03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوٹی پارلر کے کاروبار کا شرعی حکم
92669جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا بیوٹی پارلر کا کاروبار شرعاً جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اسلام نے عورت کو شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے آرائش و زیبائش کی اجازت دی ہے، بلکہ شوہر کے لیے زینت اختیار کرنا مستحسن عمل ہے۔ اسی طرح ایک عورت دوسری عورت سے جائز آرائش و زیبائش سیکھ سکتی ہے یا اس مقصد کے لیے اس کی خدمات حاصل کرسکتی ہے۔ تاہم شریعتِ مطہرہ نے زینت و آرائش کے لیے بھی کچھ حدود و قیود مقرر کی ہیں، جن کی پابندی ضروری ہے۔

لہٰذا بیوٹی پارلر کا کاروبار فی نفسہٖ ناجائز نہیں، بلکہ درج ذیل شرائط کے ساتھ اس کی گنجائش ہے:

  1. بیوٹی پارلر صرف خواتین کے لیے مخصوص ہو۔
  2. وہاں کسی اجنبی مرد کا عمل دخل یا مرد و عورت کا اختلاط نہ ہو۔
  3. پردے اور ستر کے شرعی احکام کی مکمل پابندی کی جائے۔
  4. صرف وہی آرائش و زیبائش کی خدمات فراہم کی جائیں جو شریعت کی رو سے جائز ہوں۔
  5. ایسے کام نہ کیے جائیں جو شرعاً ممنوع ہیں، مثلاً عورتوں کے بال غیر شرعی انداز میں کاٹنا، بھنوؤں کے بال نوچنا یا بنوانا، پلکوں میں ناجائز تبدیلی کرنا، مصنوعی تل یا ٹیٹو بنانا، دانتوں میں بلا ضرورت مصنوعی خلا پیدا کرنا، لمبے ناخن رکھ کر ان پر غیر شرعی ڈیزائن بنانا، یا بلا ضرورت اعضائے مستورہ کو کھولنا۔
  6. استعمال ہونے والی اشیاء ایسی نہ ہوں جو وضو یا غسل میں پانی پہنچنے سے رکاوٹ بنیں، اور اگر عارضی طور پر ایسی چیز استعمال کی جائے تو نماز سے پہلے اسے آسانی سے زائل کیا جاسکے۔

لہٰذا اگر مذکورہ شرائط کی رعایت کرتے ہوئے بیوٹی پارلر چلایا جائے اور صرف جائز آرائش و زیبائش کی خدمات فراہم کی جائیں تو بیوٹی پارلر کا کاروبار اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی شرعاً جائز ہوگی۔

حوالہ جات

الصحیح البخاری2\878:   رقم الحدیث: 5931:

"عبد اللّٰہ بن مسعود رضي اللّٰہ عنہ قال: لعن اللّٰہ الواشمات والمستوشمات، والمُتنمِّصات، والمتفلجات للحسن المغیرات خَلْقَ اللّٰہ تعالیٰ، مالي لا ألعنُ من لعن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم وھو في کتاب اللّٰہ {مَا اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ} ."

حاشیہ ابن عابدین:6\407

"قطعت شعر رأسها أثمت ولعنت زاد في البزازية وإن بإذن الزوج لأنه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق."

حاشیہ ابن عابدین:6\373

"ولا بأس بأخذ الحاجبين وشعر وجهه ما لم يشبه المخنث."

 عابداللہ بن لاجبرخان

دارالافتاء  جامعہ الرشید کراچی

06/ربیع الثانی /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عابد اللّہ بن لاجبر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب