03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نمازمیں غفلت پر پندرہ عذابوں کی روایت کی تحقیق
80421حدیث سے متعلق مسائل کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

جو شخص نماز میں سستی کرتا ہے اس کو پندرہ طرح کےعذاب ہونگے: چھ عذاب دنیا میں، تین موت کے وقت، تین قبر میں ،اور تین قبر سے نکلتے وقت. دنیاکی چھ سزائیں یہ ہیں : (۱) اللہ عزوجل اس کی عمر سے برکت ختم کردے گا۔ (۲) اللہ عزوجل اس کے چہرے سے نیک لوگوں کی علامت مٹادے گا۔ (۳) اللہ عزوجل اس کے کسی عمل پر اجر وثواب نہ دے گا۔ (۴) اس کی کوئی دعا حق تعالیٰ آسمان تک بلند نہ ہونے دے گا۔ (۵) دنیا میں مخلوق اس سے نفرت کرے گی۔ اور (۶) نیک لوگوں کی دعا میں اس کاکوئی حصہ نہ ہوگا۔ موت کے وقت کی تین سزائیں یہ ہیں: (۱) ذلیل ہوکر مرے گا۔ (۲) بھوکا مرے گا۔ (۳) مرتے وقت اتنی سخت پیاس لگے گی کہ اگر سارے دریاؤں کا پانی بھی اسے پلادیا جائے تو پیاس نہ بجھے گی ۔ قبر میں تین سزائیں یہ ہوں گی : (۱) اللہ عزوجل اس پر اس کی قبر تنگ کر دے گا اورقبر اسے اس طرح دبائے گی کہ اس کی پسلیاں ٹوٹ پھوٹ کر ایک دوسرے میں پیوست ہوجائیں گی۔ (۲) اس کی قبر میں آگ بھڑکادی جائے گی جس کے انگاروں میں وہ دن رات اُلٹ پلٹ ہوتا رہے گا۔ (۳) اس پر ایک اژدھا مُسلَّط کر دیا جائے گا جس کا نام اَلشُّجاعُ الْاَقْرَع (يعنی گنجا سانپ) ہے، اس کی آنکھیں آگ کی اور ناخن لوہے کے ہوں گے، ہرناخن کی لمبائی ایک دن کی مسافت کے برابر ہوگی، وہ گرج دار بجلی کی مثل آواز میں کہے گا :” میں اَلشُّجَاعُ الْاَقْرَع ہوں ،مجھے میرے رب عزوجل نے حکم دیا ہے کہ میں تجھے فجر کی نمازضائع کرنے کے جرم میں صبح تا وقتِ ظہر اور نمازِ ظہر ادانہ کرنے پر ظہر تا عصر،نمازِ عصر ضائع کرنے پر عصر تا مغرب، نمازِ مغرب نہ پڑھنے پرمغرب تا عشاء اور نمازِ عشاء ضائع کرنے پر (عشاء سے)صبح تک مارتا رہوں ۔ اور جب بھی وہ ایک ضرب لگائے گا تو مردہ ستر (70 ) ہاتھ زمین میں دھنس جائے گا، تو وہ اپنے ناخن زمین میں داخل کر کے اس کو نکالے گا ،اور یہ عذاب اس پر قیامت تک مسلسل ہوتارہے گا ۔قیامت کے دن کی تین سزائیں یہ ہیں : (۱) اللہ عزوجل اس پر ایک فرشتہ مسلط کردے گا ، جو اسے منہ کے بل گھسيٹتے ہوئے جہنم کی طرف لے جائے گا۔ (۲) حساب کے وقت اللہ عزوجل اس کی طرف ناراضگی والی نظر سے ديکھے گا جس سے اس کے چہرے کا گوشت جھڑجائے گا۔ (۳) اللہ عزوجل اس کا حساب سختی سے لے گا جس سے زیادہ سخت وطویل کوئی عذاب نہ ہو گا،اللہ عزوجل اس کو دوزخ میں لے جانے کا حکم صادر فرمائے گا اور جہنم بہت برا ٹھکانا ہے ۔نماز کی پابندی کرنے والے کو پانچ انعامات دیئے جائینگے: ☆ اس پر رزق کی تنگی نہ ہوگی. ☆ قبر کا عذاب نہ ہوگا. ☆ نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائیگا.☆ پلصراط پر سے بجلی کی طرح تیزی سے گذر جائےگا. ☆ بغیر حساب جنت میں داخل ہوگا. ان میں سے کون سی روایت صحیح ہے کون سی نہیں؟ ہر ایک کو الگ الگ نشان لگا دیا جائے تاکہ پتہ چلے یہ تمام باتیں فضائل اعمال میں فضائل نماز کی فصل میں موجودہیں، انھیں دیکھا جائے بےنمازی کے وعید کے متعلق فضائل اعمال میں نیچے کتب احادیث کا حوالہ بھی دیکھ لیا جائے ۔اس سے متعلق بھی تحقیق مطلوب ہے کہ بے نمازی شخص سے قبر کا کہنا" تو میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔"نیز قبر کاکہنا "میں کیڑے مکوڑے کا گھر ہوں۔" کیا نماز چھوڑنے سے رزق میں بے برکتی ہوتی ہے۔"کیا یہ بات حدیث سے ثابت ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شیخ الحدیث رحمہ اللہ تعالی نے نماز میں سستی پر پندرہ عذابوں کی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد عربی میں اس کی تخریج فرمائی ہے اوراس کے سند اور متن پر کلام فرمایاہے اورلکھا ہے کہ اگرچہ میزان میں اس کےمتن کو باطل اور منگھڑت قرار دیا گیا ہے،لیکن فی الجملہ بعض دیگرتفصیلی  روایات سے مجموعی طور پر بھی اس کے مضمون کی تایید ہوتی ہے اورفوائدمیں شیخ الحدیث رحمہ اللہ تعالی نے لکھا ہے کہ یہ پوری حدیث اگرچہ عام کتب حدیث میں مجھےنہیں ملی،لیکن  اس میں جتنی قسم کے ثواب اور عذاب ذکر کئے گئے ہیں ان کی تایید بہت سی روایات سے ہوتی ہے،"لہذا اگرچہ متن اور سند کے لحاظ سے یہ روایت من گھڑت ہو،لیکن اس کا مضمون مجموعی طور پر متعدد روایات صحیحہ سے ثابت ہے۔البتہ احتیاط اسی میں ہے کہ اس حدیث میں پورے مضمون کو ایک حدیث کے طور پر بیان نہ کیا جائے بلکہ احادیث وروایات سے ثابت مضمون اوراحادیث کے مفہوم کے طور پربیان کیا جائے۔

باقی خاص بے نمازی سے قبر کا ایسا کہنا ہماری تحقیق کے مطابق کسی حدیث سے ثابت نہیں، البتہ ترمذی کی ایک کمزور روایت میں اس طرح عمومی پکار کا ذکر ملتا ہے، اور نمازچھوڑنے سے بحیثیت ایک گناہ ہونے کے رزق میں بے برکتی بھی نصوص عامہ سے تو ثابت ہے، اور نماز کی وجہ سے رزق میں وسعت اور برکت تو خود قرآن مجید سے ثابت ہے  جیساکہ سورہ طہ کے آخر میں ہے ،لیکن خاص نماز چھوڑنے کی وجہ سے رزق میں بے برکتی کی بات صرف تنبیہ الغافلین میں مذکور ایک روایت میں ملتی ہےجس کے متن پر ضعف بلکہ وضع کےآثارنمایاں ہیں۔

حوالہ جات

تنبيه الغافلين بأحاديث سيد الأنبياء والمرسلين للسمرقندي (ص: 275)

قال: حدثنا محمد بن داود، حدثنا محمد بن أحمد الخطيب النيسابوري، حدثنا أبو عمرو أحمد بن خالد الحراني، عن يعقوب بن يوسف، عن محمد بن معن، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جده رضي الله تعالى عنه , قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الصلاة مرضاة للرب تبارك وتعالى، وحب الملائكة، وسنة الأنبياء، ونور المعرفة، وأصل الإيمان، وإجابة الدعاء، وقبول الأعمال، وبركة في الرزق، وراحة للأبدان، وسلاح على الأعداء، وكراهية للشيطان , وشفيع بين صاحبها وبين ملك الموت، وسراج في قبره، وفراش تحت جنبه، وجواب مع منكر ونكير، ومؤنس في قبره إلى يوم القيامة، فإذا كانت القيامة، صارت الصلاة ظلا فوقه وتاجا على رأسه، ولباسا على بدنه، ونورا يسعى بين يديه، وسترا بينه وبين النار، وحجة للمؤمنين بين يدي الرب تبارك وتعالى وثقلا في الموازين، وجوازا على الصراط، ومفتاحا للجنة، لأن الصلاة تسبيح وتحميد، وتقديس وتعظيم وقراءة، ودعاء وإن أفضل الأعمال كلها الصلاة لوقتها»

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۴ذیقعدہ۱۴۴۴ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب