| 90328 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
میرا ایک دوست انٹرنیٹ اور کیبل کے کنیکشن اور ان کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ اس قسم کے کاروبار کے بارے میں کیا حکم ہے؟ نیز، اس کاروبار کے لیے میرا اس کو سہولت فراہم کرنا کیسا ہے ؟ اور اس کاروبار میں اپنا پیسہ اور وقت لگانا کیسا ہے؟ مثلا اس کاروبار کے لئے اور متعلقہ اشیاءکسی سے خرید کر اپنا منافع رکھ کر اس کو فروخت کرنا ۔جیسے انٹرنیٹ والاموڈیم (modem) جو کہ انٹرنیٹ کے سگنل مہیا کرتا ہے، اور انٹرنیٹ اور کیبل کی آپشن والاموڈیم (modem) جو کہ انٹرنیٹ کے سگنل اور کیبل کے چینلز مہیا کرتا ہے، اور انٹرنیٹ کی تار، انٹرنیٹ اور کیبل کی مشترکہ تار اور اس قسم کی نوعیت کی چند دیگر اشیا ء۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
انٹرنیٹ اور کیبل کنیکشن کا کام کرنا اور اس پر اجرت لینا جائز ہے۔ البتہ اگر کسی شخص کے متعلق یہ یقین ہو یا غالب گمان ہو کہ وہ انٹرنیٹ یا کیبل نا جائز کاموں میں ہی صرف کرے گا، تو ایسے شخص کے لیے اس کنیکشن کی سہولت فراہم کرنا درست نہیں۔
جس صورت میں آپ کے دوست کا کام درست ہے، آپ کا اس کے ساتھ تعاون بھی درست ہے، اور جو صورت اس کے لیے درست نہیں، اس میں آپ کا اس کے ساتھ معاملہ کرنا درست نہیں۔
حوالہ جات
رد المحتار ط: الحلبي (6/ 391):
(و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل يكره لإعانته على المعصية ونقل المصنف عن السراج والمشكلات أن قوله ممن أي من كافر أما بيعه من المسلم فيكره ومثله في الجوهرة والباقاني وغيرهما زاد القهستاني معزيا للخانية أنه يكره بالاتفاق.
(قوله: ممن يعلم) فيه إشارة إلى أنه لو لم يعلم لم يكره بلا خلاف قهستاني.
غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر (1/ 466):
إذا اجتمع المباشر والمتسبب أضيف الحكم إلى المباشر.
(قوله: إذا اجتمع المباشر والمتسبب إلخ)حد المباشر أن يحصل التلف بفعله من غير أن يتخلل بين فعله والتلف فعل مختار. كذا في الولوالجية من كتاب القسمة، ويفهم منه أن حد المتسبب هو الذي حصل التلف بفعله وتخلل بين فعله والتلف فعل مختار.
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
21/ذو القعدہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


