| 67021 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ! عرض ہے کہ میرا گھر میرے شوہر کے نام تھااور ان کا انتقال یکم جنوری 2006کو ہوا تھا،ساس ،سسر دونوں کا انتقال ہوچکا ہے،میرے شوہر کا ایک بھائی اور بھی تھا ،جن کا انتقال ہوچکا ہے،اب میں بیوہ ہوں،اپنی زندگی میں گھر بیچ رہی ہوں ،میرے شوہر کے 2 لڑکے اور 2لڑکیاں ہیں، اور دیور کے 6 بچے ہیں ،3لڑکے اور 3لڑکیاں۔میں نے مکان 5لاکھ میں بیچ دیا ہے،اب آپ بتائیں کہ میرے دو لڑکوں اور 2 لڑکیوں میں سے ہر ایک کا حصہ کتنا ہوگا؟ میری ساس، میاں کے انتقال کے بعد فوت ہوگئی تھی ،ان کو مرے ہوئے بھی دس سال ہوگئے ہیں۔2لڑکے ،2لڑکیاں اور ایک بیوہ میں یہ مال کیسے تقسیم ہوگا؟ان کی ماں کا حق بنتا ہے یا نہیں ؟اگر بنتا ہے تو ان کا کتنا حصہ بنے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میراث میں آپ کی ساس یعنی فوت ہونے والے شخص کی والدہ کا بھی حصہ ہوگا۔
میراث کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ میت نے ترکہ میں جو کچھ چھوڑا تھا اس کی قیمت لگائی جائے،اور اس سے کفن دفن کے معتدل اخراجات نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اس کے بعد بقیہ مال میں سےبیوی کو 12.5 فیصد،ہربیٹے کو 23.611فیصد اور ہربیٹی کو11.805فیصد حصہ ملے گا۔
فوت ہونے والے شخص کی والدہ کو 16.666فیصد حصہ ملے گا۔ والدہ اب فوت ہوچکی ہے تو اس کا حصہ اس کے ورثہ میں تقسیم ہوگا،جن کی تفصیل معلوم ہونے پر ہی اس کے حصے کی تقسیم بتائی جاسکتی ہے۔
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
19/محرم1441ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


