| 92050 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
پاکستان میں بعض مسلح تنظیمیں اور گروہ، مثلاً تحریک طالبان پاکستان (TTP)،داعش (ISIS) اور دیگر مختلف ناموں سے سر گرم تنظیمیں ، ریاست پاکستان، اس کے عسکری و سکیورٹی اداروں، پولیس، سرکاری ملازمین ، علماء کرام اور عام شہریوں کے خلاف مسلح کارروائیاں کر رہے ہیں۔ یہ گروہ اپنی ان کارروائیوں کو جہاد قرار دیتے ہیں ، اپنے مقتولین کو شہید کہتے ہیں، اور ان حملوں میں قتل کیے جانے والے افراد کے قتل کو شرعاً جائز سمجھتے ہیں۔
امت مسلمہ کی صحیح رہنمائی ، فتنہ واشتباہ کے ازالے اور شرعی موقف کی وضاحت کے لیے قرآن مجید ، سنت نبوی یا اجماع امت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے بارے میں واضح، مدلل اور غیر مبہم فتویٰ عنایت فرمایا جائے :
1. کیار یاست پاکستان اور اس کے آئینی و قانونی اداروں کے خلاف مسلح بغاوت اور جنگ شرعاً جہاد کہلائی جاسکتی ہے؟
2. کیا پولیس ، افواج پاکستان، دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں، سرکاری ملازمین، علماء کرام اور عام شہریوں کو جان بوجھ کر قتل کر ناشر عا جائز ہے یا حرام ؟
3. ایسے حملوں میں جاں بحق ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں، پولیس ، علماء کرام اور عام شہریوں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا انہیں شرعاً شہداء شمار کیا جائے گا ؟
4. ایسے مسلح گروہوں کے خلاف ریاست کی طرف سے امن وامان کے قیام ، جان و مال کے تحفظ اور مسلح بغاوت کے سدباب کے لیے کی جانے والی کارروائی کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
5. کیا ایسے مسلح گروہوں میں شامل ہونا، ان سے بیعت کرنا، یا ان کی مالی، فکری، ابلاغی، تنظیمی یا عملی معاونت کرنا شرعاً جائز ہے یا نا جائز ؟
6. ایسے مسلح گروہوں کے افراد کو جانتے بوجھتے پناہ دینا، رہائش فراہم کرنا، کھانا یا دیگر ضروریات مہیا کرنا، ان کے لیے محفوظ ٹھکانے یا نقل و حرکت کا انتظام کرنا، ان کی جاسوسی یا معلومات رسانی کرنا، ریاستی اداروں کی نقل و حرکت یا کارروائیوں کی اطلاع دینا، انہیں حملوں کی منصوبہ بندی یا فرار میں سہولت فراہم کرنا، یا کسی بھی قسم کی براہ راست یا بالواسطه مدد کرنا، قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں شرعاً جائز ہے یا نا جائز ؟ اگر نا جائز ہے تو اس عمل کی شرعی حیثیت اور اس کے مرتکب کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
7. کیا ایسے افراد ، جوان مسلح گروہوں کی مالی، ابلاغی، اطلاعاتی ، لاجسٹک یا دیگر کسی بھی نوعیت کی معاونت کرتے ہوں ، ان کے فعل کو شرعا گناہ، معاونت علی الاثم والعدوان یا کسی اور شرعی عنوان کے تحت شمار کیا جائے گا ؟
گزارش ہے کہ مذکورہ سوالات کے جوابات قرآن کریم، سنت رسول اللہ صلی علی ام، اجماع امت اور معتبر فقہی دلائل کی روشنی میں واضح ، صریح اور غیر مبہم انداز میں عنایت فرمائے جائیں، تاکہ امت مسلمہ حق و باطل کے اس اہم مسئلے میں صحیح شرعی رہنمائی حاصل کر سکے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مسلمان ریاست اور اس کے حاکم اور اداروں کے خلاف ہتھیار اٹھانا بالاجماع حرام ہے، کسی مسلم ریاست میں مسلمانوں کے مال و جان کو مباح سمجھنا اور ان کے خلاف قتال کو "جہاد" کا نام دینا باغیوں اور مفسدین کا کام ہے لہذا ریاستِ پاکستان اور اس کے سیکیورٹی و قانونی اداروں کے خلاف مسلح بغاوت اور جنگ کرنا شرعاً "جہاد" نہیں ہے، بلکہ یہ بغاوت ،خروج اور فتنہ کے زمرے میں آتا ہے۔
۲: قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ کسی مؤمن کو ناحق قتل کرنا کفر و شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے جس کی سزا دائمی جہنم ہے ،جو شخص کسی بے گناہ مسلمان کے قتل میں کسی بھی درجے میں شریک ہوتا ہے، وہ دنیا و آخرت میں سخت ترین عذاب کا مستحق بنتا ہے لہذا پولیس، افواجِ پاکستان، دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں، سرکاری ملازمین، علماءِ کرام اور عام شہریوں کو جان بوجھ کر قتل کرنا حرامِ قطعی اور گناہِ کبیرہ ہے۔
۳: جو مسلمان اپنی ڈیوٹی ادا کرتے ہوئے یا ظالم و مفسد عناصر کے ہاتھوں بلا قصور اور ظلماً قتل کیا جائے، وہ شرعی احکام کے اعتبار سے شہید ہوتا ہےلہذا دہشت گردانہ حملوں، بم دھماکوں اور ڈیوٹی کے دوران مارے جانے والے تمام سیکیورٹی اہلکار، پولیس، علماء اور عام شہری شہداء کے مرتبے پر فائز ہیں۔
۴: جو جماعت مسلم حکومت اور عوام کے خلاف ہتھیار اٹھائے، اس کی بغاوت اور شر کو کچلنا حاکمِ وقت اور ریاستی اداروں کی اولین ذمہ داری ہےلہذا مسلح باغی و مفسد گروہوں کے خلاف ریاست کی طرف سے امن و امان کے قیام، فتنہ و فساد کے سدِباب اور جان و مال کی حفاظت کے لیے کی جانے والی تمام عسکری و قانونی کارروائیاں شرعاً نہ صرف جائز بلکہ واجب اور ضروری ہیں۔
۵: کسی بھی ایسے باطل گروہ کا حصہ بننا یا ان کو قوت پہنچانا معصیت اور ظلم پر باہمی مدد کے زمرے میں آتا ہے لہذا ایسے مسلح اور مفسد گروہوں میں شامل ہونا، ان کے کسی امیر سے بیعت کرنا، یا ان کی مالی، فکری، ابلاغی، تنظیمی و عملی معاونت کرنا شرعاً نا جائز اور حرام ہے۔
۶: شریعتِ اسلامیہ میں مفسدین اور دشمنانِ امن کی جاسوسی یا لاجسٹک امداد کرنے والا شخص خود ان کے جرم و فساد میں برابر کا شریک مانا جاتا ہے اور اس کا یہ عمل غداری کے حکم میں آتا ہے، لہذا ایسے دہشت گرد گروہوں کے افراد کو جانتے بوجھتے پناہ دینا، رہائش یا کھانا فراہم کرنا، محفوظ ٹھکانے یا نقل و حرکت میں سہولت دینا، ریاستی اداروں کی معلومات و جاسوسی ان تک پہنچانا یا فرار میں مدد دینا شرعاً نا جائز اور حرام ہے۔
۷: قرآنِ مجید کا صریح حکم ہے: "وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ" (اور گناہ اور سرکشی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون نہ کرو) مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں ان مسلح گروہوں کی کسی بھی نوعیت کی معاونت کرنے والے افراد کے فعل کو شرعاً "معاونت علی الإثم والعدوان" (گناہ اور سرکشی میں اعانت)، " إعانة على المعصية" (معصیت میں مدد) شمار کیا جائے گا۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية : 2/ 283:
"أهل البغي كل فرقة لهم منعة يتغلبون ويجتمعون ويقاتلون أهل العدل بتأويل ويقولون الحق معنا ويدعون الولاية… يحل للإمام العدل أن يقاتلهم، وإن لم يبدءوا بقتاله،"
البناية شرح الهداية: 7/ 310:
"قال الله تعالى: {وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} [المائدة: 2] "
البحر الرائق شرح كنز الدقائق :5/ 151:
"بأن الخوارج قوم لهم منعة وحمية خرجوا عليه بتأويل يرون أنه على باطل كفر أو معصية توجب قتاله بتأويلهم يستحلون دماء المسلمين وأموالهم ويسبون نساءهم"
الهداية : 2/ 414:
"ويكره بيع السلاح من أهل الفتنة وفي عساكرهم " لأنه إعانة على المعصية ""
تكملة فتح القدير :9/ 262:
"حمل بعض المفسرين الخلود في قوله تعالى {ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها} على المكث الطويل،"
عابد
دارالافتا ءجامعۃالرشید ،کراچی
۸/ربیع الاول/۱۴۴۸ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عابدالرحمٰن بن عید رحمن | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


