03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیاحرمت مصاہرت کے لیے خواہش جماع شرط ہے؟
89983نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

حرمت مصاہرۃ ثابت ہونے کے لیے جو شرائط ہیں، اُن میں سے ایک شرط شہوت کے ساتھ چھونا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ شہوت کی مقدار کتنا ہے یا اس کا معیار کیا ہے؟ کیا جماع کی خواہش (ہم بستری کی نیت) بھی شرط ہے؟ یعنی کیا شہوت کے ساتھ ساتھ جماع کی نیت کا ہونا بھی ضروری ہے؟ کیونکہ امداد الاحکام میں فصل فی أحكام حرمۃ المصاهرة میں اس طرح کی ایک بحث موجود ہے، (حسن المحاضرة في تحقيق بعض شرائط حرمۃ المصاهرة، امداد الأحكام: ج-4 صفحہ-364-380 زكريا بك)  جہاں یہ کہا گیا ہے کہ شہوت کے ساتھ ساتھ جماع کی خواہش کا ہونا بھی شرط ہے۔ لہٰذا یہ جاننا مقصود ہے کہ امداد الاحکام کی یہ بات کس حد تک صحیح ہے؟ ہم اس مسئلے میں تردد اور الجھن کا شکار ہیں، اس لیے درست بات کی وضاحت کے ساتھ ساتھ امداد الاحکام کے اس مقام کی توجیہ بھی درکار ہے—کہ وہاں اصل مقصد کیا ہے؟ مجموعی طور پر اس مسئلے کی تحقیق مطلوب ہے: یعنی شہوت کا معیار کیا ہوگا؟ اور کیا اس کے ساتھ ساتھ جماع کی خواہش کا پایا جانا بھی ضروری ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی ممکنہ حد تک جلد سے جلد اس سوال کا حل فراہم کرنے کی درخواست ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جس مرد کو  عموما بوقت شہوت انتشار ہوتا ہو اس میں شہوت کا معیار یہ  ہے کہ بوقت مس انتشار ہو جائے اور اگر پہلے سے انتشار ہو تو اس میں اضافہ  ہو جائے۔جس مرد میں بوقت شہوت عموما انتشار نہ ہوتا ہو اور اسی طرح عورت میں حد شہوت یہ ہے کہ قلب میں حرکت مشوشہ پیدا ہو جائے اگر پہلے سے حرکت ہو تو زیادہ ہو جائے۔

      نیز حرمت مصاہرت کے ثبوت کے لیے   علت رغبت جماع ہے البتہ چونکہ رغبت جماع کا وجود امر باطنی ہے لہذا  اگر لمس یا نظر خاص  کی وجہ  سے دل میں ہیجان ہو جائے اور عضو میں حرکت پیدا ہو جائےتو  رغبت جماع  دلالۃ موجود  مانی جائے گی ، پس اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجائے گی ،  اگرچہ وہ رغبت جماع کا انکار کرے ، کیونکہ ظاہر اس کے بیان کی تکذیب کرتاہے۔ ہاں اگر قرائن قویہ سے ثابت ہو کہ ملموسہ سے رغبت جماع نہیں تھی  تو حرمت مصاہرت کا حکم نہ لگے گا ۔          "حسن المحاضَرۃ في تحقيق بعض شرائط حُرْمَۃِ المصاهرة" کے آخر میں حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے جو خلاصہ بیان فرمایا ہے، اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ حرمتِ مصاہرت کے ثبوت کے لیے رغبتِ جماع شرط ہے۔ جبکہ جمہور مفتیانِ کرام کے فتاویٰ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف شہوت کے وجود ہی سے حرمتِ مصاہرت کا حکم لگایا جائے گا۔

ان دونوں باتوں میں یوں تطبیق دی جا سکتی ہے کہ حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ کا یہ  قول کہ"رغبتِ جماع شرط ہے"اصل علت کے اعتبار سے ہے اور جمہور مفتیانِ کرام کے فتاویٰ سے جو معلوم ہوتا ہے کہ "حرمتِ مصاہرت کے لیے محض شہوت کا وجود کافی ہے" یہ حکم کے ظاہری مدار کے اعتبار سے ہے، کیونکہ عموماً انتشار کی صورت میں رغبتِ جماع بھی پائی جاتی ہے، اس لیے ظاہری علامت ہی پر حکم کا مدار رکھ دیا گیا۔ اسی بنا پر حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ  نے "امدادالفتاوی (5/32)" میں حرمتِ مصاہرت کے ثبوت کے لیے صرف شہوتِ معتبرہ پر اکتفا فرمایا ہے اور رغبتِ جماع کی شرط نہیں لگائی۔

حوالہ جات

احسن الفتاوی (5/76)

حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ  ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: "جانبین میں سے کسی ایک میں بوقت مس شہوت پیداہوجائے تو حرمت ثابت ہوجاتی ہے، مس کے بعد شہوت کا کوئی اعتبار نہیں۔ شہوت کی مقدار ایسے مرد میں جس کی صحت ایسی ہو کہ عموما بوقت شہوت اسے انتشار ہوتا ہو یہ ہے کہ بوقت مس انتشار ہو جائے اور پہلے سے انتشار ہو تو اس میں زیادتی ہو جائے۔ایسے مرد میں جسے خرابی صحت کے باعث بوقت شہوت عموما انتشار نہ ہوتا ہو اسی طرح عورت میں حد شہوت یہ ہے کہ قلب میں حرکت مشوشہ پیدا ہو جائے اگر پہلے سے حرکت ہو تو زیادہ ہو جائے"۔

فتاویٰ محمودیہ۔ (11/372)

حرمت مصارت کے لیے حقیقی زنا شرط نہیں بلکہ یہ حرمت مس بالشہوت اور تقبیل بالشہوت سے بھی ثابت ہوتی ہے ۔

 المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 63)

 وكما ثبتت هذه الحرمة بالوطء تثبت بالمسّ والتقبيل والنظر إلى الفرج بشهوة سواء كان بنكاح أو ملك أو فجور عندنا إذا كان المحل مشتهاه، ولا تثبت هذه الحرمة بالنظر إلى سائر الأعضاء وإن كان عن شهوة وحد، والشهوة: أن تنتشر آلته إليه بالنظر إلى الفرج أو المس إذا لم يكن منتشراً قبل هذا، وإذا كان منتشراً فإن كان يزداد قوة و..... بالنظر والمسّ كان ذلك عن شهوة وما (لا) فلا، وهذا إذا كان شاباً قادراً على الجماع، وإن كان شيخاً أو عنيناً فحدُّ الشهوة أن يتحرك قلبه بالاشتهاء إن لم يكن متحركاً قبل ذلك، ويزداد الاشتهاء إن كان متحركاً فهذا هو حدّ الشهوة التي حكاها.... عن أصحابنا رحمهم الله، وإليه مال شيخ الإسلام المعروف بخواهر زاده وشمس الأئمة السرخسي رحمهما الله.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 105)

 والزنا واللمس والنظر بشهوة يوجب حرمة المصاهرة.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 38)

وقدمنا عن الذخيرة أن الأصل فيه عدم الشهوة مثل النظر، فيصدق إذا أنكر الشهوة إلا أن يقوم إليها منتشرا أي لأن الانتشار دليل الشهوة، وكذا إذا كان المس على الفرج كما مر عن الحدادي؛ لأنه دليل الشهوة غالبا.

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 188)

ومن مسته امرأة بشهوة حرمت عليه أمها وبنتها.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 33)

والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى وفي امرأة ونحو شيخ كبير تحرك قبله أو زيادته وفي الجوهرة: لا يشترط في النظر لفرج تحريك آلته به يفتى هذا إذا لم ينزل فلو أنزل مع مس أو نظر فلا حرمة به يفتي.

 الفتاوى الهندية (1/ 275)

والشهوة تعتبر عند المس والنظر حتى لو وجدا بغير شهوة ثم اشتهى بعد الترك لا تتعلق به الحرمة

وحد الشهوة في الرجل أن تنتشر آلته أو تزداد انتشارا إن كانت منتشرة، كذا في التبيين. وهو الصحيح، كذا في جواهر الأخلاطي. وبه يفتى، كذا في الخلاصة. فمن انتشرت آلته فطلب امرأته وأولجها بين فخذي ابنتها لا تحرم عليه أمها ما لم تزدد انتشارا، كذا في التبيين. هذا الحد إذا كان شابا قادرا على الجماع فإن كان شيخا أو عنينا فحد الشهوة أن يتحرك قلبه بالاشتهاء إن لم يكن متحركا قبل ذلك ويزداد الاشتهاء إن كان متحركا، كذا في المحيط

وحد الشهوة في النساء والمجبوب هو الاشتهاء بالقلب والتلذذ به إن لم يكن وإن كان فازدياده، كذا في شرح النقاية للشيخ أبي المكارم. ووجود الشهوة من أحدهما يكفي وشرطه أن لا ينزل حتى لو أنزل عند المس أو النظر لم تثبت به حرمة المصاهرة، كذا في التبيين. قال الصدر الشهيد وعليه الفتوى، كذا في الشمني شرح النقاية. ولو مس فأنزل لم تثبت به حرمة المصاهرة في الصحيح؛ لأنه تبين بالإنزال أنه غير داع إلى الوطء، كذا في الكافي. ولو نظر إلى دبر المرأة لا تثبت به حرمة المصاهرة، كذا في فتاوى قاضي خان. وكذا لو وطئ في دبرها لا تثبت الحرمة، كذا في التبيين. وهو الأصح هكذا في المحيط. وعليه الفتوى هكذا في جواهر الأخلاطي

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 188)

ثم إن المس بشهوة أن تنتشر الآلة أو تزداد انتشارا هو الصحيح والمعتبر النظر إلى الفرج الداخل ولا يتحقق ذلك إلا عند اتكائها ولو مس فأنزل فقد قيل إنه يوجب الحرمة والصحيح أنه لا يوجبها لأنه بالإنزال تبين أنه غير مفض إلى الوطء وعلى هذا إتيان المرأة في الدبر.

امداداللہ فینوی بن مفتی شہیداللہ

تخصص فی الافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی

15/شوال/1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

امداد الله بن مفتی شہيد الله

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب