03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مال میں کفاءت کا مطلب
90208نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

ایک لڑکا اپنے والد کے ساتھ کام کرتا ہے، لیکن اسے بہت کم تنخواہ ملتی ہے اور وہ مالی طور پر اپنے والد پر ہی منحصر ہے۔ وہ کاروبار میں کام تو کرتا ہے لیکن نہ کاروبار پر اس کا کوئی اختیار ہے اور نہ مالی معاملات پر۔ اس نے اپنے والد کو بتائے بغیر خود اپنا نکاح کر لیا۔ اس کی تنخواہ مہر اور بیوی کے نان و نفقہ کے لیے کافی نہیں ہے، اور اس کے پاس کوئی بچت بھی نہیں ہے۔ وہ اپنے والد کے گھر میں رہتا ہے اور گھر کے تمام فیصلے والد کی مرضی سے ہوتے ہیں۔ نکاح کے وقت اس کا خیال تھا کہ ابتدا میں اس کے گھر والے انکار کریں گے، لیکن بعد میں مان جائیں گے۔ اس نے سوچا تھا کہ اگر وہ نہ مانیں تو وہ انہیں بتا دے گا کہ نکاح ہو چکا ہے، تو وہ مجبوراً قبول کر لیں گے۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ بدستور اپنے والد کے ساتھ کام کرتا رہے گا اور میاں بیوی اسی گھر میں رہیں گے۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس ہو گیا۔ جب والد کو نکاح کا علم ہوا تو انہوں نے اسے قبول نہیں کیا اور کسی بھی ذمہ داری کو اٹھانے سے انکار کر دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسا لڑکا صرف اس بنیاد پر کہ اسے نکاح کے وقت امید تھی کہ اس کے گھر والے اس کا ساتھ دیں گے، ایک مستحکم مالی حالت رکھنے والے گھرانے کی لڑکی کے لیے "کفو" (ہم پلہ) شمار ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اصل جواب سےپہلے ایک وضاحت :مذکورہ  مسئلہ میں حق مہر پانچ ہزار مقرركيا ہے جو کہ مہر مثل سے بہت کم ہے اس لیے لڑکی کے اولیاء کو نکاح فسخ کرنے کاحق حاصل ہے یہاں تک کہ لڑکا  پورامہر مثل ادا نہ کریں۔

اب اصل سوال کاجواب یہ ہے کہ کفاءت اوربرابری دیگرچیزوں کےساتھ مال میں بھی ضروری  ہے۔   مال داری  میں کفو کا مطلب یہ ہے کہ لڑکی کے مہر معجل کی جتنی مقدار عرف کے مطابق فوراً ادا کی جاتی ہے لڑکا   اتنی  کی ادائیگی پر قادر ہواور اس کےساتھ  یومیہ یا ماہانہ نان ونفقہ (خرچہ وغیرہ)پربھی قادر ہو ۔

مذکورہ صورت میں اگر لڑکا کمائی  کرکےیومیہ یا ماہانہ طورپر نفقہ اور مہر معجل (شادی کے وقت عرفاًجتنی مقدار ادا کی جاتی ہو)کی ادائیگی کی قدرت رکھتاہے تولڑکا  مالداری میں لڑکی کے کفوہےاور اگر قدرت نہیں رکھتاہے تو یہ لڑکا اس  لڑکی کامالی اعتبارسے کفونہیں ہے۔اس صورت میں لڑکی کے اولیاء کو نکاح فسخ کرنے کا حق ہے۔ لیکن اگرعورت کوحمل ٹھہر جائےتوپھرفسخ کااختیارختم ہوجائےگا۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي: (3/ 94)

(‌ولو ‌نكحت ‌بأقل ‌من ‌مهرها ‌فللولي) العصبة (الاعتراض حتى يتم) مهر مثلها (أو يفرق) القاضي بينهما دفعا للعار.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (3/ 90):

(ومالا) بأن يقدر على المعجل ونفقة شهر لو غير محترف، وإلا فإن كان يكتسب كل يوم كفايتها لو تطيق الجماع.. (قوله بأن يقدر على المعجل إلخ) أي على ما تعارفوا تعجيله من المهر، وإن كان كله حالا فتح فلا تشترط القدرة على الكل، ولا أن يساويها في الغنى في ظاهر الرواية وهو الصحيح زيلعي، ولو صبيا فهو غني بغنى أبيه أو أمه أو جده كما يأتي.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (2/ 317)

فصل إنكاح المرأة نفسها من غير رضا الأولياء

(فصل)وأما الثاني فالنكاح الذي الكفاءة فيه شرط لزومه هو إنكاح المرأة نفسها من غير رضا الأولياء لا يلزم حتى لو زوجت نفسها من غير كفء من غير رضا الأولياء لا يلزم.وللأولياء حق الاعتراض؛ لأن في الكفاءة حقا للأولياء.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :(2/ 319)

‌والمعتبر ‌فيه ‌القدرة ‌على ‌مهر ‌مثلها، والنفقة، ولا تعتبر الزيادة على ذلك حتى أن الزوج إذا كان قادرا على مهر مثلها، ونفقتها يكون كفئا لها، وإن كان لا يساويها في المال هكذا روي عن أبي حنيفة وأبي يوسف، ومحمد في ظاهر الروايات.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي:(3/ 56)

وله) أي للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم كابن عم في الأصح خانية، وخرج ذوو الأرحام والأم والقاضي (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد وينبغي إلحاق الحبل الظاهر به.

 رشيدخان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

11/ذوالقعده /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب