| 74283 | جائز و ناجائزامور کا بیان | خریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل |
سوال
سود کے پیسے کس کودینے چاہییں؟مسلم یا غیرِ مسلم کو؟نیز کیا غریب مسلمان کی بیٹی کی شادی میں دے سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سود کے پیسےغریب مسلمان یاکافر دونوں کو دے سکتے ہیں،بلکہ کسی بھی کار خیر میں خرچ کئے جا سکتے ہیں۔البتہ ثواب کی نیت سے نہیں دینے چاہییں،بلکہ سود کے گناہ سے اپنا ذمہ بری کرنے کی نیت سے دینے چاہییں۔
حوالہ جات
ويردونها على أربابها إن عرفوهم ، وإلاتصدقوابها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه.(رد المحتار ،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع:6/385)
ویتصدق بہ بلا نیۃ الثواب،وینوی بہ براءۃ الذمۃ(قواعد الفقہ:115)
ولاتدفع إلى ذمي ؛لحديث معاذ.وجاز دفع غيرها ،وغير العشر والخراج إليه أي الذمي ولو واجبا.(الدر المختار،کتاب الزکاۃ:2/351)
ویجوز صرف التطوع الیہم بالاتفاق.(التاتار خانیۃ،کتاب الزکاۃ،الفصل الثامن:3/212)
وإلا تصدق بهاعلى فقير ولو على أصله من الآباء والأمهات الفقراء وفرعه من الأولاد وأولادهم الفقراء وعرسه الفقيرة.(درر الحکام شرح غرر الاحکام،کتاب اللقطۃ:2/130)
محمد انس جمال
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
24/صفر/1443ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | انس جمال بن جمال الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


