03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ثالث کا ضمانتی چیک دائن کو نہ لوٹانا اور بوگس چیک دینے کا حکم
91819گروی رکھنے کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھ (مہر نور محمد ولد عمر بخش ذات آرائیں سکنہ جمال پور تحصیل حاصل پور ضلع بہاولپور) سےمحمد نوید کاہلوں ولد ظفر اقبال ذات کاہلوں سکنہ حاصل پور نزد دربار رنگیلہ شاہ نے اپریل 2017ء میں گندم تقریباً -/38,00,000 روپے کی خرید کر لے گیا اور ادائیگی قیمت گندم کی بابت ایک چیک مورخہ 25 نومبر 2017ء تک کا میرے حوالے کیا۔

چیک کیش نہ ہونے پر میں نے قانونی کاروائی شروع کر دی۔ قانونی کاروائی ابتدائی مرحلہ میں تھی کہ مجھے پتہ چلا کہ نوید کاہلوں کی مفتی مظہر شاہ صاحب آف بہاولپور سے کافی تعلق داری ہے۔ لہٰذا میں نے مفتی مظہر شاہ صاحب کو اپنا گندم فروخت والا قصہ سنایا تو مفتی مظہر شاہ صاحب نے مورخہ 17 اپریل 2018 کو نوید کاہلوں کو اپنے دفتر بلا کر میری اس سے صلح کروا دی۔

جس کی تفصیل یہ ہے کہ مفتی صاحب نے کل قیمتِ گندم میں سے مبلغ 15 لاکھ روپے نقد نوید کاہلوں سے مجھے وصول کروا دئیے۔ اور بقیہ قیمت گندم کی ادائیگی کے لیے ایک چیک مورخہ 20 مئی 2018 تک کے لیے نوید کاہلوں سے لے کر مجھے دکھائے بغیر اپنے پاس رکھ لیا۔ اور کہا کہ مقررہ تاریخ تک اگر نوید کاہلوں نے بقیہ قیمت گندم ادا نہ کی تو میں یہ چیک تمھیں (مہر نور محمد) کے حوالے کر دوں گا۔ میں نے اس معاہدہ کے بعد قانونی کاروائی واپس لے لی۔

میں نے وقتِ مقررہ (20 مئی 2018) کے بعد مفتی صاحب مذکور سے چیک کا مطالبہ کیا تو مفتی صاحب نے کہا میں نوید کاہلوں سے پیسوں کا مطالبہ کر رہا ہوں اور کبھی کہتے کہ چیک لے کر تم کیا کرو گے۔ عدالتیں کوئی پیسے لے دیتی ہیں! وقت بھی ضائع ہوتا ہے اور پیسہ بھی! بار بار کے مطالبوں پر پھر کہنے لگے کہ چیک کہیں کتابوں میں رکھا ہے مل نہیں رہا۔ ایسے حیلے بہانوں میں مفتی صاحب مذکور نے 7 سال گزار دئیے، اس کے بعد جب میرے مطالبوں میں شدت پیدا ہوئی تو مفتی صاحب نے ایک دن مجھے ایک چیک بتوسط اپنے بڑے بیٹے اسد پکڑا دیا۔ جو کہ بینک لے جانے پر بوگس نکلا۔ متعلقہ بینک والوں نے بتایا کہ یہ چیک تو نوید کاہلوں کے کھاتے کا ہے ہی نہیں۔ مفتی صاحب کے اس طرزِ عمل پر ذہنی پریشانی کے ساتھ ساتھ میرا کافی مالی نقصان بھی ہوا۔

شریعتِ مطہرہ اس مفتی صاحب کے بارے میں کیا کہتی ہے۔ ایسے مفتی صاحب کے اس فعل کے بارے میں کیا حکم ہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب ارشاد فرمائیں۔

کیا ایسے کردار والا بندہ وفاق المدارس العربیہ کے مسؤول جیسے کلیدی عہدہ پر کام کرنے کے قابل ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں صلح کی مجلس میں قرض دار کی طرف سے دیا گیا چیک ثالثی کے پاس بطورِ سیکیورٹی اور رہن تھا۔ اس کی ذمہ داری تھی کہ صلح کی مجلس میں یہ چیک قرض خواہ کو دکھاتا، تاکہ اس چیک کی ضروری معلومات اس وقت حاصل کی جا سکتیں۔ قرض خواہ کو دکھائے بغیر ثالثی کا اپنے پاس چیک رکھ لینے کی وجہ سے چیک کے معاملے میں خفاء اور جہالت آ گئی، لہٰذا ایسا کرنا درست نہیں تھا۔

​اسی طرح، چیک بطورِ سیکیورٹی اور رہن رکھے جانے کے بعد ثالثی کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس کی حفاظت کرتا اور وقتِ مقرر پر فریقین کو بلاتا اور قرض دار سے رقم کا مطالبہ کرتا۔ اگر وہ قرض ادا نہ کر پاتا یا ٹال مٹول سے کام لیتا، تو اس چیک کو کیش کروا کر رقم قرض خواہ کو دیتا، اور اگر چیک کیش نہ ہو پاتا تو قرض خواہ قانون کا سہارا لیتا ۔

​لیکن سوال میں مذکور تفصیلات کے مطابق، ثالثی کا قرض دار کو چیک دکھائے بغیر اسے اپنے پاس رکھ لینا، وقتِ مقرر پر مطالبے کے باوجود سات سال تک ٹال مٹول اور حیلے بہانے کرنا، اور سات سال کے بعد کسی اور شخص کے کھاتے کا بوگس چیک دینا، یہ سب خیانت، جھوٹ، حق تلفی اور مسلمان کو تکلیف پہنچانے کے زمرے میں آتاہے ۔ ایسا کرنے سے وہ گناہ کا مرتکب ہوا ہے، جس پر اسے سچی توبہ کرنا، اس عمل سے جن لوگوں کو تکلیف پہنچی ان سے معافی مانگنا، اور اگر کوئی مالی حق بنتا ہو تو اسے ادا کرنا ضروری ہے۔

​باقی، چونکہ چیک کے بارے میں مزید تفصیلات ثالثی ہی بتا سکتا ہے اور فی الحال اس کا بیان موجود نہیں، لہٰذا اس حوالے سے مزید کوئی شرعی حکم بیان کرنا ممکن نہیں۔ نیز یہ دیکھنا پڑے گا کہ کیا ثالث بعد میں چیک دینے کا ضامن بنا تھا، یا متعلقہ فریق نے محض امانت کے طور پر چیک اس کے پاس رہنے دیا تھا؟ اس سے شرعی حکم پر اثر پڑے گا؛ کیونکہ اگر وہ صرف امانت دار تھا تو امانت میں (بغیر تعدی کے) ضمان نہیں ہوتا، اور اگر اس نے ضمانت لی تھی تو وہ ذمہ دار ہوگا اور ٹال مٹول کرنے سے ظالم شمار ہوگا۔

حوالہ جات

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (2/ 97):

الحكم الأول: هو أن كل شيء كان صالحا للبيع يعني موجودا وقت العقد ومالا متقوما ومعلوما ومقدور التسليم يجوز رهنه.

کتاب النوازل (525/17):

زيورات يا معتبر چيك رہن ركھ کر قرض جار ى كرنا درست ہے، يہ معاملہ بیع صرف كا نہیں؛ بلکہ رہن کا ہے۔

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (2/ 98):

يشترط أن لا يكون المرهون مجهولا بدرجة تفضي إلى المنازعة في صدد الضمان.

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (2/ 107):

المال المقبوض بالرهن الفاسد كالمال المقبوض بالرهن الصحيح يعني أن المال الذي يرهن ويسلم فاسدا إذا هلك في يد المرتهن يكون وفقا لما جاء في لاحقة شرح المادة (741) مضمونا.

درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 254) :

 (وضعاه) أي وضع الراهن والمرتهن الرهن (عنده صح) خلافا لمالك (ولا يأخذه منه) أي الرهن من العدل (أحدهما) لتعلق حق الراهن في الحفظ بيده وأمانته وحق المرتهن به استيفاء، فلا يملك أحدهما إبطال حق الآخر (ويضمن) أي العدل (بدفعه إليه) أي دفع الرهن إلى أحدهما لأنه مودع الراهن في حق العين ومودع المرتهن في حق المالية، وأحدهما أجنبي عن الآخر والمودع يضمن بالدفع إلى الأجنبي.

شرح النووي على صحيح مسلم (25/17):

لِلتَّوْبَةِ ثَلَاثَةُ شُرُوطٍ: أَنْ يُقْلِعَ عَنِ الْمَعْصِيَةِ وَأَنْ يَنْدَمَ عَلَى فِعْلِهَا وَأَنْ يعزم عزما جازما أن لا يعود إِلَى مِثْلِهَا أَبَدًا فَإِنْ كَانَتِ الْمَعْصِيَةُ تَتَعَلَّقُ بِآدَمِي فَلَهَا شَرْطٌ رَابِعٌ وَهُوَ رَدُّ الظُّلَامَةِ إِلَى صَاحِبِهَا أَوْ تَحْصِيلُ الْبَرَاءَةِ مِنْهُ.

محمد طیب جاویدبن محمد جاوید اختر

دار الافتاء، جامعۃ الرشید

27/صفر/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طیب جاوید بن محمد جاوید اختر

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب