| 90188 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
محمد شعبان: زیور: 8 لاکھ روپے، ہارڈویئر والے کو دیے گئے: 1 لاکھ روپے، موٹر: 7 ہزار روپے، پنکھے: 18 ہزار روپے، گرِل: 30 ہزار روپے، شاور وغیرہ: 4 ہزار روپے۔محمد رمضان: 8 لاکھ 50 ہزار روپے۔محمد بخش: 4 لاکھ 30 ہزار روپے۔وضاحت: جب دادا گھر بنا رہے تھے تو ان تین افراد نے اپنی جیب سے مذکورہ رقم اس گھر کی تعمیر میں لگائی تھی۔ اب جب کہ دادا کا گھر بیچا جا رہا ہے، تو کیا یہ جو رقم ان تین افراد نے گھر کی تعمیر میں لگائی تھی، وہ انہیں واپس مل سکتی ہے یا نہیں؟
نوٹ: سائل سے یہ وضاحت طلب کی گئی کہ آیا یہ رقم آپ کے دادا کی ملکیت میں بطورِ عطیہ دی گئی تھی، یا اس وقت کوئی معاہدہ ہوا تھا کہ بعد میں یہ رقم واپس کی جائے گی یا اس کے بدلے کچھ دیا جائے گا؟ اس پر سائل نے یہ وضاحت بھیجی کہ:
"وہ میرے دادا کی ملکیت تھی اور کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں ہوا تھا، صرف یہ کہا گیا تھا کہ ہمارے رہنے کے لیے جگہ بن جائے گی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جن افراد نے گھر کی تعمیر میں رقم دی تھی، چونکہ انہوں نے وہ رقم بطورِ قرض نہیں دی تھی، بلکہ گھر کے بڑے کے ساتھ تعاون کیا تھا، لہذا وہ دادا کی ملکیت میں شمار ہوگی، پس اب انہیں وہ رقم واپس مانگنے کا حق نہیں ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 687)
وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 704)
(ولايصح الرجوع بـ)(قوله: هلاك العين) وكذا إذا استهلكت كما هو ظاهر صرح به أصحاب الفتاوى .
امداداللہ الفینوی
تخصص فی الافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی
9/ذیقعدہ/1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | امداد الله بن مفتی شہيد الله | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


