| 89118 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
سوال: اگر پاکستان کی حکومت — جو آئینی طور پر ایک اسلامی حکومت ہے — کسی سرکاری اسکیم کے تحت یا کسی اور مد میں قرض فراہم کرے، اور اس قرض میں سود بھی شامل ہو، اور یہ قرض بلا واسطہ یعنی کسی سرکاری بینک یا سرکاری ادارے کے ذریعے دیا جائے، تو کیا ایسے قرضے کا لینا جائز ہے یا نہیں؟ مزید یہ کہ اگر کوئی شہری ایسا قرض لے لیتا ہے، تو گناہ کس پر آئے گا؟ کیا گناہ صرف دینے والے پر ہوگا (یعنی حکومت پاکستان پر) یا قرض لینے والے پر بھی آئے گا؟ کیونکہ بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اس طرح کا قرض اختیار قرض کہلاتا ہے اور اس کا گناہ صرف حکومت پر ہوتا ہے، شہری پر نہیں۔ اس بارے میں جامع اور واضح رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
تنقیح:سائل سے زبانی معلوم ہوا ہے کہ وہ کسی خاص سکیم کے بارے میں نہیں پوچھ رہا، بلکہ عمومی حکم پوچھ رہا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حکومتی فائنانسنگ کی جتنی بھی اسکیمیں ہوتی ہیں، ان میں بالعموم دو صورتیں ہوتی ہیں:
پہلی صورت یہ ہے کہ فائنانسنگ اسلامی بینک کے ذریعے دی جاتی ہے، جو مستند علمائے کرام کی نگرانی میں کام کرتے ہیں۔یہ فنانسنگ اس طرح ہوتی ہے کہ شرعی اصولوں کے مطابق، بینک رقم پر براہِ راست نفع کمانے کی بجائے اثاثوں کی خرید و فروخت یا شراکت میں حصہ لیتا ہے؛ مثلاً"مرابحہ" میں چیز نفع پر "بیچتا" ہےیا"اجارہ" میں چیز "کرائے" پر دیتا ہے، اور چونکہ یہ تمام صورتیں تجارت یا خدمات کی اجرت ہیں، اس لیے یہ جائز ہیں اور قرض پر لیے جانے والے ممنوع سود کے زمرے میں نہیں آتیں۔لہٰذا یہ صورت جائز ہے۔
دوسری صورت یہ کہ فائنانسنگ کسی سودی بینک کے ذریعے لی جاتی ہے اور اس پر بینک اضافی رقم (سود) وصول کرتا ہے۔ یہ صورت حرام اور ناجائز ہے، اِس سے بہر صورت بچنا لازم ہے۔
البتہ، بسا اوقات حکومت فائنانسنگ اسکیمیں سودی بینکوں کے ذریعے فراہم کرتے ہیں، لیکن حکومت ہی ان پر سبسڈی دیتی ہے، اور اس سبسڈی کے دو مختلف ماڈل ہیں:
یہ صورت نسبتاً عام ہے، جسے 'انٹرسٹ/مارک اپ سبسڈی' (Interest Subsidy) کہا جاتا ہے۔ اِس ماڈل میں، بینک صارف کے ساتھ مکمل تجارتی سود (مثلاً 15٪) کا معاہدہ کرتا ہے۔ صارف کو صرف ایک کم شرح (مثلاً 4٪) ادا کرنے کا کہا جاتا ہے، جبکہ باقی سود (مثلاً 11٪) حکومت اپنی طرف سے بینک کو ادا کرتی ہے (یا: ادا کرنے کا ذمہ لیتی ہے)۔ چونکہ صارف کا اصل معاہدہ ہی سودی ہے (چاہے سود کا بڑا حصہ حکومت ادا کرے)، اس لیے یہ سود والا معاملہ ہی شمار ہوگا اور اس سے بچنا لازم ہے۔
دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ اس میں حکومت بینک کو اس پر آمادہ کرتی ہے، کہ وہ صارف کے ساتھ قرض کے معاہدے پر شرح سود "صفر فیصد" (0%) رکھے۔ اس کے بدلے حکومت، بینک کو (کسی اور طریقے سے) اس پروگرام میں شرکت کا معاوضہ یا سبسڈی ادا کرتی ہے۔ چونکہ صارف کا معاہدہ براہِ راست بلاسود ہوتا ہے، اس لیے اس میں گنجائش ہوسکتی ہے۔
سودی لین دین میں ملوث تمام فریق گناہ میں برابر کے شریک ہیں۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے (لینے والے)، کھلانے والے (دینے والے)، اس (معاہدے) کو لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ "یہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔" اس حدیث سے واضح ہے کہ سودی قرض لینے والا شہری بھی اس گناہ میں برابر کا شریک اور گناہ گار ہوگا۔
شریعت میں "اختیارِ قرض" کی کوئی اصطلاح یا گنجائش نہیں ہے، یہ ایک بے بنیاد مغالطہ ہے۔
حوالہ جات
صحیح مسلم – 1598
حدثنا محمد بن الصباح ، وزهير بن حرب ، وعثمان بن أبي شيبة ، قالوا : حدثنا هشيم ، أخبرنا أبو الزبير، عن جابر، قال : " لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال : هم سواء ".
فتح القدیر (232/7)
قال: (ويكره السفاتج وهي قرض استفاد به المقرض سقوط خطر الطريق) وهذا نوع نفع استفيد به «وقد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قرض جر نفعاً . وقيل: هذا إذا كانت المنفعة مشروطة وأما إذا لم تكن فلا بأس بذلك.
النھر الفائق (469/3)
(الربا: هو فضل مال بلا عوض في معاوضة مال بمال وعلته) الحقہ بالمرابحة لما أن في كل منها زيادة إلا أن تلك جائزة وهذه منهية والإباحة أصل فقدمت وهو بكسر الراء وفتحها خطأ مقصور على الأشهر لغة مطلق الزيادة ومنه : فلا يربوا عند الله ﴾ [الروم : ٣٩] أطلق في التنزيل تارة على الزائد نفسه ومنه قوله تعالى : ولا تأكلوا الربا ﴾ [آل عمران: ۱۳۰ ] أي الزائد في القرض وفي بيع الأموال الربوية عند بيع بعضها بجنسه وأخرى على نفس الزيادة بالمعنى المصدري ومنه وأحل الله البيع وحرم الربا [ البقرة : ٢٧٥ ] أي حرم أن يزاد في القرض على القدر المدفوع، وفي بيع الأموال بجنسها قدراً ليس مثله في الآخر وعرفاً (هو فضل مال) ولو حكما فدخل ربا النسيئة والبيوع الفاسدة كالبيع بشرط فإنهم جعلوها من الربا وهذا أولى من قول بعضهم المقصر تعريف الربا المتبادر عند الإطلاق وذلك إنما هو رد الفضل (بلا (عوض خرج به ما سيأتي في الصرف من أنه لو باعه کر بر وشعير بضعفهما جاز بصرف الجنس إلى خلاف جنسه فضل قفيزي شعير على قفيز بر فإنه بعوض (في معاوضة مال خرج به الهبة.
بدائع الصنائع (188/8)
ورواه البيهقي في المعرفة عن فضالة بن عبيد، موقوفا بلفظ : «كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا ورواه في السنن الكبرى عن ابن مسعود وأبي بن كعب وعبد الله بن سلام وابن عباس - رضي الله عنهم - موقوفا عليهم اهـ. وفي مختصر "إغاثة اللهفان لابن القيم المسمى "بتبعيد الشيطان" منع رسول الله صلى الله عليه وسلم من القرض الذي يجر النفع وجعله ربا ومنع من قبول هدية المقترض إن لم يكن بينهما عادة جارية بذلك قبل القرض". ففي سنن ابن ماجه عن يحيى بن إسحاق الهنائي، قال: سألت أنس بن مالك والرجل منا يقرض أخاه المال فيهدي إليه، فقال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا أقرض أحدكم قرضا فأهدى إليه أو حمله على الدابة فلا يركبها ولا يقبله إلا أن يكون جرى بينه وبينه قبل ذلك" ، وروى البخاري في تاريخه عن بريدة بن أبي يحيى الهنائي عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :" إذا أقرض أحدكم فلا يأخذ هدية" ، وفي صحيح البخاري عن أبي بردة عن أبي موسى: قدمت المدينة، فلقيت عبد الله بن سلام فقال لي: «إنك بأرض الربا فيها فاسق فإذا كان لك على رجل حق فأهدي إليك حمل تبن أو شعير فلا تأخذه فإنه ربا، وجاء هذا المعنى عن ابن مسعود وابن عباس وابن عمر وغيرهم والمراد بالكراهة الكراهة التحريمية، كما يفيده تعليلهم بأنه ربا، وهي المرادة من الحرمة في قول من تكلم بحرمة المشروط فإن المكروه التحريمي قريب من الحرام.
1) PM Youth Loan Scheme: (https://www.sbp.org.pk/smefd/circulars/2022/C12.htm)
Term loans/ working capital loans including murabaha and leasing/financing of machinery and locally manufactured vehicles for commercial use.
Bank Rate: T1: KIBOR+9% which includes wholesale lenders margin of KIBOR+1% and Microfinance Banks (MFBs)/Microfinance Institutions (MFIs) margin of 8%.
T2 & T3: KIBOR+3%
Six months KIBOR offer will be used for calculation of mark-up subsidy.
End User Rate: T1: 0%, T2: 5%, T3: 7%
2):Mera Pakistan, Mera Ghar(MPMG) Govt Markup Subsidy Scheme:(https://www.sbp.org.pk/MPMG/index.html)
2):Mera Pakistan, Mera Ghar(MPMG) Govt Markup Subsidy Scheme:(https://www.sbp.org.pk/MPMG/index.html)
Tier 1:
-
Borrower will be charged financing rate of
-
3 percent for first five years
-
5 percent for next five years
-
KIBOR + up to 250 bps for the remaining financing tenor
-
ظہوراحمد
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
27جمادی الاولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


