| 88779 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
میر اڈیری کا کاروبار ہے جس میں گائے پالتے ہیں اور اس کا دودھ فروخت کرتے ہیں۔اگر کوئی گائے کم دودھ دینے لگے تو اسے فروخت کرکے نئی گائے خریدتے ہیں۔ لوگوں نےہمارے ساتھ رقم انویسٹ کی جس سے ہم نے گائے خریدیں اور انہیں پہلے سے موجود اپنے گائیوں کے ساتھ شامل کرلیا۔ تما م گائیوں کا دودھ ملاکر فروخت ہوتا اور انویسٹر کو ان کی رقم لگاکر خریدی گئی گائے کے بدلے تقریبا سات ہزار دیتےرہے۔اگر کبھی گائے فروخت کرکے نئی گائے خریدنی میں اضافی رقم لگانی پری تو وہ اپنے پاس سے شامل کرتے رہے۔اب حالیہ سیلابی صورتحال کے باعث چارہ مہنگا ہوا تو نفع نہیں ہوپایا ،بلکہ یومیہ بنیادوں پر کچھ نقصان ہورہا ہے جس کی وجہ سے پیسے واپس کرنا چاہتے ہیں۔اسکا شرعی طریقہ و حیثیت کیا ہے؟
وضاحت: نفع کی تقسیم کا تناسب طے نہیں تھا اور نہ ہی انویسٹرز کےجانوروں کے دودھ کا الگ سے حساب کتاب ہوتا تھا۔ البتہ مجموعی طور پر سرمایہ کاری،آمدن و اخراجات وغیرہ کا حساب موجودہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس معاملے کو شرکت الاموال کی صورت سمجھا جاسکتا ہے جس میں نفع کا تناسب باہمی رضامندی کے ساتھ پہلے سے طے کرنا ضروری ہوتا ہے جبکہ اندازے سے یا ایک متعین و مخصوص نفع دینا جائز نہیں ہوتا ،اگر نفع کا تناسب طے نہ کیا گیا ہو تو شرکت فاسد ہوتی ہےاور نفع ونقصان سرمائے کے تناسب سے تقسیم کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ لہذا صورت مسئولہ میں نفع و نقصان کو اب صحیح طور پر تقسیم کرنے کا طریقہ کار یہ ہوسکتا ہے کہ اس پورے کاروبار میں سرمایہ لگانے والوں کے سرمائے کا جتنا فیصدی تناسب سے حصہ بنتا ہے اتنا ہی ان کو نفع و نقصان منتقل کردیا جائے ،چنانچہ اس سے پہلے جو متعین نفع دیا جاتا رہے اسے عبوری نفع شمار کرلیا جائے اور تناسب کے اعتبار سے جو حقیقی نفع و نقصان بنتا ہو اس میں سے اد اکیے گئے عبوری نفع کو منہا کرلیا جائے۔ پھر اگر تمام اخراجات و نقصانات کی ادائیگیوں کے بعد سرمایہ لگانے والوں کا سرمائے کے تناسب سے بننے والا حقیقی نفع ،پہلے ادا کیے گئے عبوری نفع سے زیادہ ہو تو باقی مزید رقم انہیں اد اکردی جائے اور اگر کم ہو تو اضافی دی گئی رقم واپس لے لی جائے۔
حوالہ جات
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 351)
يشترط بيان الوجه الذي سيقسم فيه الربح بين الشركاء، ويجب بيان الربح جزءا شائعا كما هو مذكور في المادة الآتية لأن المعقود عليه في الشركة هو الربح فإذا لم يبين فيكون المعقود عليه مجهولا درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 388)
يقسم الربح والفائدة في الشركة الفاسدة بنسبة مقدار رأس المال وجهالة المعقود عليه في الشركة تفسد العقد (الكفوي) .
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 389)
(الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال بنسبة مقدار رءوس الأموال، وإذا شرط خلاف ذلك فلا يعتبر)
شیرعلی
دارالافتاء جامعۃ الرشید
25ربیع الثانی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شیرعلی بن محمد یوسف | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


