| 72449 | نماز کا بیان | جمعہ و عیدین کے مسائل |
سوال
ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، پاکستان بننے کے بعد سے جمعہ اور عید کی نماز مسجد میں ہو رہی تھی، آس پاس کے لوگ وہاں جمعہ اور عید کی نماز پرھنے آتے تھے۔ پھر کچھ عرصہ بعد اس گاؤں کے قریب ایک بڑا گاؤں ہو گیا، وہاں تقریباً ساری سہولیات موجود ہیں، وہاں جمعہ اور عید کی نماز شروع ہو گئی لیکن اس چھوٹے سے گاؤں میں کچھ بھی سہولیات نہیں ہیں، آبادی بھی اتنی نہیں ہے پھر بھی جمعہ اور عیدین کی نماز اس گاؤں میں مسلسل ہو رہی ہیں۔ کیا اس گاؤں میں جہاں پہلے سے عید اور جمعہ کی نماز ہو رہی تھی اب بھی ہو سکتی ہیں یا نہیں؟ کیونکہ بندہ کو عید کی نماز پڑھانی پڑتی ہے۔ کیا میرے لیے وہاں عید کی نماز پڑھانا جائز ہے؟ نیز جہاں پہلے جمعہ اور عید کی ہو رہی تھی اور بعد میں جو دوسرا گاؤں اس سے بڑا بن گیا ان دونوں گاؤں کے درمیان تقریباً تین کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔
]سائل کے زبانی بیان کے مطابق کل آبادی 500 کے لگ بھگ ہے، دکانیں، ہسپتال اور دیگر ضرورت کی اشیاء نہیں ہیں، نیز چند گھر پکے ہیں باقی اکثر گھر کچے ہیں، جبکہ شاہراہ عام سے ایک سڑک اس گاؤں کی طرف نکلتی ہے وہ پکی ہے باقی گلیاں کچی ہیں۔[
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نماز جمعہ و عیدین کے قیام کے لیے "مصر جامع" کا ہونا بنیادی شرط ہے، جو کہ حدیث شریف سے ثابت ہے۔ رہی یہ بات کہ مصر جامع کا مصداق کیا ہے، اس حوالے سے فقہاء کرام کے مختلف اقوال ملتے ہیں۔ علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ نے فیض الباری میں لکھا ہے کہ (مصر کی) بہترین تعریف وہ ہے جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ "وہ بڑا شہر جس میں گلیاں، بازار اور محلے ہوں اور جہاں ایسا حاکم ہو جو مظلوم کا ظالم سے انصاف کر سکے، مسائل معلوم کرنے کے لیے عالم دین موجود ہو، لوگ اپنے مسائل میں ان کی طرف رجوع کرتے ہوں"۔]حوالہ آخر میں درج ہے[ نیز دیگر فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہاں روز مرہ کی ضروریات میسر ہوں۔
لہذا مذکورہ تفصیل کو مد نظر رکھتے ہوئے ذکر کردہ علاقے (گاؤں) میں نماز جمعہ درست نہیں، کیونکہ جہاں جمعہ قائم کرنے کی شرائط پوری نہ ہوں تو وہاں نماز جمعہ پڑھنا جائز ہی نہیں۔ البتہ حکمت اور حسن تدبیر کا تقاضا یہ ہے کہ وہاں فتنہ وفساد برپا کرنے سے بچا جائے اور نرمی اور شائستہ طریقے سے لوگوں کو اس سے منع کیا جائے۔
حوالہ جات
مصنف عبد الرزاق الصنعاني (3/ 301)
5719 - عن معمر، عن أبي إسحاق، عن الحارث، عن علي قال: «لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر جامع».
شرح مشكل الآثار (3/ 188)
وهو ما قد حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال: حدثنا أبو الوليد الطيالسي قال: حدثنا شعبة عن زبيد الإيامي قال: سمعت سعد بن عبيدة، عن أبي عبد الرحمن عن علي عليه السلام قال: " لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر من الأمصار "وما قد حدثنا إبراهيم، قال: حدثنا وهب بن جرير قال: حدثنا شعبة عن زبيد عن سعد بن عبيدة عن أبي عبد الرحمن عن علي قال: " لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر جامع " قال أبو جعفر: فكان أهل العوالي الذين ليسوا في مصر من الأمصار لهم التخلف عن الجمعات , ومن كان له التخلف عن الجمعات كان له التخلف عن الجماعات سواها في صلوات الأعياد ومما سواها , وكانوا إذا حضروا الأمصار لصلوات الأعياد كانوا بذلك في موضع على أهله حضور تلك الصلاة، يعني: صلاة الجمعة وما سواها من صلوات الأعياد، فأعلمهم رسول الله صلى الله عليه وسلم بما في هذين الحديثين أنهم ليس عليهم أن يقيموا بمكانهم الذي حضروه لصلاة العيد حتى يدخل عليهم وقت الجمعة وهم به , فتجب عليهم الجمعة كما تجب على أهل ذلك المكان ; لأنه مصر من الأمصار , وجعل لهم أن يقيموا به اختيارا حتى يصلوا فيه الجمعة أو ينصرفوا عنه إلى أماكنهم , ويتركون الإقامة للجمعة , فيكون رجوعهم إلى أماكنهم رجوعا إلى أماكن لا جمعة على أهلها...الخ
فيض الباري على صحيح البخاري (2/ 423)
واعلم أن القرية والمصر من الأشياء العرفية التي لا تكاد تنضبط بحال وإن نص، ولذا ترك الفقهاء تعريف المصر على العرف كما ذكره في «البدائع» (1)، وإنما توجهوا إلى تحديد المصر الجامع، فهذه الحدود كلها بعد كونها مصرا. فإن المصر الجامع أخص من مطلق المصر، فقد يتحقق المصر ولا يكون جامعا. ورأيت في عبارة المتقدمين أنهم إذا ذكروا الاختلاف في حدود المصر يجعلونه في الجامع، ويقولون: اختلفوا في المصر الجامع الخ، فتنبت منه أنهم لا يعنون به تعريف مطلق المصر، والناس لما لم يدركوا أمرهم طعنوا في تلك الحدود.
](1) عن سفيان الثوري: المصر الجامع ما يعده الناس مصرا عند ذكر الأمصار المطلقة، كذا في البدائع.[
فيض الباري على صحيح البخاري (2/ 424)
وأولى الحدود ما روي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى: كل بلدة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق «وترجمته باندى»، ووال ينصف المظلوم من ظالمه، وعالم يرجع إليه في الحوادث. وعند أبي يوسف رحمه الله تعالى وذكره أصحاب المتون: أنه كل موضع له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود، وهذا الحد ناظر إلى ما في «الدر المختار» من كتاب القضاء أن المصر شرط لنفاذ القضاء في ظاهر الرواية، فالقضاة لا ينصبون إلا في المصر عندنا، ولذا عرف به أصحاب المتون.
ناصر خان مندوخیل
دارالافتاء جامعۃالرشید کراچی
29/07/1442 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ناصر خان بن نذیر خان | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


