| 90807 | پاکی کے مسائل | نجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان |
سوال
سونے سے پہلے میں گھر والے کپڑے پہن لیتا ہوں ان میں میں پیشاب کرنے جاتا ہوں اگر میں ان کپڑوں میں فجر کے لیے اٹھوں تو کیا پاک نماز والے کپڑے پہننے سے پہلے مجھے پورا غسل کرنا چاہیے یا پھر ناف سے نیچے ٹانگیں دھونے اور وضو کر لینے سے کام چل جائے گا؟ قضاء حاجت اور استنجا کے بعد اگر ہاتھ گیلا ہو تو کیا شلوار یا پینٹ بند کرنے یا دوسرے کپڑوں مثلا قمیض یا جیکٹ کو چھونےسے کیا چھوئےجانے والے کپڑے ناپاک ہو جاتے ہیں ؟کیا فرض وضو کے لیے چہرے بازو سر اور پاؤں پر صرف گیلا کپڑا پھیرنے یا گیلا ہاتھ پھیرنے سے وضو ہو جاتا ہے؟ کیا وضو کے دوران ناک میں صرف پانی چڑھانے اور اتارنے سے کام چل جائے گا مثلا اگر بندہ ناک میں انگلی نہ چلائے اور زور زور سے رطوبت خارج نہ کرے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
غسل کرنا تو بہر حال ضروری نہیں ۔تفصیل یہ ہے کہ بدن پر اگر تر نجاست نہیں لگی ہوئی تو پھر نماز کے لیے صاف کپڑے پہننے سے پہلے غسل کرنا ضروری نہیں، لیکن اگر تر نجاست لگی ہوئی ہے تو جسم کے جس حصے سے وہ مس ہو صرف اس کو دھونا ضروری ہے اور اس کے بعد صاف کپڑے پہنے جائیں ۔ قضاء حاجت اور استنجاء کے بعد اگر ہاتھ پر نجاست ہو تو پھر کسی کپڑے کوچھونے سے وہ کپڑا ناپاک ہو جائے گا ،لیکن اگر نجاست نہ ہو تو پھر وہ کپڑا چھونے سے ناپاک نہیں ہوگا ۔ صرف گیلا کپڑا اعضاء وضو پر پھیرنے سے وضو نہیں ہوگا ،بلکہ اتنا پانی بہا نا ضروری ہے کہ کم از کم پانی کے دو تین قطرے ٹپک جائے۔ وضو میں ناک میں پانی چڑھانا کافی ہے انگلی ڈالنا اور زور زور سے رطوبت خارج کرنا ضروری نہیں، لیکن ایسا کرنا بہتر ہے ۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي(1/ 88):
(قوله: تقاطر) وأقله قطرتان في الأصح كما يأتي.
(قوله: مع الغسلات) أي المفروضة، وأخرج بها المسح فلا يشترط فيه تقاطر.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 3):
وفي شرح الطحاوي أن تسييل الماء شرط في الوضوء في ظاهر الرواية فلا يجوز الوضوء ما لم يتقاطر الماء،
البناية شرح الهداي (1/ 366):
والسيل شرط في ظاهر الرواية فلا يجوز الوضوء ما لم يتقاطر الماء. وعن أبي يوسف أنه ليس بشرط وفي مسألة الثلج إذا قطر قطرتان فصاعدا جاز اتفاقا وإلا فعلى قولهما لا يجوز وعلى قول أبي يوسف يجوز.
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
01/محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


