021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وتر میں دعاء قنوت پڑھنے کی حیثیت
..نماز کا بیانوترکا بیان

سوال

وتر میں دعاء قنوت پڑھنے کی کیا حیثیت ہے؟اگر کسی کو یہ خاص دعا یاد نہ ہو تو کوئی اور دعا پڑھ سکتاہے یا نہیں؟

o

وتر کی تیسری رکعت میں دعاء قنوت پڑھنا مسنون ہے ،اس کی جگہ اگر کوئی دوسری دعاء پرھ لی جائے تو جائز ہے ،البتہ مسنون دعاء کو چھوڑنے کی عادت بنا لینا صحیح نہیں ہے۔

حوالہ جات

رد المحتار (ج 3 / ص 458): ثم وجوب القنوت مبني على قول الإمام : وأما عندهما فسنة ، فالخلاف فيه كالخلاف في الوتر كما سيأتي في بابه ( قوله وهو مطلق الدعاء ) أي القنوت الواجب يحصل بأي دعاء كان في النهر ، وأما خصوص : { اللهم إنا نستعينك } فسنة فقط ، حتى لو أتى بغيره جز إجماعا ( قوله وكذا تكبير قنوته ) أي الوتر . واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
..

n

مجیب

ارشد بنگش صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔