منتظم لے گا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔جہاں تک اجرت لینے کی بات ہے ،تو اگر بی سی جمع کرنے والا صرف ذمہ داری لیتا ہےکہ اگر کوئی حصہ دار قسطیں وصول کرنے کے بعد غائب ہوجائے تو وہ ذمہ دار ہوگا ،جبکہ بی سی جمع کرنے کےلئے کوئی محنت نہیں کرتا ،تو فقط ضمانت اور ذمہ داری پر اجرت لینا جائز نہیں۔لیکن اگر بی سی جمع کرنے والےکا بی سی کے تمام ممبران سے ابتداءً یہ طے ہوجائے کہ بی سی اکٹھی کرنے کے سلسلے میں مجھے جو محنت کرنی پڑے گی، اس کے عوض میں اتنی رقم(رقم متعین کرنا لازم ہے ) بطور اجرت وصول کروں گا اور وہ اس پر راضی ہوں اور اسے باقاعدہ محنت اور عمل کرنا پڑتا ہو تو اس محنت اور عمل پراجرت وصول کرنا جائز ہوگااور یہ اجرت بی سی کی قسطوں کی شکل میں بھی لی جاسکتی ہے۔ اگر عمل نہ کرنا پڑتا ہو تو اجرت وصول کرنا جائز نہیں ۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 4):
(تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض).... (وكل ما صلح ثمنا) أي بدلا في البيع (صلح أجرة) لأنها ثمن المنفعة ولا ينعكس كليا. (قوله تمليك) جنس يشمل بيع العين والمنفعة.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 5):
وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.
لسان الحكام (ص255):
ولا تصح الكفالة إلا ممن يملك التبرع لأن الكفالة عقد تبرع فتصح ممن يملك التبرع ولا تصح ممن لا يملكه فلا تنعقد كفالة المجنون والصبي ولا تجوز كفالة المكاتب عن الأجنبي.
مجلة مجمع الفقه الإسلامي (7/ 544):
أنه أجرة على الكفالة، وبما أن الأجرة على الكفالة لا تجوز شرعًا.
فقة البيوع (2/115):
واما اذا كان خطاب الضمان غير مغطى فانه كفالة فقط........... ولكن الذى لا يجوز اخذ العمولة عليه هو الضمان نفسه ، وهو الذي يجب ان يكون تبرعا.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
14/ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


