03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہرکےکفریہ عقائدظاہرکرنےپرنکاح کاحکم
91778نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

میں فوزیہ اکرم بنت محمد اکرم نہایت مجبوری اور شدید ذہنی اذیت کی حالت میں آپ سے شرعی رہنمائی چاہتی ہوں۔ میرا ایک شخص راوی کمار ولد کرشن کمار کے ساتھ مسجد میں نکاح کیا گیا تھا، مگر بعد میں واضح اور ثابت ہو گیا کہ اس شخص نے اسلام صرف ظاہری طور پر اور دھوکے کے طور پر قبول کیا تھا، دل سے مسلمان نہیں تھا اور نہ ہی اس نے کبھی اسلامی طرزِ زندگی اختیار کی۔بعد ازاں اس شخص نے خود اپنی زبان سے صراحتاً اقرار کیا کہ وہ ہندو ہے اور آج تک ہندو ہی ہے۔ مزید یہ کہ اس کی بھارت میں دو ہندو بیویاں موجود ہیں جن کے ساتھ وہ بدستور ازدواجی تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے۔وہ ہندو مذہبی رسومات اور تہوار مناتا ہے۔ہندو افراد کے ساتھ شراب نوشی کرتا ہے۔اس نے کبھی  اعلانیہ، مستقل اور حقیقی طور پر اسلام قبول نہیں کیا، بلکہ بعد میں خود اس کا انکار کیا۔اس نکاح کا کسی بھی جگہ کوئی اندراج موجود نہیں،نہ نکاح نامہ میں رجسٹر ہوا،نہ یونین کونسل میں،نہ کسی عدالت یا سرکاری ادارے میں۔اب وہ شخص مجھے بلیک میل کرتا ہے اور کہتا ہے:’’تم میری بیوی ہو، میں تمہیں طلاق نہیں دیتا‘‘،جبکہ شرعی طور پر صورتِ حال یہ ہے کہ اگر مرد حقیقی مسلمان ہی نہ ہواور اسلام محض دھوکے اور وقتی مقصد کے لیے قبول کیا ہو،تو ایسا نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوتا۔محترم مفتی صاحب!براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں واضح، حتمی اور تحریری فتویٰ مرحمت فرما دیں کہ:

کیا ایسی صورت میں یہ نکاح شرعاً باطل / غیر منعقد ہے؟اور کیا میں شرعاً اس شخص کی بیوی نہیں ہوں اور مجھے طلاق لینے کی کوئی ضرورت نہیں؟یہ وضاحت میرے لیے اس لیے نہایت ضروری ہے تاکہ:

میں بلیک میلنگ سے محفوظ رہ سکوں اوراپنی عزت، ذہنی سکون اور مستقبل کی حفاظت کر سکوں اور خود کو کسی حرام تعلق کے الزام سے الگ ثابت کر سکوں۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔والسلام

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی شخص کے مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ دل سےضروریاتِ دین کی تصدیق کرےاور پھراس تصدیق کازبان سےاقرارکرے۔ آپ کے شوہر نے بعدمیں جب ہوش و حواس میں یہ اقرارکیاکہ " وہ ہندو ہے اور آج تک ہندو ہی ہے "،تومعلوم ہواکہ اس کوتصدیقِ قلبی حاصل ہی نہیں تھی اوراس کااقرارمحض دھوکاتھا،جس پردیگرقرائن بھی دلالت کررہےہیں، لہذاآپ کانکاح منعقدہی نہیں ہوااورآپ کے لیے ضروری ہے کہ ان سے فورا الگ ہو جائیں اوراس کےلیےکوئی بھی طریقہ اختیارکرسکتی ہیں۔ نیز پہلےنکاح کےباطل ہونےکی وجہ سےآپ پرکوئی عدت بھی لازم نہیں ہےاورآپ بغیرانتظارکےدوسری جگہ نکاح بھی کرسکتی ہیں،البتہ شوہرکی قربت سے پہلےضروری ہےکہ ایک حیض گزرچکاہو۔بہترہوگاکہ ایک حیض کےبعدہی نکاح کیاجائے۔

حوالہ جات

تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير-ط دار إحياء التراث العربي (2/ 271)

الثاني : أن الإيمان مجرد الإقرار باللسان ، وهو قول الكرامية ، وزعموا أن المنافق مؤمن الظاهر كافر السريرة فثبت له حكم المؤمنين في الدنيا وحكم الكافرين في الآخرة                                               

تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير-ط دار إحياء التراث العربي (2/ 301)

 هذه الآية دالة على أمرين : الأول : أنها تدل على أن من لا يعرف اللّه تعالى وأقر به فإنه لا يكون مؤمناً ، لقوله : وَما هُمْ بِمُؤْمِنِينَ وقالت الكرامية : إنه يكون مؤمناً

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (1/ 217)

السابع: الانكار القلبي، فإما أن يوجد معه الإقرار أو الإنكار أو السكوت، فإن كان معه الإقرار فإن كان اضطراريا فهو منافق، وإن كان اختياريا فهو كفر الجحود والعناد، وهو أيضا قسم من النفاق وهو القسم الثامن.

منح الروض الأزهر في شرح الفقه الأكبر (ط البشائر) (ص: 53)

قال الإمام الأعظم: (يجب)، أي يفرض فرضا عينيا بعد ما يحصل علميا يقينيا (أن يقول)، أي المكلف بلسانه المطابق لما في جنانه (آمنت بالله)، وفيه إشعار بأن الإقرار له اعتبار على خلاف في أنه شطر للإيمان، إلا أنه في بعض الأحيان، أو شرط لإجراء أحكام الإيمان

الفتاوى الهندية (2/ 279)

رجل قال كنت مجوسيا إلا أني أسلمت على سبيل التمثيل ولم يعتقد ذلك حكم بكفره قاله شمس الأئمة الحلواني - رحمه الله تعالى -.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 132)

قلت: لكن سيذكر الشارح في آخر فصل في ثبوت النسب عن مجمع الفتاوى: نكح كافر مسلمة فولدت منه لا يثبت النسب منه ولا تجب العدة لأنه نكاح باطل اهـ.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 380)

ومنها: إذا رأى امرأة تزني ثم تزوجها فإن الأفضل أن يستبرئ، وهذا عندهما وأما عند محمد فلا يطأ إلا بعد الاستبراء ۔

فیصل حیات بن خان بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

25/صفرالمظفر/8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

فیصل حیات بن خان بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب