| 92985 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خواب اور کشف کا بیان |
سوال
پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک عام مسلمان "محمد قاسم بن عبد الکریم" (جو کلین شیو ہے ) کا دعویٰ ہے کہ وہ 1993ء (17 سال کی عمر) سے مسلسل ایسے خواب دیکھ رہے ہیں جن میں ان کے بقول اللہ جل جلالہ اور رسول اللہ ﷺ پردے کے پیچھے سے ان سے مخاطب ہوتے ہیں اور ان کی رہنمائی فرماتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2014ء میں انہیں یہ خواب عام لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا گیا تاکہ امت اور بالخصوص پاکستان کو درپیش بحرانوں سے آگاہ کیا جا سکے۔ ان کے خوابوں پر مشتمل کتابیں، تحریری مضامین اور ویڈیوز یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر نشر کی جا رہی ہیں، جن کے بنیادی مضامین درج ذیل ہیں:
1۔وہ بچپن میں اپنے گھر کی چھت سے سرخ اینٹوں کی مغلیہ طرز کی گھومتی ہوئی سیڑھی کے ذریعے آسمانوں اور اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کا خواب بیان کرتے ہیں؛ نیز جوانی میں نبی اکرم ﷺ کا ان کے گھر تشریف لا کر ان کے سر پر دستِ شفقت رکھنا اور فرمانا کہ "میں نے تمہارا داخلہ ایک اسکول میں کروا دیا ہے (جسے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اسکول بتایا جاتا ہے جہاں ان کی تربیت ہوتی ہے) اور پردے کے پیچھے سے اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کا ان سے کلام کرنا کہ مستقبل میں ان کے ذریعے امت کے لیے خیر کے راستے کھلیں گے۔
2۔وہ خوابوں میں دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے سیاسی و معاشی زوال اور ناکامی کی بنیادی وجہ ملک میں پھیلا ہوا شرک ہے، اور جب تک قوم و حکمران اس سے توبہ نہیں کرتے غیبی مدد نہیں آئے گی۔ نیز وہ دیکھتے ہیں کہ وہ اور ان کے چند ساتھی اللہ کا نام لے کر توحید کا پیغام پھیلاتے ہیں جس سے شرک و معصیت کے سیاہ بادل چھٹ جاتے ہیں اور آسمان سے نور کی شعاعیں نازل ہوتی ہیں۔
3۔خوابوں میں پاکستان پر دشمن ممالک کے دباؤ، سرحدوں پر جنگی حالات، اور بالآخر قوم کے توبہ کرنے پر غیب سے ایسے طاقتور اور جدید سیاہ جنگی طیاروں کی آمد دکھائی جاتی ہے جنہیں کوئی ریڈار یا ہتھیار تباہ نہیں کر سکتا۔ ان کے بقول ان طیاروں کی مدد سے پاکستان دشمنوں کو شکست دے کر خطے کی عظیم طاقت بنتا ہے، غزوۂ ہند میں برصغیر پر مکمل فتح حاصل ہوتی ہے اور امن و انصاف قائم ہوتا ہے۔
4۔ان کے خوابوں میں ایک عالمی وبا و معاشی بحران (جسے کرونا اور کساد بازاری سے تعبیر کیا گیا)، تیسری عالمی جنگ کے اثرات، بعد ازاں دجال اور یاجوج ماجوج کے خروج کے فتنے، اور پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نزول کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں کہ قاسم اور دیگر مسلمان ان کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور ان کی قیادت میں دجال کا خاتمہ ہوتا ہے اور اسلام کا پرچم پوری دنیا پر لہراتا ہے۔
عوام کے ساتھ ساتھ بعض خواص اور علمائے کرام بھی ان بیانات اور پیش گوئیوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔ مزید یہ کہ ان کے بعض شاگرد اور عقیدت مند کھلم کھلا انہیں "امام مہدی" جیسے القابات سے یاد کرتے ہیں اور ان کے اجتماعات کے لیے بھی ایسے ہی عنوانات رکھے جاتے ہیں (مثلاً: "امام مہدی کا پانچواں جلسہ لاہور")، جبکہ ان کے نام سے منسوب آن لائن پلیٹ فارمز پر بھی یہی تاثر عام کیا جا رہا ہے۔
اب مطلوب امر یہ ہے کہ مذکورہ تمام تفصیلات کی روشنی میں قرآن و سنت کے مطابق درج ذیل امور کی شرعی وضاحت مطلوب ہے:
1۔ شریعت میں خواب کی حجیت کی حدود کیا ہیں؟ کیا محض خوابوں (خواہ ان میں باری تعالیٰ یا نبی کریم ﷺ سے ہم کلامی و رہنمائی کا دعویٰ ہو) کی بنیاد پر کسی شخص کے لیے کوئی شرعی منصب، ولایت، امامت، مہدویت یا من جانب اللہ کسی خاص مشن پر مامور ہونے کا عقیدہ رکھا جا سکتا ہے جس کا ماننا اور اعتبار کرنا دوسروں پر بھی لازم ہو؟
2۔اگر ان خوابوں میں بعض باتیں بظاہر شرعی تعلیمات (جیسے ردِّ شرک و توحید) کے مطابق ہوں اور ساتھ ہی مستقبل کے ملکی، جنگی و سیاسی حالات، بلیک جیٹس، غزوۂ ہند، فتنۂ دجال اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق ایسی مخصوص تفصیلات و پیش گوئیاں ہوں جن کی شریعت میں کوئی قطعی دلیل نہیں، تو کیا ان خوابوں کو غیبی پیش گوئی سمجھ کر مستقبل کے بارے میں کوئی عقیدہ، یقین یا رائے قائم کرنا شرعاً درست ہے؟
3۔: مذکورہ شخص کے عقیدت مندوں اور شاگردوں کا انہیں "امام مہدی" یا اس نوعیت کے القابات دینا، ان کے نام سے جلسے منعقد کرنا اور انٹرنیٹ پر اس نوعیت کا مواد نشر کرنا شرعاً کیسا ہے؟
4۔اگرچہ خود محمد قاسم نے زبان سے صریح طور پر امام مہدی ہونے کا دعویٰ نہ بھی کیا ہو، لیکن جب ان کے خوابوں اور طرزِ عمل سے پیروکاروں اور عوام میں ایسا ہی تصور اور فتنہ جنم لے رہا ہو، تو عام مسلمانوں کے لیے ایسے خوابوں کو سننا، آگے بیان کرنا اور کتب و سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی تشہیر کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعتِ مطہرہ میں انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کسی غیر نبی کا خواب شرعاً حجت نہیں۔ صرف انبیاء کے خواب وحی اور حکمِ شرعی کے دائرے میں آتے ہیں؛ غیر نبی کے خواب سے نہ کوئی نیا شرعی حکم ثابت ہوتا ہے، نہ اس کی بنیاد پر کوئی عقیدہ قائم کیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی اس پر عمل کرنا یا اس کی تصدیق کرنا خود دیکھنے والے یا دیگر مسلمانوں پر لازم ہوتا ہے۔
حدیثِ پاک کی روشنی میں خواب کی تین بنیادی اقسام ہیں:
1۔حدیثِ نفس: بیداری کی حالت میں انسان جو خیالات دن بھر سوچتا ہے یا جن مشاہدات سے گزرتا ہے، وہی نیند میں تمثیلی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
2۔دوسری قسیم یہ ہے کہ وہ خواب شیطان کی طرف سے انسان کے ذہن میں وسوسہ، رنج، غم یا باطل فخر پیدا کرنے کے لیے ڈالے جاتے ہیں۔ یہ دونوں قسمیں لغو اور بے معنی ہیں، جن کی طرف شرعاً کوئی التفات نہیں کیا جاتا۔
3۔رؤیا صالحہ (سچا خواب): وہ خواب جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مبشرہ (غیبی رہنمائی) کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ حدیثِ پاک میں مؤمن کے سچے خواب کو نبوت کا چھیالیسواں جز قرار دیا گیا ہے (صحیح بخاری: 6988)، مگر امت کے حق میں اس کی شرعی حیثیت فقط بشارت، تسلی یا تنبیہ کی حد تک ہے، یہ کوئی دلیلِ شرعی نہیں ہے۔
قرآنِ مجید کی نصوص سے یہ امر بھی واضح ہے کہ سچا خواب کسی کے مقبول یا برگزیدہ ہونے کی بھی حتمی دلیل نہیں؛ حضرت یوسف علیہ السلام کے قید خانے کے رفقاء اور فرعونِ مصر کے خوابوں کا سچا ثابت ہونا اس پر بین ثبوت ہے کہ سچا خواب کافر، فاسق اور عام انسان کو بھی آ سکتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ خواب دیکھنے والا معصوم نہیں ہوتا اور نیند کی حالت ضبط و تحقیق کی حالت نہیں۔
اگر کوئی شخص خواب میں باری تعالیٰ سے ہم کلامی یا رسول اللہ ﷺ کے دیدار و تخاطب کا دعویٰ بھی کرے، تب بھی امام نوویؒ اور جمہور فقہاء و محدثین کے مسلمہ اصول کے مطابق اس سے کوئی نیا حکم، فقہی ترمیم یا وجوب ثابت نہیں ہوتا۔ خواب میں اگر کسی پہلے سے مشروع اور مستحب عمل کی ترغیب دی گئی ہو تو اس کا استحباب اصل شریعت کی بنیاد پر مانا جائے گا، نہ کہ محض خواب کی وجہ سے۔
جہاں تک خوابوں کی بنیاد پر ولایت، امامت، مہدویت، یا من جانب اللہ کسی خاص مشن پر مامور ہونے کے عقیدے اور دعوے کا تعلق ہے، تو شریعت کی رو سے یہ قطعی باطل اور ناپذیر ہے۔ دینِ اسلام میں عقائد اور مناصبِ کبریٰ کا ثبوت صرف قطعی اور متواتر نصوص (قرآن و سنت) سے ہوتا ہے۔ خواب چونکہ بذاتِ خود ایک ظنی کیفیت ہے جس میں نفسانی و شیطانی القاء کا احتمال موجود رہتا ہے، لہٰذا اس کی بنیاد پر کوئی اعتقادی یا اجتماعی منصب ہرگز ثابت نہیں ہو سکتا۔ علاماتِ مہدی ہوں یا دیگر شرعی امامتیں، شریعت نے ان کے لیے بیداری کے خارج میں متحقق اور نصوص میں منصوص اوصاف مقرر فرمائے ہیں، جن کا مدار خوابوں یا دعووں پر نہیں۔
لہذا محض خوابوں کی بنیاد پر کسی کے لیے ولایت، امامت، مہدویت یا خاص ماموریت کا عقیدہ تراشنا خود فریبی اور ضلالت ہے، اور ایسے دعووں کو ماننا یا ان کا اعتبار کرنا امت پر ہرگز لازم نہیں، بلکہ نصوصِ شریعت کے خلاف ہونے کی بنا پر ایسے تمام دعوے مردود ہیں۔
2۔ مستقبل کی پیش گوئیاں پر عقیدہ
غیر انبیاء کے خواب غیب کی قطعی خبر نہیں بنتے اور نہ مستقبل کے بارے میں شرعی عقیدے یا رائے کی بنیاد بنتے ہیں۔ علمِ غیب کا یقینی علم اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے۔ اللہ چاہے تو اپنے رسول کو کچھ خبر دے سکتا ہے، مگر نبی کریم ﷺ کے بعد کسی عام شخص کا یہ دعویٰ کہ اللہ یا نبی کریم ﷺ نے خواب میں مستقبل کے پوشیدہ واقعات بتائے، شرعاً بقابل اعتماد نہیں ہے۔
اگر خوابوں میں کچھ باتیں دینی تعلیمات کے موافق ہوں جیسے، شرک سے بچنے، توبہ یا توحید کی دعوت ،تو یہ باتیں اپنے اصل شرعی ماخذ سے لی جائیں گی، خواب سے نہیں۔ انہی باتوں کی آڑ میں مستقبل کے سیاسی و جنگی حالات، غزوۂ ہند، "بلیک جیٹس"، وبا، تیسری عالمی جنگ، دجال، یاجوج ماجوج یا نزولِ عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق غیر ثابت تفصیلات کو غیبی خبر ماننا اور ان پر عقیدہ قائم کرنا جائز نہیں۔
جو واقعات احادیث میں وارد ہیں، جیسے غزوۂ ہند اور نزولِ عیسیٰؑ، ان کا ثبوت انہی احادیث سے ہو گا، مگر کسی خواب سے مخصوص تاریخیں، جنگی مراحل، خاص طیاروں کی آمد یا کسی شخص کا مستقبل میں خاص کردار ثابت نہیں ہوتا۔
جب ثابت شدہ دینی باتوں کے ساتھ غیر ثابت خوابی تفصیلات ملا کر بیان کی جائیں تو سننے والے پورے مجموعے کو شرعی سمجھنے لگتے ہیں۔ اسی لیے ثابت اور غیر ثابت میں واضح فرق رکھنا لازم ہے، اور خوابوں کو غیبی پیش گوئی بنا کر پیش کرنا ناجائز ہے۔
3۔امام مہدی" کا لقب اور جلسے
شرعی اور نصوصی ثبوت کے بغیر کسی بھی شخص کو "امام مہدی" کا لقب دینا، اس عنوان سے جلسے جلوس منعقد کرنا یا میڈیا پر اس کی تشہیر کرنا شرعاً ناجائز، بدعت اور امت میں فتنہ و گمراہی پھیلانے کا سبب ہے۔
اہلِ سنت والجماعت کے متفقہ عقیدے کے مطابق امام مہدی کی شناخت کسی کے ذاتی خوابوں، دعوؤں یا پیروکاروں کے تراشیدہ القابات سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کا معیار وہ قطعی علامات ہیں جو احادیثِ مبارکہ میں وارد ہوئی ہیں (جیسے: اہل بیت و اولادِ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہونا، نام اور والد کا نام رسول اللہ ﷺ اور آپ کے والد کے نام پر ہونا، اور مکہ مکرمہ میں حطیم و مقامِ ابراہیم کے درمیان مسلمانوں کا ان سے بیعت کرنا)۔ اگر یہ القابات محض عقیدت یا مجاز کے طور پر بھی استعمال کیے جائیں، تب بھی چونکہ اس سے عوام میں ایک مخصوص اعتقادی التباس اور فتنہ جنم لیتا ہے، اس لیے اس کا استعمال قطعی طور پر ناجائز اور ممنوع ہے۔
4۔خوابوں کی اشاعت اور تشہیر
اگر مذکورہ شخص زبان سے صریح دعویٰ نہ بھی کرے، تب بھی اگر اس کے بیانات اور خوابوں کے نتیجے میں عوام الناس میں اس کی مہدویت، ولایت یا کسی خاص ماموریت کا گمان پیدا ہو رہا ہو، تو ایسے خوابوں کو سننا، آگے نقل کرنا، کتب چھاپنا یا سوشل میڈیا پر نشر کرنا شرعاً ناجائز اور "تعاون علی الاثم" (گناہ پر مددگاری) ہے۔
نبی کریم ﷺ نے ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق آگے پھیلانے اور فتنہ انگیزی کا سبب بننے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ جب یہ خواب قطعی غیبی خبریں نہیں ہیں اور ان کی اشاعت امت میں تفریق، مخصوص جماعت بندی اور گمراہی کا ذریعہ بن رہی ہے، تو ان کی تشہیر فتنے کو ہوا دینے کے مترادف ہے، جو ناجائز اور حرام ہے۔
حوالہ جات
سورۃ الجن (آیات: 26–27):
"﴿عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا ﴿26﴾ إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا ﴿27﴾"
صحيح مسلم» (4/ 1773):
"عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم. قال: "إذا اقترب الزمان لم تكد رؤيا المسلم تكذب. وأصدقكم رؤيا أصدقكم حديثا. ورؤيا المسلم جزء من خمسة وأربعين جزءا من النبوة والرؤيا ثلاثة: فرؤيا الصالحة بشرى من الله. ورؤيا تحزين من الشيطان. ورؤيا مما يحدث المرء نفسه. فإن رأى أحدكم ما يكره، فليقم فليصل. ولا يحدث بها الناس". قال "وأحب القيد أكره الغل. والقيد ثبات في الدين" فلا أدري هو في الحديث أم قاله ابن سيرين."
عمدة القاري شرح صحيح البخاري» (24/ 134):
"6990 - حدثنا أبو اليمان، أخبرنا شعيب، عن الزهري، حدثني سعيد بن المسيب أن أبا هريرة قال: سمعت رسول الله يقول لم يبق من النبوة إلا المبشرات قالوا: وما المبشرات؟ قال: الرؤيا الصالحة"
«شرح النووي على مسلم» (1/ 115):
"لا يجوز إثبات حكم شرعي به لأن حالة النوم ليست حالة ضبط وتحقيق لما يسمعه الرائي وقد اتفقوا على أن من شرط من تقبل روايته وشهادته أن يكون متيقظا لا مغفلا ولا سىء الحفظ ولا كثير الخطأ ولا مختل الضبط والنائم ليس بهذه الصفة فلم تقبل روايته لاختلال ضبطه هذا كله في منام يتعلق بإثبات حكم على خلاف ما يحكم به الولاة أما إذا رأى النبي صلى الله عليه وسلم يأمره بفعل ما هو مندوب إليه أو ينهاه عن منهي عنه أو يرشده إلى فعل مصلحة فلا خلاف في استحباب العمل على وفقه لأن ذلك ليس حكما بمجرد المنام بل تقرر من أصل ذلك الشيء والله أعلم"
فالرؤية في المنام تتطرق إليها احتمالات كثيرة،
شرح فتح المجيد للغنيمان» (140/ 13):
"السؤال:إن كانت رؤية الله تعالى في المنام ممكنه فكيف يكون ذلك، مع اتفاق العلماء سلفاً وخلفاً أنه لا يمكن لأحد من الخلق أن يرى الله سبحانه وتعالى في هذه الحياة الدنيا؟
الجواب:الرؤية المنامية ليست هي رؤية لله جل وعلا، لا يفهم هذا، فرؤية المنام لا يرى فيها الله حقيقة، ولكن الرائي في منامه يرى شيئاً من المرائي التي يعهدها، كأن يتصور ذلك الشيء المعهود، وذلك الشيء ما هو عنده، هو نائم مغلق عليه بيته، ولم يأته هذا الشيء الذي يراه، ومع ذلك يرى إما شخصاً، وإما مدينة، وإما غير ذلك، فالرؤيا في المنام ليست حقيقة، والإنسان إذا رأى ربه في المنام إذا كان إيمانه صحيحاً وحسناً رأى شيئاً يناسب هذا الإيمان، وإن كان دون ذلك رأى دونه، ولهذا لما كان الرسول صلى الله عليه وسلم أحسن الناس إيماناً وأكملهم، قال في الحديث الذي رواه أحمد: (رأيت ربي في أحسن صورة) يعني: في المنام.
فالرؤية في المنام ليست هي الرؤية البصرية التي تكون في اليقظة، لا يفهم هذا، فلا يقال: معلوم اتفاق السلف أنه لا يرى في الدنيا، فهذا نصت عليه الأحاديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا يدخل في هذا أنه لا يرى في المنام، وقد يرى الإنسان في المنام شيئاً على خلاف المطلوب شرعاً، وقد يرى الشيطان، وقد يراه أيضاً في اليقظة، فالشيطان يتمثل ويقول له: أنا ربك، كما جاء عن عبد القادر الجيلاني قال: رأيت الشيطان قد وضع كرسياً بين السماء والأرض فقال: يا عبد القادر! أنا ربك.فقلت: اخسأ فإن الله جل وعلا لا يرى، ولا يأتي إلى الناس فالمقصود أن الشيطان قد يضر الإنسان، وقد يتراءى له في المنام في شيء، ففرق بين الرؤية الصالحة والرؤية التي تقع من الشيطان أو تكون أضغاث الأحلام."
صادق محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید کراچی
17 /جمادی الاولیٰ /1448
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صادق محمد بن زرفروش | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


