021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کھوٹ ملے زیور کی خالص سونے کے بدلے خریداری
62250خرید و فروخت کے احکامبیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان

سوال

کھوٹ ملے زیور کی خالص سونے کے بدلے خریدوفروخت کا درست طریقہ کیا ہے؟ نیز ہم کمی بیشی کے ساتھ یہ معاملہ کرتے ہیں، مثلا: دکاندار    کاریگر کو  دس گرام   خالص سونا  دے کر   بارہ گرام کا  کھوٹ ملے سونے سے تیار شدہ زیور لے لیتاہے، اگر یہ ناجائز ہوتو اس کا جائز متبادل بھی بتا دیجیے۔

o

کھوٹ ملے  زیور (جس میں کھوٹ مغلوب ہو) کا حکم  خالص سونے   کی طرح ہے، لہذا   کھوٹ ملے زیور  کی  خالص  سونے   کے بدلے خریدوفروخت کی صورت میں    جانبین سے  برابری اور  اسی مجلس میں قبضہ کا  ہونا ضروری ہے۔ لہذا دکاندار  کا  کاریگر کو  دس گرام   خالص سونا  دے کر   بارہ گرام کا  کھوٹ ملے سونے سے تیار شدہ زیور خریدنا جائز نہیں ،  اس  کی متبادل  تین صورتیں  جائز ہیں:

 اول یہ کہ کرنسی کے بدلے زیورخریدا جائے ۔

دوم  یہ کہ دس گرام خالص سونا  کاریگر کو کرنسی کے بدلے   فروخت کر دیا جائے   اور  فریقین کرنسی اور سونے پر قبضہ(Delivery) بھی کر لیں، پھر نئے سرے سے  کرنسی کے بدلے تیار شدہ زیور خرید  لیا جائے، بشرطیکہ پہلے سے یہ طے نہ کیا جائے کہ اس کرنسی کے بدلے مطلوبہ زیور ہی خریدا جائے گا۔

سوم یہ کہ دس گرام سونے کے ساتھ  ایک،  دو ہزار روپیہ  اضافی شامل کر دیا جائے، تاکہ  دوسری طرف دس گرام سے زائد سونا کرنسی کے بدلے ہو جائے ، بشرطیکہ جانبین سے قیمت میں برابری ہو۔ 

حوالہ جات

مسند أبي عوانة (3/ 392):
 أن أبا هريرة وأبا سعيد حدثاه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث أخا بني عدي الأنصاري فاستعمله على خيبر فقدم بتمر جنيب فقال النبي صلى الله عليه وسلم ( كل تمر خيبر هكذا ) قال والله يا رسول الله إنا لنشتري الصاع بالصاعين من الجمع فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ( لا تفعلوا ولكن مثل بمثل أو بيعوا هذا واشتروا بثمنه من هذا۔
بدائع الصنائع (2/ 73):
والجودة في أموال الربا لا قيمة لها شرعا عند مقابلتها بجنسها لقول النبي صلى الله عليه وسلم
 جيدها ورديئها سواء، أسقط اعتبار الجودة والساقط شرعا ملحق بالساقط حقيقة۔
حاشية ابن عابدين (5/ 264):
قوله ( وكذا بيع أحد عشر درهما الخ ) فتكون العشرة بالعشرة والدرهم بالدينار وأردف هذه المسألة وإن علمت مما قبلها لبيان أن صرف الجنس إلى خلاف جنسه لا فرق فيه بين أن يوجد الجنسان في كل من البدلين أو أحدهما۔

محمد نعمان خالد

 دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی

  7/ جمادی الاخری 1439ھ

n

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔