| 66994 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
ہرفرض نمازجو جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے اس کے بعد اجتماعی دعا کے بارے میں کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فرائض کے بعد آج کل مروجہ طریقوں پر اجتماعی دعاء سنت سے ثابت نہیں ،قرآن کریم کی آیت:"ادعو ا ربکم تضرعا وخفیۃ" سے آہستہ دعاء کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ مذاہب اربعہ کے جمہور فقہاء کی رائے ہے ،لہذا سب سے افضل اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ امام اور مقتدی سب اپنی اپنی حاجات کے لیے آہستہ اور خشوع وخضوع سے اپنی اپنی دعاء مانگیں ،اس طرح جب دعاء مانگی جائے تو صورۃ اجتماع ہوجائےگا ،لیکن وہ ایک ضمنی چیز ہے، اصل اورمقصودی اجتماع نہیں۔
فرائض کے بعداجتماعی دعاء سنت نہیں ،مگر فی نفسہ بدعت بھی نہیں ،اس بارے میں اعتدال کی راہ یہ ہے کہ اس اجتماعی کیفیت کو بذاتِ خود مقصود بنا کر سنت یا واجب نہ سمجھا جائے ،نہ عملا اس کا اس طرح التزام کیا جائے کہ چھوڑنے کی صورت میں طعن وتشنیع اور تنقید کا سامنا کرنا پڑے،نیز جہاں مذکورہ مفاسد پائے جاتے ہوں وہاں اسے ترک کیا جائے ،کیونکہ فقہاء کی تصریحات کے مطابق کسی مستحب کام کا بھی اگر فرض و واجب کی طرح التزا م کیاجانے لگے تو اسے چھوڑنا لازم ہوجاتا ہے۔
لیکن چھوڑ نے میں بہت حکمت وتدبیر وتدریج سے کام لیاجائے ،پہلے کچھ عرصہ دعاء کی شرعی حیثیت اور مانگنے کے افضل طریقے کی تبلیغ کی جائے ،پھر کبھی کبھا ر اجتماعی دعاء کا ناغہ کیا جائے،پھر آہستہ آہستہ افضل طریقہ اختیا ر کیا جائے ،تاکہ فتنہ وفساد سے بچا جاسکے،لہذا جب تک دعاء نہ کروانے کی صورت میں فتنہ وفساد کا اندیشہ ہو اس وقت تک ہر نماز کے بعد دعاء کی گنجائش ہے۔
نیز مخصوص صورتِ حال میں حاجات خاصہ کے لیے بلند آواز سے اجتماعی دعاء بلاشبہ سنت سے ثابت ہے ،بلکہ حاجت خاصہ کے بغیر بھی جہاں مذکورہ مفاسد نہ ہوں کبھی کبھی جہری اجتماعی دعاء کی گنجائش ہے۔
حوالہ جات
"معارف السنن "(۱۲۵/۳):
"ثم ان ما راج فی کثیر من بلاد الھند الجنوبیۃ الدعاء بکیفیۃ مخصوصۃ بعد الرواتب.....و
یواظبون علی ھذا طول أعمارھم فی جمیع صلواتھم ویلتزمونہ التزام واجب وینکرون علی إمام ومأموم لایفعل ذلک وربما یفضی بھم الإنکار إلی خصام شدید وجدال قبیح،بل یؤدون إلی قبائح وفضائح من الجھالات الفاحشۃ ،ففی مثل ھذا یقال انہ بدعۃ تضمنت بدعات کثیرۃ".
"مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح "(ج 4 / ص 33):
"من أصر على أمر مندوب وجعله عزما ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف من أصر على بدعة أو منكر".
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
15/محرم1441ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


