021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھر سے نکل جا عید کے بعد طلاق نامہ بھیجوادونگا کہنے کاحکم
..طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میری شادی کو تقریبا تین سال ہوگئے ،اس دوران آے دن جھگڑے ہوتے تھے بات طلاق تک پہنچ جاتی تھی ، اکثر یہ کہتے کہ میں تمہیں نہیں رکھونگا ، ایک دفعہ جھگڑے کے دوران کہا کہ تو گھر سے نکلتی کیوں نہیں ؟ میں نے کہا چلی جاؤنگی ، اس نے کہا تو ہربار یہی کہتی ہے ،اس پر میں غصے سے گھر سے باہر نکل گئی پھر واپس آگئی ، پچھلے سال رمضان میں لڑائی کر کے گھر سے نکالدیا ، یہ کہتے ہوئے’’جا نكل میرے گھر سے عید کے بعد طلاق نامہ بھیجوا دونگا ‘‘ اس کے بعد ایک سال اپنے میکے میں رہی ان دنوں وہ اپنے بیٹے سے ملنے آیا کرتا تھا ، ایک دفعہ وہ اپنے بیٹے سے ملنے آیا میں بھی اسی کمرے میں تھی مجھ سے کہنے لگا کہ ’’ تم سے میرا كوئی واسطہ نہیں ‘‘ تم سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ کہکر چلاگیا ۔ کچھ عرصہ بعد میرے کزن کی شادی میں شرکت لے لئے انہیں فون کیا ۔کہ کہنے لگا اپنے متعلق مجھ سے کچھ مت پوچھنا صرف بیٹے کے متعلق کوئی بات ہو تو وہ کرنا ۔ تم سے میراکوئی تعلق نہیں کوئی واسطہ نہیں ۔ پھر کچھ عرصہ بعد ہماری صلح ہوگئی اس رمضان میں اس کے گھر چلی گئی ،اس نے مجھ سے پھر جھگڑا کیا اور جھگڑے کے دوران اس نے مجھ سے یہ جملہ کہا تم سے میرا کوئی رشتہ نہیں اب میں اپنے میکے میں ہوں ، اب سوال یہ ہے کہ کیا ہماری طلاق ہوچکی ہے ؟

o

صورت مسؤلہ پہلاجملہ ؛جانکل میرے گھرسے عید کے بعد طلاق نامہ بھیجوا دونگا؛ یہ طلاق کے کنائی الفاظ میں سے ہے ،اگر شوہر نے یہ جملہ طلاق کی نیت سے کہا ہے تو اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوئی ہے ، اور دونوں کا نکاح ختم ہوگیا ہے ،اس کے بعد کےجملے ؛ تم سے میرا کوئی واسطہ نہیں ؛ تم سے میرا کوئی واسطہ نہیں ؛ان جملوں سے کوئی اور طلاق واقع نہیں ہوئی ہے کیونکہ اطلاق بائن کے بعد دوسری طلاق بائن نہیں ہوتی ،اس کے بعد بغیر نکاح کےصرف صلح کرکے میاں بیوی کی حثیت سے زندگی گذار نا درست نہیں تھا جوہوا ناجائز ہوا ہے ،اس سے توبہ استغفار لازم ہے ، اس تعلق کے بعد جو کہا کہ میرا تم سے کوئی رشتہ نہیں اس سے بھی کوئی اور طلاق واقع نہیں ہوئی ، لہذا عورت کو اختیار ہے شوہر سے باقاعدہ علیحدگی اختیار کرلینےکےبعد عدت گذار کر کہیں دوسر ی جگہ شادی کرسکتی ہے ، اور پہلے شوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرکے اس کے ساتھ زندگی گذارنابھی جائز ہے ،تجدید نکاح کی صورت میں آیندہ شوہر صرف دوطلاقوں کا مالک رہے گا ، جب بھی دوطلاقیں مزید دے گا توعورت طلاق مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی ۔ نوٹ ؛ مذکورہ جواب اس صورت میں ہےکہ شوہر نے پہلے جملہ سے طلاق کی نیت کی ہو اگر ان میں سے کسی جملہ سے بھی طلاق کی نیت نہیں کی توان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،دونوں کا نکاح بدستور باقی ہے۔

حوالہ جات

الدرالمختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 298) والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي الی قولہ) ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول لہ يمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔