| 90205 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
مفتیانِ کرام! ایک شوہر اور بیوی کے درمیان چھوٹے چھوٹے اختلافات تھے،توشوہر نے بیوی کو میکے بھیج دیا ۔ اب عرصہ تین سال گزر گئے ہیں، لیکن شوہرنے بیوی سےیااس کے گھر والوں میں سے کسی سے رابطہ نہیں کیا۔ بیوی کے والد نے رابطے کی کوشش کی، لیکن شوہرکی طرف سے انکار ہوا۔ بیوی میں کوئی ایسی خرابی نہیں تھی کہ اس کو گھر سے نکالا جاتا ۔بیوی کا سونا جو اس کے والد نے بنایا تھا ،وہ بھی کچھ شوہر کے گھر والوں نے بیچ دیا ہے اور کچھ ان کے پاس ہے۔ اب پوچھنا یہ ہےکہ اگر بیوی طلاق کا مطالبہ کرتی ہے یاشوہر اسےچھوڑتاہے، تو دونوں صورتوں میں بیوی کے سونے پر کس کا حق ہوگا؟ جبکہ سوناکسی کو گفٹ نہیں کیاہے، اور اس عرصے کانان ونفقہ، علاج معالجہ اور رہائش شوہر کی ذمہ داری ہوگی یانہیں ؟ اگر ہاں، تو فی مہینہ کتنا خرچہ لازم ہوگا، جبکہ شوہر فی ماہ 40 سے 45 ہزار کما رہا ہو؟ ایسی صورت میں طلاق کا مطالبہ جائز ہوگا؟ جبکہ شوہر بیوی کو نہ رکھنا چاہتا ہو اور نہ چھوڑنا، اوراس نے یہ بولا بھی ہوکہ نہ رکھوں گااور نہ چھوڑوں گا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میاں بیوی کے درمیان اختلاف اور ناراضگی کا واقع ہونا ایک طبعی چیز ہے، مگر اس اختلاف کو اتنا نہیں بڑھانا چاہیے کہ نوبت طلاق تک پہنچ جائے۔ میاں بیوی میں سے کسی ایک کو موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فی الحال اپنے رویے کو نرم کرنا چاہیے ۔ شوہر کو چاہیے کہ حکمت کے ساتھ بیوی کو واپس اپنے گھر لے آئے۔ دونوں خاندانوں کے بزرگوں اور بڑوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ مل کر اس رشتے میں واقع ناراضگیوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں، زوجین میں باہمی مفاہمت سےصلح کرائیں اور اس رشتے کو دوبارہ مستحکم وقائم کریں۔ البتہ اگر دونوں خاندانوں کے بڑوں کی بھر پور کوشش کے باوجود خاوند بیوی کو اپنے گھر نہیں لے جاتا اور نہ ہی طلاق دیتا ہو، تو بیوی کو خاوند سے خلع لینے ( یعنی مال کے بدلے یا مہر معاف کرکے شوہر سے طلاق لینے ) کی گنجائش ہے ۔ اور اگر وہ پھر بھی طلاق دینے پر راضی نہ ہو، تو عدالت یا کسی معتبر دار الافتاء کے ذریعے نکاح فسخ کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن حتی الامکان یہ کوشش کی جائے کہ فریقین بیٹھ کر اتفاق سے کوئی فیصلہ کرکے صلح کریں اور طلاق تک نوبت نہ آئے۔
تاہم مذکورہ بالا بیان کے مطابق ( جس میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ خاوند نے بیوی کو بغیر کسی قصور کے گھر سے نکال دیا تھا،حالانکہ بیوی کی طرف سے کوئی نشوز نہیں پایا گیا تھا ) آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر پہلے سے نکاح نامے میں یا باہمی رضامندی سے (یعنی خاوند نے اپنی طرف سے) ہر مہینے کا خرچہ بیوی کے لیے مقرر کر دیا تھا ، تو بیوی کو اس تمام عرصے کے نان و نفقے کا مطالبہ کرنا درست ہے، اور خاوند کے ذمے اس کی ادائیگی لازم ہوگی۔ اسی طرح (یعنی پہلے سے نفقہ مقرر ہونے کی صورت میں) اگر بیوی اس عرصے میں کسی سے قرض لے کر اپنا معروف خرچہ چلاتی تھی، تو بھی قرض کی رقم شوہر اتارنے کا پابند ہے۔ البتہ اگر والدین نے طے کیے بغیر خرچ کردیا، تو اب اس کے مطالبے کا حق نہیں، شوہر دے دے تو اچھی بات ہے۔
اگر بالفرض طلاق واقع ہو جائے، تو اس زیور یا سونے کی مالک بیوی ہی ہوگی، اور اگر عدت شوہر کے گھر گزارے گی تو عدت کا نان ونفقہ معروف طریقے کے ساتھ خاوند کی مالی حیثیت کے مطابق اس کے ذمے لازم ہوگا۔
حوالہ جات
قال الله تعالى: ﵟوَإِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَٱبۡعَثُواْ حَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهِۦ وَحَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصۡلَٰحٗا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيۡنَهُمَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرٗا ﵞ [النساء: 35
رد المحتار ط : الحلبي (3/ 441):
وشرعا كما في البحر (إزالة ملك النكاح)...(ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق.
(قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع. اهـ. ط، وهذا هو الحكم المذكور في الآية.
رد المحتار ط: الحلبي (3/ 609):
(و) تجب (لمطلقة الرجعي والبائن، والفرقة بلا معصية كخيار عتق، وبلوغ، وتفريق بعدم كفاءة ،النفقةُ والسكنى والكسوةُ).
المحيط البرهاني (3/ 561):
المعتدة إذا خرجت من بيت العدة سقطت نفقتها.» وإن عادت إلى بيت الزوج كان لها النفقة والسكنى كما في حال قيام النكاح.
رد المحتار ط : الحلبي (3/ 594):
"(والنفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا) أي اصطلاحهما على قدر معين أصنافا أو دراهم، فقبل ذلك لا يلزم شيء، وبعده ترجع بما أنفقت ولو من مال نفسها بلا أمر قاض.
(قوله : والنفقة لا تصير دينا إلخ) أي إذا لم ينفق عليها بأن غاب عنها أو كان حاضرا فامتنع فلا يطالب بها بل تسقط بمضي المدة.
(قوله: إلا بالقضاء) بأن يفرضها القاضي عليه أصنافا أو دراهم أو دنانير نهر (قوله فقبل ذلك لا يلزمه شيء) أي لا يلزمه عما مضى قبل القرض بالقضاء أو الرضا ولا عما يستقبل؛ لأنه لم يجب بعد.
(قوله: وبعده) أي وبعد القضاء أو الرضا ترجع؛ لأنها بعده صارت ملكا لها كما قدمناه، ولذا قال في الخانية: لو أكلت من مالها أو من المسألة، لها الرجوع بالمفروض. اهـ. وكذا لو تراضيا على شيء ثم مضت مدة، ترجع بها ولا تسقط. "
المحيط البرهاني (3/ 538):
"قال: وإذا خاصمت المرأة زوجها في نفقة مضى من الزمان قبل أن يفرض القاضي لها النفقة وقبل أن يتراضيا على شيء، فإن القاضي لا يقضي لها بنفقة مضى عندنا، وكذلك لو استدانت المرأة على زوجها نفقة مثلها قبل فرض القاضي وقبل التراضي منهما على شيء؛ فإنها لا ترجع بذلك على الزوج؛ لأنها لو رجعت إما أن ترجع بحكم أنها صارت مستدينة على الزوج، ولا وجه إلى ذلك؛ لأنه ليس لها ولاية إيجاب الدين على الزوج. وإما أن ترجع بحكم أن نفقتها صارت دينا في ذمته، ولا وجه إليه أيضا؛ لما ذكرنا أن نفقة الزوجة لا تصير دينا إلا بقضاء القاضي أو التراضي."
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
11/ذو القعدہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


