021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کاروباری معاہدہ میں تحریری دستاویز لکھنے کا حکم
71674شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم تین فریقوں :فریق اول حاجی جیلانی ،فریق دوم بادشاہ اللہ اور ان کا بھتیجا آدم خان اورفریق ثالث بلوچ نے پچاس پچاس لاکھ روپے ملاکر کل ڈیڑھ کروڑ  روپے کا (پیاز،لہسن اور آلو)  کا مشترک کاروبار شروع کیا،اورآپس کی رضامندی سے طے پایا کہ نفع نقصان میں تینوں فریق برابر کے شریک  ہونگے اور یہ بھی کہ حساب وکتاب ایک سال بعد کریں گے۔ اس کاروبار کی ابتداء یکم ستمبر ۲۰۱۸؁ سے ہوئی ،سال مکمل ہونے کے بعد بادشاہ اللہ اور آدم خان نے دونو ں فریق سے کہا کہ حساب ستمبرکے بجائے دسمبر۲۰۱۹؁ میں کرلیں گے، بہر حال دسمبر میں حساب ہوگیااور اگلے سال کے لیے بلوچ نےنفع لینے کے بعد  شرکت سے علیحدگی اختیار کی ۔

دسمبر ۲۰۱۹؁ میں بادشاہ اللہ اور انکے بھتیجے آدم خان نے حاجی جیلانی سے  بار بار اصرار کرکےکہا کہ ہم دونوں فریق یعنی حاجی جیلانی او ربادشاہ اللہ اور انکے بھتیجے آدم خان مل کر کاروبار شروع کرتے ہیں ، لیکن آپ(حاجی جیلانی) مزید پچاس لاکھ روپے دیں گےاور آپ کا کل سرمایہ ایک کروڑ ہوجائےگا،اور ہم (بادشاہ اللہ اور آدم خان )مزید چار لاکھ روپے ملائیں گےیعنی ان کاکل سرمایہ چوّن لاکھ ہوجائے گا۔

حاجی جیلانی  نےمزید پچاس لاکھ روپے  کاروبار میں شرکت کے لیےدیے  اور تیس لاکھ ­­روپے بادشاہ اللہ اور آدم خان کو قرض دیے لیکن وہ بھی انہوں  نے کاروبارمیں لگادیے، دونو ں فریقوں کاکل سرمایہ ایک کروڑ چوراسی لاکھ (۱۸۴۰۰۰۰۰)ہوا،چوراسی  (۸۴)لاکھ بادشاہ اور آدم خان کےاور ایک کروڑ (۱۰,۰۰۰,۰۰۰)حاجی غلام جیلانی  کے ہوئے۔

معاہدہ اس شرط پر ہوا کہ نفع نقصان میں دونو ں فریق  برابر کے شریک ہونگے ۔اس معاہدےکی ابتداء حساب کے اعتبارسےدسمبر ۲۰۱۹  ؁سے ہوئی اور اس سال بھی کاروبار (پیاز ،لہسن اور آلو) کا  تھا ،بادشاہ اور آدم خان نے حاجی جیلانی کو یقین دہانی کرائی کہ اس کاروبارکے نفع نقصان  میں صرف ہم دو فریق ہونگے ہمارے  علاوہ کوئی اوریعنی  بلوچ وغیرہ نہیں ہوگا۔نیز بادشاہ اور آدم خان نے حاجی جیلانی سے یہ بھی کہا کہ جب کاروبار ختم کرنا ہوتو آپ جب چاہے اپنی رقم لے لو اور کوئی وقت مقرر نہیں کیا ۔اور اس سال  حاجی جیلانی نے بادشاہ اور آدم خان سے کوئی خط یعنی  تحریری معاہدہ لکھنے کا کہا لیکن انہوں نے ۲۰۲۰؁ تک کوئی تحریری معاہدہ نہیں لکھا۔پھر  حاجی جیلانی نے یہ رقم بادشاہ او ر آدم خان کو دی تھی لیکن بادشاہ  نے وہ  رقم اپنے بیٹے کو تجارت کے لیے دے دی ۔اسی طرح ایک سال مکمل ہونے کے بعد یعنی دسمبر ۲۰۲۰؁ میں جب ایک سال مکمل ہوا تو اگلے سال ۲۰۲۱؁ کےمعاہدہ کےلیے بادشاہ نے یہ شرط لگائی کہ جب کاروبار ختم کرنا ہو تویہ رقم آپ کو ایک سال بعدملے گی حالانکہ اس سے پہلے یہ معاہدہ ہوا تھا کہ جب چاہو اپنی رقم لے لو ؟اب اس تفصیل کی روشنی میں درج ذیل چند امورکاجواب  مطلوب ہے:

سوال: دوسرے سال میں فریق اول بادشاہ اللہ اور آدم خان کا خط(یعنی تحریری معاہدہ)  نہ لکھنےکا  شرعاکیا حکم ہے؟

o

شرکت کے معاہدہ کو وجود میں لا­­­­­­­­­­­­­نے کے لیے زبانی طور پر ایجاب وقبول کافی ہے ، البتہ مزید احتیاط کی خاطر اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیےتحریری طور پر دستاویز تیار کرناشرعاً مستحب ہے، تاکہ بعد میں نفع نقصان کی شرح سے متعلق یا کاروبار کے دوسرے متعلقہ امور کے حوالے سے کوئی اختلاف نہ رہے، چنانچہ قرآن پاک میں بھی دین کا معاملہ کرتے وقت اس کو لکھنے کی ہدایت کی گئی ہے،لیکن یہ کوئی فرض نہیں ہےبلکہ مستحب ہے،اس لیے اگر کوئی اس کا اہتمام نہیں کرتا تو اس کو شرعا ً کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

أضواء البيان ـ موافق للمطبوع (1/ 184)
قوله تعالى ) يأيها الذين ءامنوا إذا تداينتم بدين إلى أجل مسمى فاكتبوه ( ظاهر هذه الآية الكريمة أن كتابة الدين واجبة ؛ لأن الأمر من الله يدل على الوجوب . ولكنه أشار إلى أنه أمر إرشاد لا إيجاب بقوله : ( وإن كنتم على سفر ولم تجدوا كاتبا فرهان مقبوضة ( ؛ لأن الرهن لا يجب إجماعا وهو بدل الكتابة عند تعذرها في الآية فلو كانت الكتابة واجبة لكان بدلها واجبا . وصرح بعدم الوجوب بقوله : ( فإن أمن بعضكم بعضا فليؤد الذى اؤتمن أمانته (الآية فالتحقيق أن الأمر في قوله : ( فاكتبوه ( للندب والإرشاد ؛ لأن لرب الدين أن يهبه ويتركه إجماعا فالندب إلى الكتابة فيه إنما هو على جهة الحيطة للناس۔
المنهاج الواضح للبلاغة (2/ 91)
الإرشاد والاعتبار: فالأول كقوله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا إذا تداينتم بدين إلى أجل مسمى فاكتبوه وليكتب بينكم كاتب بالعدل} يريد: إرشادنا إلى ما ينبغي، من تدوين ما يجرى بيننا من معاملات تفاديا لما عسى أن يقع من نزاع۔
أ ساليب بلاغية (ص: 112)
النصح والإرشاد: وهو الطلب الذى لا إلزام فيه وإنّما النصيحة الخالصة، كقوله تعالى: «يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا تَدايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ وَلْيَكْتُبْ بَيْنَكُمْ كاتِبٌ بِالْعَدْلِ» (1)، وقوله:«وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجالِكُمْ»

   وقاراحمد

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

      22 جمادي الثاني 1442 ھ                                                                                 

 

n

مجیب

وقاراحمد بن اجبر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔