03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
باپ شریک بھائی کی میراث کی تقسیم کابیان
92467میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

         عرض ہے کہ میرے بھائی نویدقیوم کا انتقال 6 جولائی 2026 کو ہوا تھا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی قانونی وراثت کی تقسیم کی معلومات کے حصول کےلیےیہ درخواست پیش کر رہی ہوں۔ دیگرمعلومات درج ذیل ہیں:

         میری پیدائش کے وقت میری والدہ کا انتقال ہو گیا تھا، اس کے بعد میرے والد صاحب نے میری خالہ سے دوسری شادی کی۔ان سے ان کی پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹانویدقیوم تھا۔ میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ ہمارا بھائی بچپن سے بیمار تھا اوراس کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ابھی اس کے نام بینک میں کچھ رقم موجود ہے۔ میں والدکی طرف سے اسکی بہن ہوں ،جبکہ دیگر پانچ بہنیں اور بھائی نویدقیوم دوسری بیوی سے ہیں اوران کی والدہ حیات ہیں۔اسکے علاوہ ہمارے ایک چچا بھی ہیں۔

         آپ سے التماس ہے کہ ہمیں قرآن وحدیث کے مطابق وراثت کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ ہم قانونی طور پر اس رقم کو ورثہ میں تقسیم کر سکیں۔

تنقیح: والدصاحب کےترکہ میں سےہروارث کواس کاشرعی حق مل چکاہے،جبکہ بھائی کےاکاؤنٹ میں موجودرقم ان کووالدصاحب سےوراثت میں ملی تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سب سے پہلے ترکہ سے مرحوم کی تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد اگر ان کے ذمے کوئی قرض تھا تو اس کو ادا کیا جائے گا، اس کے بعد انہوں نے  اگر کوئی جائز وصیت تھی تو اس کو ترکہ کے ایک تہائی (1/3)حصے میں سے پورا کیا جائے گا۔

ان حقوقِ ثلاثہ کی ادائیگی کے بعد اگر ترکہ بچ جائے، تو اس کو درج ذیل تناسب سے ورثہ میں تقسیم کیا جائے گا:

زندہ ورثہ

فیصدی حصہ

عددی حصہ

والدہ

16.67%

5

حقیقی بہن ۔1

13.33%

4

حقیقی بہن ۔2

13.33%

4

حقیقی بہن ۔3

13.33%

4

حقیقی بہن ۔4

13.33%

4

حقیقی بہن ۔5

13.33%

4

حقیقی چچا

16.67%

5

مجموعہ

99.99%

30

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

یادرہےکہ باپ شریک بہن کو میراث میں سےکچھ بھی نہیں ملےگا۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (6/ 447)

ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث.

الفتاوى الهندية (6/ 449)

الأم ولها ثلاثة أحوال: السدس مع الولد وولد الابن أو اثنين من الإخوة والأخوات من أي جهة كانوا.

الفتاوى الهندية (6/ 450)

الأخوات لأب وأم للواحدة النصف وللثنتين فصاعدا الثلثان.

الفتاوى الهندية (6/ 450)

الأخوات لأب وهن كالأخوات لأبوين عند عدمهن، كذا في الاختيار شرح المختار فللواحدة النصف وللأكثر الثلثان عند عدم الأخوات لأب وأم، ولهن السدس مع الأخت لأب وأم تكملة للثلثين ولا يرثن مع الأختين لأب وأم إلا أن يكون معهن أخ لأب فيعصبهن.

الفتاوى الهندية (6/ 451)

العصبات وهم كل من ليس له سهم مقدر ويأخذ ما بقي من سهام ذوي الفروض وإذا انفرد أخذ جميع المال...فالعصبة نوعان: نسبية وسببية، فالنسبية ثلاثة أنواع: عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف: جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده، كذا في التبيين فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب ثم العم لأب وأم ثم العم لأب.

فیصل حیات بن خان بہادر

دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی

24/ربیع الآخر/8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

فیصل حیات بن خان بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب