021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مزارعت کی اس صورت میں خرچہ نصف نصف نہیں ہوسکتا۔
..کھیتی باڑی اور بٹائی کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

: مسئلہ یہ ہے کہ میراایک دوست کے ساتھ کچھ اس طرح کامعاملہ ہواہے کہ اس دوست نے مجھے زمین کااکثرحصہ مع باغات کے دی ہوئی ہے ،اس زمین میں کام میں اورمیرے بھائی کرتے ہیں ،اس دوست کوہم نے بطورتبرع واحسان کے فارغ کردیاہے ،زمین اورباغات کی زراعت وغیرہ پرجتنا بھی خرچہ آتاہے وہ میرے اوراس دوست کے مابین نصف نصف ہے اوراس کی آمدنی بھی نصف نصف ہے ،کیامیرے اس معاملے میں کوئی شرعی قباحت تونہیں ہے ،اگرہے تواس کی جواز کی کوئی بہترصورت بتائیں ۔اللہ تعالی آپ کاحامی وناصرہو۔

o

آپ کااس طرح معاملہ کرناجائزنہیں ہے ،جواز کی صورت یہ ہوسکتی ہے خرچہ جتنابھی آتاہے وہ مکمل آپ کے ذمہ ہواورآپ کادوست زمین سے پیداہونے والی پیداوار کے نصف یاثلث یاکسی بھی فیصدی حصے جس پرآپ دونوں راضی ہوں، مستحق ہو۔

حوالہ جات

" رد المحتارعلی الدرالمختار" 26 /79: ( وكذا ) صحت ( لو كان الأرض والبذر لزيد والبقر والعمل للآخر ) أو الأرض له والباقي للآخر ( أو العمل له والباقي للآخر ) فهذه الثلاثة جائزة ( وبطلت ) في أربعة أوجه ( لو كان الأرض والبقر لزيد ، أو البقر والبذر له والآخران للآخر ) أو البقر أو البذر له ( والباقي للآخر۔ " الھندیۃ"5/235 : ومنہاا ن یکون ذلک البعض من الخارج معلوم القدرمن النصف اوالثلث اوالربع اونحوہ ۔ " رد المحتارعلی الدرالمختار " 26 / 80: "واعلم أن مسائل المزارعة في الجواز والفساد مبنية على أصل وهو أنها تنعقد إجارة وتتم شركة ، وإنما تنعقد إجارة على منفعة الأرض أو العامل ، ولا تجوز على منفعة غيرهما من بقر وبذر"۔ "الهندية " 41 / 390: وأما إذا كانت الأرض من أحدهما والبذر منهما فإن شرط العمل على المدفوع إليه الأرض وصورته رجل دفع أرضه إلى رجل على أن يعمل المدفوع إليه فيها بنفسه وبقره سنة هذه ويبذرها كرا من طعام بينهما ۔۔۔۔۔۔۔ ففي الوجوه كلها المزارعة فاسدة وإذا فسدت المزارعة كان الخارج بينهما على قدر بذرهما كذا في المحيط والله أعلم ۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔