03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مختلف قسم کےاخراجات سے ،واجب التصدق حرام مال کا تناسب کم نہیں ہوتا
89571جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

اگر کسی ادارے کے اموال حلال اور حرام مال(سود،غصب) کے ساتھ مخلوط ہوں  اور ادارے نے اسی مخلوط مال سے کوئی ناجائز عقد مثلاً کمرشل لیز کیا ، جس پر 0.3 ملین روپے کے بلا واسطہ اخراجات آئے تو کیا اس ناجائز عقد  کے یہ 0.3 ملین کے اخراجات مکمل طور پر حرام مال سے شمار کیے جاسکتے ہیں تاکہ مخلوط مال میں حرام کا تناسب کم ہوجائے یا انہیں حلال اور حرام مال کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جیسا کہ سوال میں وضاحت کی گئی ہے کہ حرام مال سے مراد سود اور غصب کے ذریعے حاصل ہونے والا حرام مال ہے،تو یاد رہے کہ ایسے حرام مال پر حامل کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی ،لہٰذا ایسے مال کو اس کے اصل مالکان یا ان کے ورثاء تک پہنچانا ضروری ہے،اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہوتو ان کی جانب سے اس مال کو بلا نیتِ  ثواب صدقہ کرنا ضروری ہے،البتہ یہ حکم اس وقت ہے جب ایسا حرام مال دیگر اموال سے خلط نہ ہوا ہو،لیکن اگر حامل نے اسے اپنے دیگر اموال کے ساتھ خلط کردیا یا ان میں تصرف کرکے ان کی ہیئت کو تبدیل کردیا تو اس کے ذمہ بدل کی ادائیگی لازم اور ضروری ہے،البتہ اب اس مال میں اس کی ملکیت آجائے گی لیکن ملکیت آنے کے باوجود اس مال سے انتفاع جائز نہیں ہے،ہاں اگر اصل مالک کو اس کا بدل دے دے یا بدل پر راضی کرلے تو حامل کے لیے ایسے مال سے انتفاع جائز ہوگا۔

مذکورہ تفصیل کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ حرام کو حلال کے ساتھ خلط کردینے سے حرام حلال نہیں ہوجاتا بلکہ حرام مال کے بقدر مال کی مالکان تک واپسی یا واپسی ممکن نہ ہونے کی صورت میں ان کی طرف سے باقاعدہ صدقہ کرنا ضروری ہوتا ہے،اسی طرح مزید اگر کوئی ناجائز عقد کیا ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے کہ کمرشل لیز کا معاملہ کیا ہے اور اس پر کچھ اخراجات ہوئے ہیں تو وہ اخراجات پہلے سے ذمہ میں موجود حرام مال کی مقدار سے منہا نہیں کیے جائیں گے، بلکہ ذمہ اسی وقت فارغ ہوگا جب مکمل حرام رقم یا تو اصل مالکان تک کسی طرح پہنچائی جائے یا ایسا ممکن نہ ہونے کی وجہ سے مالکان کی طرف سے صدقہ کردی جائے،لہٰذا مذکورہ صورت میں اخراجات کے باوجود واجب التصدق حرام مال کا تناسب حسب سابق ہی رہے گا،اخراجات سے وہ کم نہ ہوگا۔

حوالہ جات

(فقہ البیوع:۲/۱۰۳۱)

وقد اشتھر علی الألسُن أن  حکم التعامل مع من کان مالُہ مخلوطا بالحلال والحرام أنہ اؔن کان الحلال فیھا أکثر،جاز التعامل معہ بقبول ھدیتہ وتعاقد البیع والشراء معہ،وبذٰلک صدرت بعض الفتاوی،ولکن مایتحقق بعد سبر کلام الفقہاء الحنفیۃ فی ھذا الموضوع أن اعتبار الغلبۃ انما ھو فیما اذا کان الحلال متمیزا عن الحرام عند صاحبہ،ولا یعلم المتعامل معہ أن مایعطیہ من الحلال أو من الحرام ،فحینئذ تعتبر الغلبۃ،بمعنی انہ ان کان اکثر مالہ حلالا،یفرض أن مایعطیہ من الحلال،والعکس بالعکس،کما قدمنا نصوصہ فی الصورۃ الاولی.أما اذا کان مخلوطا بالحرام دون تمییز أحدھما بالآخر،فانہ لا عبرۃ بالغلبۃ فی ھذہ الحالۃ فی مذھب الحنفیۃ، بل یحل الانتفاع من المخلوط بقدر الحلال، سواء اکان الحلال قلیلا ام کثیرا.

(الاختیار لتعلیل المختار:۳/۶۱)

والملک الخبیث ،سبیلہ التصدق بہ…

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 153)

(وأما) صفة الملك الثابت للغاصب في المضمون: فلا خلاف بين أصحابنا في أن الملك الثابت له يظهر في حق نفاذ التصرفات، حتى لو باعه، أو وهبه، أو تصدق به قبل أداء الضمان ينفذ، كما تنفذ هذه التصرفات في المشترى شراء فاسدا، واختلفوا في أنه هل يباح له الانتفاع به بأن يأكله بنفسه، أو يطعمه غيره قبل أداء الضمان، فإذا حصل فيه فضل هل يتصدق بالفضل؟ قال أبو حنيفة - رضي الله عنه - ومحمد - رحمه الله -: لا يحل له الانتفاع، حتى يرضي صاحبه، وإن كان فيه فضل يتصدق بالفضل، وقال أبو يوسف - رحمه الله -: يحل له الانتفاع ولا يلزمه التصدق بالفضل إن كان فيه فضل، وهو قول الحسن وزفر رحمهما الله وهو القياس، وقول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله استحسان.

(وجه) القياس أن المغصوب مضمون لا شك فيه، وهو مملوك للغاصب من وقت الغصب على أصل أصحابنا، فلا معنى للمنع من الانتفاع وتوقيف الحل على رضا غير المالك، كما في سائر أملاكه، ويطيب له الربح؛ لأنه ربح ما هو مضمون ومملوك، وربح ما هو مضمون غير مملوك يطيب له عنده لما نذكر، فربح المملوك المضمون أولى.

(وجه) الاستحسان ما روي أنه - عليه الصلاة والسلام - أضافه قوم من الأنصار فقدموا إليه شاة مصلية فجعل - عليه الصلاة والسلام - يمضغه ولا يسيغه، فقال - عليه الصلاة والسلام -: «إن هذه الشاة لتخبرني أنها ذبحت بغير حق، فقالوا: هذه الشاة لجار لنا ذبحناها لنرضيه بثمنها، فقال - عليه الصلاة والسلام - أطعموها الأسارى، أمر - عليه الصلاة والسلام - بأن يطعموها الأسارى» ، ولم ينتفع به ولا أطلق لأصحابه الانتفاع بها، ولو كان حلالا طيبا لأطلق مع خصاصتهم وشدة حاجتهم إلى الأكل، ولأن الطيب لا يثبت إلا بالملك المطلق.وفي هذا الملك شبهة العدم؛ لأنه يثبت من وقت الغصب بطريق الاستناد، والمستند يظهر من وجه ويقتصر على الحال من وجه، فكان في وجوده من وقت الغصب شبهة العدم، فلا يثبت به الحل والطيب، ولأن الملك من وجه حصل بسبب محظور، أو وقع محظورا بابتدائه، فلا يخلو من خبث، ولأن إباحة الانتفاع قبل الإرضاء يؤدي إلى تسليط السفهاء على أكل أموال الناس بالباطل، وفتح باب الظلم على الظلمة، وهذا لا يجوز.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

15.رجب1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب