| 90297 | تقسیم جائیداد کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
ایک صاحب کے والد صاحب کا ۶۵ سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔ پسماندگان میں ایک بیوہ، چار بیٹے اور ایک بیٹی موجود ہیں۔ والد صاحب نے اپنے پیچھے تقریباً ۱۰ لاکھ روپے نقد چھوڑے ہیں۔ گھر کی صورتحال یہ ہے کہ چاروں بیٹوں میں سے سب سے بڑے بیٹے سابقہ نشے کے عادی رہے ہیں اور ان کا مزاج تاحال نہایت غصے والا اور پرتشدد ہے۔ ابھی تو مستقل غصّہ نہیں کرتے ، لیکن جب غصّہ کرتے ہیں تو کسی کےقابو نہیں آتے۔ دوسرے نمبر والے بیٹے کا حال اس سے بھی زیادہ خراب ہے، وہ سخت نشے کی لت میں مبتلا رہے ہیں اور اسی وجہ سے اپنا تمام ذاتی مال و دولت برباد کر چکے ہیں۔ فی الحال وہ ایک شدید بیماری کی وجہ سے نشہ نہیں کر پا رہے اور ان کا تمام علاج معالجہ بھی خاندان کے دیگر افراد ہی کروا رہے ہیں۔ علاج کےدوران بھی وہ غصّے میں گالیاں دینے لگتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اگر یہ بیمار نہ ہوتے تو ضرور ظلم کرتے۔ ان دونوں بیٹوں کی بد اخلاقی کی وجہ سے ان کی بیویاں انہیں چھوڑ کر جا چکی ہیں اور ان کے دو بچوں (ایک پوتا، ایک پوتی) کی پرورش شروع سے ہمارے والد صاحب ہی کر رہے تھے، جو کہ اب ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں شدید خطرہ ہے کہ اگر وراثت ابھی تقسیم کر دی گئی تو یہ دونوں بیٹے (خاص طور پر دوسرا بیٹا) اپنا حصہ نشے اور فضول کاموں میں اڑا دیں گے اور پھر گھر میں موجود بوڑھی ماں، جوان بہن اور چھوٹے بچوں پر دوبارہ ظلم و ستم کریں گے۔ فی الحال گھر کا پورا خرچ شروع سے ہی والد صاحب ہی اٹھاتے تھے اور اب مالی کنٹرول والدہ کے ہاتھ میں ہے۔ براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ:
- کیا فتنہ، جان کے خطرے اور مال کے ضیاع (نشے میں اڑانے) کے خوف سے تقسیم کو مؤخر (Delay) کیا جا سکتا ہے؟
- کیا ایسے بیٹوں کو (جو اپنا مال برباد کرنے کے عادی ہوں) ان کا حصہ دینے کے بجائے اسے کسی محفوظ طریقے سے ان کی ضروریات (روٹی، کپڑا، دوا) پر خرچ کرنے کا کوئی حکم شریعت میں موجود ہے؟
- پوتوں کی پرورش اور دوسرے بیٹے کے علاج کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے تقسیم کا شرعی طریقہ کیاہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1، 2) تقسیمِ ترکہ کا مطالبہ جب تک کوئی وارث نہیں کرتا، تب تک اس کی تقسیم فوری طور پر ضروری نہیں۔ البتہ اگر کوئی وارث تقسیمِ ترکہ کا مطالبہ کرے، تب اس کی تقسیم ضروری ہو جاتی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر ورثہ میں سے کسی نے بھی تقسیمِ ترکہ کا مطالبہ نہیں کیا، تب تو اس کی تقسیم کو مؤخر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ اگر کوئی وارث تقسیمِ ترکہ کا مطالبہ کرے اور دیگر ورثہ کسی ایک وارث کی لا پرواہی اور سوءِ تدبیر کی وجہ سے تقسیم مؤخر کرنا چاہتے ہوں، تو اس کی صورت یہ ہے کہ ورثہ میں ترکہ ان کے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے اور سفیہ وارث کا حصہ الگ سے محفوظ رکھا جائے، اور ان کے حصے میں سے ہی ان کی اور ان کی اولاد کی ضروریات، علاج معالجہ وغیرہ اور حوائج پورے کیے جائیں۔تاہم اگر تمام ورثہ کی رضامندی سےاس سفیہ وارث کو ان کے شرعی حصے سےکچھ زیادہ دیاجائے تاکہ ان کے علاج کا اچھی طرح بندوبست کیا جائے، تو یہ ان کے ساتھ احسان والا معاملہ ہوگا۔
(3 آپ کے والد نے ترکہ میں جو کچھ چھوڑا ہو، چاہے وہ منقولی ہو یا غیر منقولی اس میں سب سے پہلے تجہیز وتکفین کے متوسط اخراجات نکالے جائیں بشرطیکہ کسی نے اپنی طرف سے بطور تبرع ادا نہ کیے ہوں، اس کے بعد اگر ان کے ذمےکسی کا قرضہ ہو،تو اس کی ادائیگی کی جائے۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو، تو اس کو ایک تہائی مال میں سے نافذ کیا جائے اور اس کے باقی مال کو ورثہ میں درج ذیل حصص کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے گا ۔
صورت مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ میں سےفیصدی اعتبار سے بیوی کو 12.50% اور ہر بیٹے کو19.44% اور بیٹی کو 9.72% دیاجائے گا۔
|
وارث کانام |
عددی حصہ (کل عددی حصے: 72 ) |
فیصدی حصہ |
|
بیوی (زینب) |
9 |
12.50% |
|
بیٹا(زید) |
14 |
19.4444% |
|
بیٹا(عمرو ) |
14 |
19.4444% |
|
بیٹا (احمد ) |
14 |
19.4444% |
|
بیٹا (بکر) |
14 |
19.4444% |
|
بیٹی (کلثوم) |
7 |
9.7222% |
حوالہ جات
رد المحتار ط: الحلبي (6/ 148):
(ولا يحجر حر مكلف بسفه) هو تبذير المال وتضييعه على خلاف مقتضى الشرع أو العقل درر ولو في الخير كأن يصرفه في بناء المساجد ونحو ذلك فيحجر عليه عندهما وتمامه في فوائد شتى في الأشباه (وفسق ودين) وغفلة (بل) يمنع (مفت ماجن) يعلم الحيل الباطلة كتعليم الردة لتبين من زوجها أو لتسقط عنها الزكاة (وطبيب جاهل ومكار مفلس وعندهما يحجر على الحر بالسفه و) الغفلة و (به) أي بقولهما (يفتى) صيانة لماله وعلى قولهما المفتى به (فيكون في أحكامه كصغير) ثم هذا الخلاف في تصرفات تحتمل الفسخ ويبطلها الهزل وأما ما لا يحتمله ولا يبطله الهزل فلا يحجر عليه بالإجماع.
(قوله: به) أي بقولهما يفتى به صرح قاضي خان في كتاب الحيطان، وهو صريح فيكون أقوى من الالتزام كذا قال الشيخ قاسم في تصحيحه: ومراده أن ما وقع في المتون من القول بعدم الحجر على الحر مصحح بالالتزام وما وقع في قاضي خان من التصريح بأن الفتوى على قولهما تصريح بالتصحيح فيكون هو المعتمد، وجعل عليه الفتوى مولانا في فوائده منح، وفي حاشية الشيخ صالح، وقد صرح في كثير من المعتبرات بأن الفتوى على قولهما وفي القهستاني عن التوضيح أنه المختار اهـ وأفتى به البلخي وأبو القاسم كما ذكره في المنح عن الخانية قبيل قوله الآتي " والقاضي يحبس الحر المديون ".
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 18):
وأما الولاية فنوعان: ولاية قضاء، وولاية قرابة، إلا أن شرط ولاية القضاء الطلب...وكذا لا يقسم الورثة عليه؛ لانعدام ولايتهم عليه؛ لأن الموصى له كواحد من الورثة، ولا يقسم بعض الورثة على بعض؛ لانعدام الولاية.
الفتاوى الهندية (5/ 204):
وأما سببها فطلب الشركاء أو بعضهم الانتفاع بملكه على وجه الخصوص كذا في التبيين.
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
18/ذو القعدہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


